برطانیہ میں ذہنی صحت کے بحران سے دوچار بچوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف 2025 کے دوران انگلینڈ میں 6 سے 17 سال کی عمر کے 75 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو ہنگامی طبی امداد کے شعبوں میں لایا گیا۔
رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی جانب سے جاری تجزیے کے مطابق 2019 کے مقابلے میں ایسے بچوں کی اسپتال آمد میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خاموش بیماری کے خلاف انگلینڈ کی بڑی کامیابی، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا ہدف قریب
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ 6 سے 9 سال کی عمر کے کم سن بچوں میں ہوا ہے۔ جذباتی بحران، خود کو نقصان پہنچانے اور کھانے پینے سے متعلق ذہنی صحت کے مسائل کے باعث اسپتال آنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ مجموعی ہنگامی طبی امداد کے شعبوں میں مریضوں کی آمد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو اسی عرصے میں صرف 8 فیصد بڑھی۔
تجزیے کے مطابق 6 ہزار 200 سے زائد بچے، یعنی تقریباً 8 فیصد، ہنگامی طبی امداد کے شعبوں میں 12 گھنٹے سے زیادہ وقت تک مناسب علاج یا ذہنی صحت کی سہولت کے انتظار میں رہے۔ بعض بچوں کو نفسیاتی مدد یا محفوظ جگہ دستیاب ہونے تک 72 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر، والدین اور پولیس اکثر ذہنی صحت کے شدید بحران سے دوچار بچوں کو اسپتال کے ہنگامی شعبوں میں لانے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ کمیونٹی کی سطح پر مدد فراہم کرنے والے نظام میں مشکلات پیدا ہوچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دوستوں کی پکار 55 دن کومے میں رہنے والے 8 سالہ بچے کو زندگی کی طرف کیسے واپس لے آئی؟
رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے ذہنی صحت سے متعلق عہدیدار ڈاکٹر سیم جونز نے کہا کہ ہنگامی طبی امداد کے شعبے ایسے بچوں کو کئی دن تک رکھنے کے لیے بنائے ہی نہیں گئے۔
ذہنی صحت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذہنی صحت کی فلاحی تنظیم مائنڈ کی نمائندہ جیما برائن نے کہا کہ ہنگامی طبی امداد کا شعبہ ذہنی بحران سے گزرنے والے بچوں کے لیے خوفناک ماحول ہوسکتا ہے اور طویل انتظار ناقابل قبول ہے۔
رپورٹ میں موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اکثر بچوں کو اس وقت تک مناسب مدد نہیں ملتی جب تک ان کی حالت انتہائی سنگین نہ ہوجائے، جس کے باعث بروقت مداخلت مشکل ہوجاتی ہے۔
محکمہ صحت و سماجی نگہداشت نے مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کسی بچے کو مدد حاصل کرنے سے پہلے انتہائی بحرانی کیفیت تک پہنچنا نہیں چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں نئی نسل پر سگریٹ نوشی کی پابندی کی تیاری مکمل
حکام کے مطابق حکومت اسکولوں میں ذہنی صحت کی ٹیموں سمیت مختلف اقدامات میں سرمایہ کاری کر رہی ہے جبکہ 150 سے زائد نئے کمیونٹی مراکز بھی قائم کیے جارہے ہیں، جن میں کتب خانوں اور بینکوں جیسی آسان رسائی والی جگہیں شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ذہنی صحت سے متعلق ایک جامع حکمت عملی رواں سال کے آخر میں جاری کی جائے گی، جس کا مقصد ابتدائی مرحلے میں مدد کی فراہمی کو بہتر بنانا اور بچوں کو ہنگامی طبی شعبوں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔














