عمر بڑھنے کے ساتھ سالوں کا ہندسہ تو بدل جاتا ہے لیکن کیا انسان واقعی خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگتا ہے؟ سینئر سٹیزن کہلانے کی عمر آخر آتی کب ہے؟ ایک دلچسپ تحریر میں عمر رسیدگی سے جڑے اسی احساس، بدلتی سوچ اور جدید دور میں معمر افراد کے فعال طرزِ زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
تحریر میں بتایا گیا کہ چرچ میں سینئر سٹیزنز اور معمر افراد کے لیے مخصوص نشستیں بظاہر معمولی بات ہیں تاہم بعض اوقات یہ نشستیں انسان کو اپنی بڑھتی عمر کا احساس دلا دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شور شرابے سے تنگ بوڑھے نے پڑوسن، اس کی جوان بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کرلی
تحریر کے مطابق جبل علی کے ایک چرچ میں قربان گاہ کے قریب دو یا تین نشستیں سینئر سٹیزنز، خصوصاً معمر اور بیمار افراد کے لیے مخصوص ہیں۔ اکثر یہ نشستیں کافی دیر تک خالی رہتی ہیں تاہم عبادت کے دوران کوئی شخص آکر ان میں سے ایک نشست سنبھال لیتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔
مصنف اور ان کی اہلیہ بھی طویل عرصے تک ان نشستوں سے گریز کرتے رہے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ جگہ کسی حقیقی ضرورت مند یا عمر رسیدہ شخص کے لیے خالی رہنی چاہیے۔ تاہم ایک روز چرچ میں جگہ کم ہونے کے باعث دونوں نے انہی مخصوص نشستوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بوڑھے لیپ ٹاپ کو جوان بنانا چاہتے ہیں تو یہ آسان ٹیپس آپ کے لیے ہیں
کچھ ہی دیر بعد ایک منتظم نے نہایت شائستگی سے انہیں یاد دلایا کہ یہ نشستیں سینئر سٹیزنز کے لیے مخصوص ہیں۔ جب مصنف نے پوچھا کہ ’’کس عمر کے لوگوں کے لیے؟‘‘ تو منتظم کی مسکراہٹ نے گویا جواب دے دیا کہ شاید اس سوال کا جواب دینا ضروری نہیں۔
تحریر میں کہا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کے لیے سب سے مشکل بات سالوں کا گزرنا نہیں بلکہ خود کو ’’بوڑھا‘‘ تسلیم کرنا ہے۔ بہت سے لوگ بڑھتی عمر کے باوجود کام کرتے، سفر کرتے، گاڑی چلاتے، ورزش کرتے اور نئی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 74 سالہ بوڑھے نے مخالف کو پھنسانے کے لیے خاتون جج کو انوکھا خط لکھ دیا
مصنف کے مطابق عمر رسیدگی کے بارے میں انسان کا تصور بھی اپنی عمر کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ بچپن میں 50 سال کی عمر بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے لیکن جب انسان خود 50 سال کا ہوجاتا ہے تو یہی عمر غیر معمولی طور پر جوان محسوس ہونے لگتی ہے۔
تحریر میں عمر اور عمر رسیدگی کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ برتھ سرٹیفکیٹ پر درج عمر صرف یہ بتاتی ہے کہ انسان کو دنیا میں آئے کتنا عرصہ گزر چکا ہے، یہ نہیں بتاتی کہ وہ خود کو کیسا محسوس کرتا ہے، کیا کرسکتا ہے اور مستقبل میں کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے “As You Like It” میں انسانی زندگی کے آخری مرحلے کو ’’دوسرا بچپن‘‘ اور فراموشی سے تعبیر کیا گیا، تاہم مصنف کا کہنا ہے کہ جدید دور کے سینئر سٹیزنز کی زندگی اس تصور سے کہیں مختلف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 71 سالہ امریکی بوڑھے کے ہاتھوں 6 سالہ فلسطینی بچہ قتل، ماں شدید زخمی
آج بڑی عمر کے بہت سے افراد بدستور ملازمتیں کر رہے ہیں، سفر کر رہے ہیں، رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، نئی مہارتیں سیکھ رہے ہیں اور بعض تو میراتھن تک دوڑ رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی نے بھی عمر رسیدہ افراد کی زندگی میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ اسمارٹ فون، ویڈیو کالز، آن لائن بینکنگ اور سوشل میڈیا اب بڑی عمر کے افراد کے لیے بھی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، اس لیے زیادہ عمر کا مطلب جدید دنیا سے کٹ جانا نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: قیامت کی نشانی، ناخلف بیٹے کا اراضی کے لیے بوڑھے باپ پر بہیمانہ تشدد
تحریر کے مطابق شاید ’’سینئر سٹیزن‘‘ محض ایک تعارف ہے، مکمل شناخت نہیں۔ عمر کا بڑھنا زندگی سے لطف اندوز ہونے، نئے تجربات کرنے اور اپنے خواب پورے کرنے کی راہ میں لازمی رکاوٹ نہیں۔
مصنف نے دلچسپ انداز میں تحریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ جب چرچ میں سینئر سٹیزنز کے لیے مخصوص نشستیں خالی نظر آئیں گی تو شاید وہ بلا جھجھک وہاں بیٹھ جائیں گے، کیونکہ اب وہ اس ’’اعزاز‘‘ کے اہل ہونے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔














