پاکستان کرکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، محسن نقوی نے فیصلوں کو ضروری قرار دیدیا

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران قومی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ضروری قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کی خراب کارکردگی پر انہیں خود بھی گہرا دکھ ہے، تاہم وہ تنقید سے خوفزدہ نہیں اور نہ ہی آئندہ اس سے گھبرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر دکھ ہے، کھلاڑیوں کی تذلیل برداشت نہیں کروں گا، محسن نقوی

لندن میں نجی ٹیلیویژن چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انگلینڈ میں کیے گئے فیصلے حالات کے مطابق ضروری تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے متعلق بعض دیگر معاملات بھی ان کے زیرِ غور ہیں، تاہم اس وقت ان پر تفصیل سے بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ اگر سابق کپتان اور عظیم کرکٹر وسیم اکرم جیسے کسی بڑے کھلاڑی کی جانب سے تنقید کی جائے تو وہ اسے سنجیدگی سے لیں گے۔

تاہم ایسے افراد کی تنقید ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی جنہوں نے خود کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کی۔

محسن نقوی نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ وہ کرکٹ کو مناسب وقت نہیں دے رہے، کیونکہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ حقائق سے واقف نہیں۔

مزید پڑھیں: لندن میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں عشائیہ، محسن نقوی کا صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے حوالے سے تشویش ظاہر کرنے والے بعض افراد کا اصل مسئلہ کھیل نہیں بلکہ ان کی ذات ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، تاہم وائٹ بال کرکٹ میں ٹیم کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان اس وقت آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پانچویں اور ٹی20 رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے۔

انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست ہوئی، جس کے بعد انگلینڈ نے سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔

دوسرے ٹیسٹ کے بعد پی سی بی نے رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز کردیا، جبکہ صائم ایوب، عبداللہ فضل، عرفات منہاس، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران اور رضا اللہ کو متبادل کے طور پر شامل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کا اثر، قومی سلیکشن کمیٹی میں بھی اختلافات سامنے آگئے

بورڈ نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا، جبکہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے پر مشتمل وائٹ بال کوچنگ پینل کو ٹیسٹ ٹیم کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔

بعد ازاں سلیکشن کمیٹی کے ارکان عاقب جاوید، مصباح الحق اور اسد شفیق سے رضوان اور امام الحق کے انتخاب کی بنیاد اور وجوہات پر 24 گھنٹے میں تحریری وضاحت طلب کی گئی۔

دریں اثنا سابق کپتان مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے پی سی بی کو فیصلے سے آگاہ کردیا ہے اور باضابطہ استعفے سے قبل نوٹس پیریڈ مکمل کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

سہ ملکی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں