جرمن تنظیم نے میٹا کے مصنوعی ذہانت والی گلاسز کے خلاف مقدمہ دائر کردیا

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی میں ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ہیٹ ایڈ نے میٹا، رے بین، اوکلی اور چار جرمن خوردہ فروش اداروں کے خلاف فوجداری شکایت دائر کردی ہے اور ملک میں رے بین میٹا وے فیئرر کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے 12 اگست کو فرینکفرٹ میں انٹرنیٹ جرائم کے خلاف کارروائی کرنے والے مرکزی دفتر میں شکایت درج کرائی۔ ہیٹ ایڈ کا مؤقف ہے کہ مذکورہ عینک جرمنی کے ٹیلی مواصلات اور ڈیجیٹل خدمات کے ڈیٹا تحفظ قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا نے یورپی ممالک میں اپنے اسمارٹ گلاسز کی لانچنگ مؤخر کردی

جرمن قانون کے تحت ایسے آلات کی تشہیر اور فروخت ممنوع ہے جو عام استعمال کی اشیا جیسے دکھائی دیں لیکن خفیہ طور پر لوگوں کی ریکارڈنگ کے لیے بنائے گئے ہوں۔

ہیٹ ایڈ کے مطابق وے فیئرر کی دوسری نسل عام چشمے سے الگ دکھائی نہیں دیتی، تاہم اس میں کیمرا نصب ہے، جس کے باعث کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر یا ویڈیو بنائے جانے کا خطرہ موجود ہے۔

تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ جرمنی میں تقریباً 4 کروڑ 10 لاکھ افراد چشمہ استعمال کرتے ہیں، اس لیے کیمرے سے لیس اسمارٹ عینک کے ذریعے لوگوں کی خفیہ ریکارڈنگ اور بعد ازاں ان کی تصاویر یا ویڈیوز آن لائن پھیلانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سستے اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں، کیا اب اسمارٹ فونز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ دار حکام کو جرمانے یا دو سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے، جبکہ ہیٹ ایڈ نے فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کی ضبطی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

شکایت میں میٹا کے علاوہ رے بین اور اوکلی کی مالک کمپنی ایسلو لکسوٹیکا کی ذیلی کمپنیوں سمیت فیل مان، اپولو آپٹک، مسٹر اسپیکس اور میڈیا مارکٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

ہیٹ ایڈ کی سربراہ جوزفین بالون نے کہا کہ اسمارٹ عینک کی موجودگی میں کسی کے لیے خود کو خفیہ ریکارڈنگ سے محفوظ رکھنا مشکل ہے، کیونکہ اردگرد موجود افراد کو بغیر اطلاع کے فلمایا اور ان کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر شائع کی جاسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا کے اے آئی چشموں پر خفیہ ریکارڈنگ کے الزامات، پرائیویسی کا بحران؟

فرینکفرٹ کے پراسیکیوشن یونٹ نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ابتدائی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ باقاعدہ تحقیقات شروع کی جائیں یا نہیں۔

جرمنی میں عوامی مقامات پر کسی فرد کو اس کی اجازت کے بغیر فلم کرنے کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں، تاہم دیگر یورپی ممالک میں عوامی مقامات پر ریکارڈنگ کے قوانین نسبتاً نرم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مدارس کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق دیرینہ مسئلے کے حل میں اہم پیشرفت

دل دہلا دینے والی واردات، 21 سالہ ماڈل اپنے گھر میں چھریوں کے وار سے قتل

خواتین کو ڈھال بناکر بی ایل ایے قانون سے نہیں بچ سکتی، بلوچستان حکومت کی وارننگ

اداکارہ رمشا خان نے بہن کی شادی میں چہرہ کیوں چھپایا؟ سسرال کی پابندیوں پر اداکارہ نے خاموشی توڑ دی

وزیراعلیٰ مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ

ویڈیو

مولانا اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو استعمال کررہے ہیں، اپوزیشن اتحاد نہیں چل پائے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

کالم / تجزیہ

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ