معروف حریت رہنما سید علی گیلانیؒ کی برسی آج عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں سید علی گیلانیؒ کو مزاحمت، ثابت قدمی اور استقامت کی ایک دائمی علامت کے طور پر یاد کیا گیا۔
سید علی گیلانیؒ نے اپنی جدوجہد کے دوران کشمیریوں کے حق خودارادیت اور آزادی کے مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور بھارتی حکومت کے سامنے اپنے دوٹوک مؤقف پر قائم رہے۔
برسی کے موقع پر سید علی گیلانیؒ کا بھارتیوں کو دیا گیا ایک مختصر مگر دوٹوک جواب بھی زیرِ گردش رہا، جس میں انہوں نے کشمیری عوام کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کا حوالہ دیا تھا۔
صرف 20 سیکنڈ میں گیلانیؒ کا بھارتیوں کو دوٹوک جواب! سید علی گیلانیؒ کشمیریوں کی آزادی، مزاحمت اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی آج بھی ایک لازوال علامت ہیں۔ ان کا عزم اور ثابت قدمی نسلوں کو جدوجہد کا حوصلہ دیتی رہے گی۔#SyedAliGilani #KashmirResistance #KashmirisVoice #GilaniLegacy… pic.twitter.com/P880PWcmEC
— FORCES HUB ⚔️ (@ForcesHub) September 1, 2026
انہوں نے کہا، ’63 سال کے عرصے میں 6 لاکھ جانوں کی قربانیاں دیکھ کر، عزتیں اور عصمتیں لوٹ کر، جنگلات کا صفایا کرکے، ہمارے لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے بعد بھی آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟‘
یہ جواب صرف 20 سیکنڈ پر مشتمل تھا، تاہم اس میں سید علی گیلانیؒ نے کشمیری عوام کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور حق خودارادیت کے مطالبے کو واضح انداز میں بیان کیا۔
سید علی گیلانیؒ آج بھی کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد کی ایک دائمی علامت ہیں۔ ان کی برسی کے موقع پر ان کی سیاسی جدوجہد، مزاحمت اور اپنے مؤقف پر ثابت قدمی کو یاد کیا گیا، اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کی بھارتی پنجہ استبداد سے آزادی تک جدوجہد جاری رکھی جائےگی۔














