18 ارب ڈالر کے تصفیے کے بعد میٹا کی نئی اے آئی پروڈکٹس کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تجزیہ کار

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی بینک مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 18 ارب ڈالر کے سوشل میڈیا تصفیے کے بعد میٹا پر سے قانونی دباؤ کم ہو گیا ہے جو نئی اے آئی  مصنوعات کی ایک لہر کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا کیخلاف بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا مقدمہ، اربوں ڈالر کے تصفیے پر اختتام

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو اگست میں ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا تھا جب 29 امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے مقدمہ دائر کیا تھا کہ انسٹاگرام اور فیس بک کے ڈیزائن میں ایسے فیچرز ہیں جو کم عمر صارفین کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ٹرائل کے دوسرے ہفتے میں میٹا اور ریاستوں کے درمیان تصفیہ طے پا گیا۔ معاہدے کے تحت میٹا نے 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے اپنے پلیٹ فارمز میں بنیادی تبدیلیوں پر اتفاق کیا ہے۔ ان تبدیلیوں میں روزانہ 2 گھنٹے کی استعمال کی حد، میک اپ اور کاسمیٹک سرجری سے متعلق انتہائی فلٹرز کو غیر فعال کرنا اور عمر کی تصدیق کے سخت اقدامات شامل ہیں۔

اس تصفیے کے بعد سرمایہ کاروں میں اشتہاری آمدنی میں کمی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اکثر بڑے مقدمات ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نئی اور جدید مصنوعات لانچ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے ہفتہ کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا، “ہم میٹا کی پائپ لائن میں کئی نئی مصنوعات دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام مصنوعات فوری لانچ کے لیے تیار ہیں۔

مزید پڑھیے: جرمن تنظیم نے میٹا کے مصنوعی ذہانت والی گلاسز کے خلاف مقدمہ دائر کردیا

رپورٹس کے مطابق میٹا ستمبر کے اوائل میں اپنا کنزیومر اے آئی ایجنٹ ہیچ لانچ کرنے والا ہے جو واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے اندر کام کرے گا اور آن لائن خریداری اور ریسٹورنٹ بکنگ جیسے خودکار کام انجام دے سکے گا۔

مورگن اسٹینلے نے گوگل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال محکمہ انصاف کی جانب سے گوگل کے اہم اثاثوں کی جبری فروخت کے خلاف فیصلے کے بعد کمپنی نےجیمینائی 3 اوراے آئی اوور ویو سمیت کئی کامیاب پروڈکٹس لانچ کیں جس سے اس کی ویلیوایشن میں اضافہ ہوا۔

دوسری جانب انویسٹمنٹ بینک نیڈہم نے تصفیے کے بعد میٹا کے اسٹاک پر اپنی “ہولڈ” ریٹنگ برقرار رکھی ہے۔ نیڈہم کا کہنا ہے کہ میٹا اپنی سرمایہ کاری کو ایک ساتھ کئی شعبوں میں پھیلا رہا ہے، جن میں کسٹم چپس، ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر، انٹرپرائز AI سافٹ ویئر، بزنس ایجنٹس، اے پی آئی ماڈل، ایڈورٹائزنگ ٹولز، کنزیومر اسسٹنٹس اور اسمارٹ گلاسز شامل ہیں۔

میٹا یہ 18 ارب ڈالر کا تصفیہ 10 سال کے عرصے میں ادا کرے گا اور اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں 10 ارب ڈالر کا قانونی چارج بک کرے گا۔ کمپنی نے کہا کہ جولائی میں دی گئی اس کی باقی گائیڈنس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

تصفیے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ حریف کمپنیاں یوٹیوب اور ٹک ٹاک بھی نوجوان صارفین کے لیے اپنی ایپس میں اسی طرح کی تبدیلیاں کریں۔

مورگن اسٹینلے کے مطابق کم عمر صارفین سے ہونے والی آمدنی میٹا کی کل آمدنی کا صرف ایک فیصد ہے۔ تاہم نوجوان صارفین کی یوٹیوب پر موجودگی فیس بک اور انسٹاگرام سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کی پابندیوں کا زیادہ اثر یوٹیوب پر پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: فیس بک، انسٹا کی مدر کمپنی میٹا کے خلاف مقدمہ کو ’تاریخی‘ کیوں قرار دیا جارہا ہے؟

نیڈہم کے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ ادائیگیوں کا وقت میٹا کے لیے مشکل ہے کیونکہ کمپنی سال 2026 میں اے آئی کی دوڑ میں آگے رہنے کے لیے 145 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی توقع رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp