کراچی کے علاقے اپر گزری میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار کی جانب سے خاتون پر تیزاب پھینکنے کا مبینہ واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں خاتون جھلس کر زخمی ہوگئی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون گھریلو ملازمہ ہے اور ایک گھر سے دوسرے گھر کام کے لیے جارہی تھی کہ راستے میں مبینہ طور پر ایک شخص نے اس پر تیزاب پھینک دیا اور فرار ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے بڑا اعزاز، اہم سڑک ان کے نام سے منسوب کردی گئی
ایس ایس پی جنوبی منظور علی کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ خاتون اور مشتبہ شخص کے درمیان کچھ دیر گفتگو ہوئی، جس کے بعد دونوں میں تلخ کلامی ہوئی اور ملزم نے مبینہ طور پر خاتون پر تیزاب پھینک دیا۔
پولیس کے مطابق موقع پر موجود افراد نے واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد ایمبولینس کے ذریعے زخمی خاتون کو سول اسپتال کے جھلسنے کے وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
پولیس نے خاتون کا ابتدائی بیان ریکارڈ کرلیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق خاتون کا تعلق پنجاب کے شہر بہاولپور سے ہے اور وہ کراچی میں اکیلی رہائش پذیر ہے۔
ایس ایس پی جنوبی کے مطابق پولیس نے خاتون کو ایک مشتبہ شخص کی تصویر دکھائی تاہم اس نے اسے حملہ آور کے طور پر شناخت نہیں کیا۔ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ مشتبہ شخص کو نہیں جانتی، تاہم سامنے آنے پر اسے شناخت کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیزاب گردی کی صورت میں ہنگامی طور پر کون سے اقدامات کرنے چاہییں؟
پولیس حکام کے مطابق خاتون کے کراچی میں مقیم رشتہ داروں سے بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں جبکہ حملہ آور کی شناخت اور واقعے کے محرکات کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، ایسے اقدام کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
مراد علی شاہ نے متاثرہ خاتون کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو مشتبہ ملزم کی فوری گرفتاری یقینی بنانے اور واقعے کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ایس ایس پی جنوبی سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے تفتیش کی نگرانی کرنے اور پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: تیزاب گردی کے مجرم کی عمر قید برقرار، متاثرین کی بحالی اور تیزاب کی فروخت پر سخت قانون سازی کی سفارش
رواں برس ملک کے مختلف علاقوں میں تیزاب حملوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ جون میں کوئٹہ کے سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے واقعے کے بعد بلوچستان اسمبلی نے یکم ستمبر کو تیزاب حملوں سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے اور انہیں مزید مؤثر بنانے کے لیے متفقہ طور پر دو قراردادیں منظور کی تھیں۔
جون میں سپریم کورٹ نے تیزاب حملے کے ایک مجرم کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے ایسے حملوں کو قتل سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا تھا۔ عدالت نے تیزاب حملوں کے مقدمات کی سماعت مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور اعلیٰ عدالتوں کو ایسے مقدمات کی نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔














