تیزاب گردی دنیا کے خطرناک ترین جرائم میں شمار ہوتی ہے جو متاثرہ فرد کی جلد، آنکھوں اور جسم کے دیگر حصوں کو شدید اور بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حالیہ دنوں کوئٹہ کے سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر ماہ نور پر مبینہ تیزاب حملے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ ایسی ہنگامی صورتحال میں متاثرہ شخص کو ابتدائی طبی امداد کس طرح فراہم کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے ملزم نے رشتہ بھیجا تھا؟ والد نے حقیقت بتادی
طبی ماہرین کے مطابق تیزاب حملے کے بعد ابتدائی چند منٹ انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ بروقت اور درست طبی امداد نہ صرف مستقل معذوری کے خطرات کو کم کر سکتی ہے بلکہ گہرے زخموں اور پیچیدگیوں سے بھی بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی خاتون یا کسی بھی شخص پر تیزاب پھینکا جائے تو سب سے پہلے متاثرہ فرد کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ اس کے بعد متاثرہ حصے کو فوراً ٹھنڈے اور صاف بہتے ہوئے پانی سے دھونا چاہیے۔ طبی ماہرین کم از کم 20 سے 30 منٹ تک مسلسل پانی بہانے کی تجویز دیتے ہیں تاکہ تیزاب کے کیمیائی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
اگر متاثرہ شخص کے جسم پر زیورات، گھڑی، انگوٹھیاں یا دیگر دھاتی اشیا موجود ہوں تو انہیں جلد از جلد اتار دینا چاہیے کیونکہ تاخیر کی صورت میں دھات متاثرہ جلد کے ساتھ چپک سکتی ہے اور نقصان مزید بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کی صورتحال سنگین، اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ تیزاب کو بے اثر کرنے کے لیے کسی قسم کی کریم، مرہم، برف، مکھن، ٹوتھ پیسٹ یا دیگر کیمیکل استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے زخم مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اگر کپڑوں پر تیزاب لگا ہو تو انہیں احتیاط سے کاٹ کر یا اتار کر الگ کر دینا چاہیے تاہم اس دوران متاثرہ جلد کو رگڑنے سے مکمل گریز کیا جائے۔
اگر تیزاب آنکھوں میں چلا جائے تو آنکھوں کو فوری طور پر صاف پانی سے مسلسل دھونا چاہیے اور متاثرہ شخص کو بلا تاخیر قریبی اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق آنکھوں کے علاج میں معمولی تاخیر بھی بینائی کے مستقل نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی طبی امداد کے بعد متاثرہ فرد کو جلد از جلد اسپتال پہنچانا ضروری ہے تاکہ زخموں کا تفصیلی معائنہ، درد کا مناسب علاج اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: تیزاب گردی کے مجرم کی عمر قید برقرار، متاثرین کی بحالی اور تیزاب کی فروخت پر سخت قانون سازی کی سفارش
ماہرین کے مطابق تیزاب گردی کے بعد درست اور بروقت ابتدائی طبی امداد متاثرہ فرد کے جسمانی نقصان کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے اور بعض صورتوں میں زندگی بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔














