پنجاب اسمبلی نے پیر کے روز انسدادِ دہشتگردی پنجاب ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا۔ بل کے تحت انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 میں نئی دفعہ 21 اے شامل کی گئی ہے، جس کا مقصد ایسے دہشتگردی کے مقدمات کے لیے خصوصی طریقہ کار متعارف کرانا ہے جن میں ججوں، پراسیکیوٹرز، وکلا اور گواہوں کو غیر معمولی سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہو۔ بل کے مطابق ایسے مقدمات کو ’اسپیشل سکیورٹی کیس‘ قرار دیا جا سکے گا۔
بل کے تحت صوبائی حکومت بی ایس 20 یا اس کے مساوی گریڈ کے کسی افسر کو ’ڈیزگنیٹڈ اتھارٹی‘ مقرر کرے گی۔ اس افسر کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی اور صرف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔ یہ افسر سول یا فوجی شعبے سے ہو سکتا ہے۔
ڈیزگنیٹڈ اتھارٹی کسی ایک مقدمے یا مقدمات کی پوری کیٹیگری کو ’اسپیشل سیکیورٹی کیس‘ قرار دے سکے گی۔ اس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی درخواست پر مقدمہ انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کے کسی جج کے سپرد کیا جائے گا۔
اسپیشل سیکیورٹی کیسز میں جج، سرکاری پراسیکیوٹر، دفاعی وکیل، پولیس اہلکار، گواہان اور دیگر متعلقہ افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ عدالتی احکامات میں جج کا نام درج کرنے کے بجائے عہدے کا عنوان استعمال کیا جائے گا، جبکہ گواہوں کی شناخت ڈیزگنیٹڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ کوڈز کے ذریعے کی جائے گی۔
عدالتی کارروائی محفوظ مقامات پر یا ویڈیو لنک کے ذریعے کی جا سکے گی، جس میں جیل سے ورچوئل سماعت بھی شامل ہے۔ گواہوں کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے آواز تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا سکے گی، جبکہ مکمل عدالتی ریکارڈ سیل رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان اور ایران کا سیکیورٹی و انسداد دہشتگردی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب 5 پراسیکیوٹرز پر مشتمل پینل پیش کرے گا، جس میں سے ڈیزگنیٹڈ اتھارٹی ایک پراسیکیوٹر کا انتخاب کرے گی۔ بل میں حکومت کو اسپیشل سکیورٹی کیسز کے لیے مزید حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
بل کے تحت اسپیشل سیکیورٹی کیسز کی اپیلٹ کارروائی پر بھی یہی خصوصی طریقہ کار لاگو ہوگا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ایوان میں بل کو ایجنڈے پر رکھنے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 142 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلی کو فوجداری قانون پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی میں دہشتگردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اور کیپٹن مبین جیسے افراد بھی شامل تھے، جبکہ داتا دربار جیسے مقامات پر بھی حملے ہوئے۔
اسپیکر کا کہنا تھا کہ ماضی میں گواہوں کے تحفظ اور جسمانی حفاظت کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کے باعث دہشتگردی کے مقدمات میں ملزمان اکثر رہا ہو جاتے تھے۔ انہوں نے امریکا سمیت بعض جمہوری ریاستوں میں دہشتگردی کے انتہائی حساس مقدمات کے لیے گمنام عدالتی طریقہ کار کی مثال دیتے ہوئے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ بل کی مخالفت یا اسے روکنے کے بجائے تعمیری ترامیم پیش کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیے انسداد دہشتگردی کا قانون بے گناہوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگا، میر سرفراز بگٹی
حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ دہشتگردی کے حساس مقدمات میں ججوں، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کو بار بار دھمکیاں دی جاتی ہیں اور بعض مقدمات میں گواہ سکیورٹی خدشات کے باعث عدالت میں پیش ہونے سے گریز کرتے ہیں۔ حکومت کے مطابق ان افراد کے تحفظ کے لیے خصوصی قانونی نظام ضروری ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن نے بل کو آئین کے آرٹیکل 10 اے کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آرٹیکل کے تحت ہر شخص کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کا حق حاصل ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ ایک انتظامی افسر کو مقدمات کی نوعیت متعین کرنے کا اختیار دینا عدالتی آزادی کے منافی ہے۔
اپوزیشن ارکان نے بل کی منظوری کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا، جس کے بعد پنجاب اسمبلی نے بل منظور کر لیا۔













