پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ مکی آرتھر، سابق کپتان شاہد آفریدی اور شعیب ملک نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران قومی اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں اور کوچنگ اسٹاف میں ردوبدل پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلوں پر سخت تنقید کی ہے۔
سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے اپنے بیان میں پی سی بی کے فیصلوں کو ’انتہائی مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ مسلسل کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکٹرز کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ سے شکست پر پی سی بی کا ایکشن : قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں، کوچز اور 7 کھلاڑی فارغ
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ اس صورتحال سے دوچار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقل مزاج کارکردگی کے لیے منصوبہ بندی، استحکام اور ایک مضبوط ڈھانچے کا ہونا ضروری ہے۔
Absolutely ridiculous decisions by the PCB-this is the reason they are in the mess they are because they constantly chop and change players,coaches and selectors and there in no stability!
Planning,stability and structure =Consistent performance!! https://t.co/LQzN94hf0Z— Mickey Arthur (@Mickeyarthurcr1) August 31, 2026
سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی فیصلے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اس اقدام کے پیچھے کیا سوچ یا حکمت عملی ہے۔
ان کے مطابق متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی20 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں متوقع، صائم ایوب سمیت 6 کھلاڑیوں کی طلبی کا امکان
آفریدی نے سوال اٹھایا کہ صرف 5 ٹیسٹ میچز کے بعد کوچ کو عہدے سے ہٹانے کی کیا ضرورت تھی۔
انہوں نے اسے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کا ’اب تک کا سب سے حیران کن فیصلہ‘ قرار دیا۔
Not sure what is the logic or reasoning behind this decision! Even the replacements make no sense – T20 players have been included for a Test match in England? What is this thinking and approach? Why has the coach been axed after 5 Test matches? This is the most shocking decision…
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) August 31, 2026
دوسری جانب سابق کپتان شعیب ملک نے بھی اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے والے کھلاڑیوں کے ساتھ اختیار کیے گئے مبینہ رویے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم سے باہر کیے گئے کھلاڑی اب بھی پاکستان کے قومی کرکٹرز ہیں جنہوں نے ملک کی نمائندگی کی ہے، اس لیے انہیں ’پہلی فلائٹ سے واپس بھیجنے‘ جیسے الفاظ استعمال کرنا توہین آمیز ہیں۔
مزید پڑھیں: لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر سیریز جیت لی
شعیب ملک نے کہا کہ احتساب کا آغاز ان لوگوں سے ہونا چاہیے جنہوں نے نظام کو نقصان پہنچایا، بالخصوص ایسے کھلاڑیوں سے نہیں جو بینچ پر رہے یا صرف 2 یا 3 ٹیسٹ میچز کھیل سکے۔
ان کے مطابق کسی دورے کے دوران نہیں بلکہ دورہ مکمل ہونے کے بعد احتساب ہونا چاہیے۔
The players dropped from the squad are still our national cricketers who have served Pakistan. Phrases like "sent on the first flight back" are disrespectful.
Accountability should start with those who broke the system, not with players specially those who were on the bench or…
— Shoaib Malik 🇵🇰 (@realshoaibmalik) August 31, 2026
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل ناکامی، سوشل میڈیا پر تنقید اور ٹیم سے باہر کیے جانے کے خوف سے کھلاڑی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے ذہنوں میں ناکامی کا خوف بیٹھ سکتا ہے۔
پی سی بی کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
5 ایسے کھلاڑی جنہیں اسکواڈ سے ڈراپ کیا گیا ہے، محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان اور خرم شہزاد سیریز میں اب تک ایکشن میں آچکے تھے، جبکہ عامر جمال اور محمد اویس جعفر کو بغیر میچ کھیلے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: امام الحق کی انگلینڈ میں انجری، 2025 کی مبینہ جعلی انجری کا معاملہ دوبارہ زیر بحث آگیا
اسی دوران ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور ان کے معاون عمر گل کو بھی ذمہ داریوں سے ہٹا کر پاکستان کے وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن اور سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر ایشلے نوفکے کو کوچنگ کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔
فیصلوں کے بعد سابق کرکٹرز کی جانب سے پی سی بی کی پالیسی، ٹیم سلیکشن اور انتظامی استحکام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔














