جرمنی میں ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ہیٹ ایڈ نے میٹا، رے بین، اوکلی اور چار جرمن خوردہ فروش اداروں کے خلاف فوجداری شکایت دائر کردی ہے اور ملک میں رے بین میٹا وے فیئرر کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم نے 12 اگست کو فرینکفرٹ میں انٹرنیٹ جرائم کے خلاف کارروائی کرنے والے مرکزی دفتر میں شکایت درج کرائی۔ ہیٹ ایڈ کا مؤقف ہے کہ مذکورہ عینک جرمنی کے ٹیلی مواصلات اور ڈیجیٹل خدمات کے ڈیٹا تحفظ قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے یورپی ممالک میں اپنے اسمارٹ گلاسز کی لانچنگ مؤخر کردی
جرمن قانون کے تحت ایسے آلات کی تشہیر اور فروخت ممنوع ہے جو عام استعمال کی اشیا جیسے دکھائی دیں لیکن خفیہ طور پر لوگوں کی ریکارڈنگ کے لیے بنائے گئے ہوں۔
ہیٹ ایڈ کے مطابق وے فیئرر کی دوسری نسل عام چشمے سے الگ دکھائی نہیں دیتی، تاہم اس میں کیمرا نصب ہے، جس کے باعث کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر یا ویڈیو بنائے جانے کا خطرہ موجود ہے۔
تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ جرمنی میں تقریباً 4 کروڑ 10 لاکھ افراد چشمہ استعمال کرتے ہیں، اس لیے کیمرے سے لیس اسمارٹ عینک کے ذریعے لوگوں کی خفیہ ریکارڈنگ اور بعد ازاں ان کی تصاویر یا ویڈیوز آن لائن پھیلانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سستے اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں، کیا اب اسمارٹ فونز کا دور ختم ہونے والا ہے؟
قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ دار حکام کو جرمانے یا دو سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے، جبکہ ہیٹ ایڈ نے فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کی ضبطی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
شکایت میں میٹا کے علاوہ رے بین اور اوکلی کی مالک کمپنی ایسلو لکسوٹیکا کی ذیلی کمپنیوں سمیت فیل مان، اپولو آپٹک، مسٹر اسپیکس اور میڈیا مارکٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
ہیٹ ایڈ کی سربراہ جوزفین بالون نے کہا کہ اسمارٹ عینک کی موجودگی میں کسی کے لیے خود کو خفیہ ریکارڈنگ سے محفوظ رکھنا مشکل ہے، کیونکہ اردگرد موجود افراد کو بغیر اطلاع کے فلمایا اور ان کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر شائع کی جاسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا کے اے آئی چشموں پر خفیہ ریکارڈنگ کے الزامات، پرائیویسی کا بحران؟
فرینکفرٹ کے پراسیکیوشن یونٹ نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ابتدائی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ باقاعدہ تحقیقات شروع کی جائیں یا نہیں۔
جرمنی میں عوامی مقامات پر کسی فرد کو اس کی اجازت کے بغیر فلم کرنے کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں، تاہم دیگر یورپی ممالک میں عوامی مقامات پر ریکارڈنگ کے قوانین نسبتاً نرم ہیں۔














