ناروال میں ہندو مندر سے متعلق بھارتی دعوے مسترد، عمارت بارش سے متاثر ہوئی: ترجمان دفترِ خارجہ

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے اڈا سراج، ناروال میں ہندو مندر کے بارے میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے پریس ریلیز اور میڈیا سوالات پر ردِعمل دیتے ہوئے بھارتی الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ترجمان نے کہا کہ بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس، مندر کے ڈھانچے کو 21 جولائی 2026 کو ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث نقصان پہنچا تھا۔ واقعے کے فوری بعد مقامی حکام نے بارش سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا اور عمارت کی مرمت و بحالی کے اقدامات کا باقاعدہ آغاز کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے گنگا جمنی تہذیب سے ہندوتوا تک

ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ بھارت حقائق کو مسخ کر رہا ہے اور سستے سیاسی ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقائق کی اس طرح عمدًا توڑ مروڑ کا مقصد اقلیتوں پر جاری بھارتی مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔ بھارت کا اپنا ریکارڈ اقلیتوں کے منظم استحصال اور مذہبی مقامات پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے حملوں سے بھرا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت: رام مندر میں 200 کروڑ روپے کی خردبرد، تحقیقات کے مطالبات شدت اختیار کر گئے

ترجمان دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ دنیا ہندوتوا نظریے کو اقلیتوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیے جانے سے خوب واقف ہے، اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسلم، سکھ اور عیسائی برادریوں کے استحصال پر بھارتی قیادت کا محاسبہ کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

’اگر آج نیوٹن زندہ ہوتا تو ن لیگ میں ہوتا‘، حذیفہ رحمان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا