دشمن افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنا چاہتا ہے، جسے ناکام بنانا ہوگا، میجر جنرل (ر) زاہد محمود

اتوار 6 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک فوج کے سابق میجر جنرل زاہد محمود نے کہا ہے کہ دشمن کا ایک اہم ایجنڈا افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنا ہے، جسے ناکام بنانا ہوگا۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فوج یا ملک کی حفاظت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے والا سپاہی محض ایک پیشہ اختیار نہیں کرتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک بہت بڑا عہد ہوتا ہے، عظیم قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے شہدا کو یاد رکھتی ہیں، ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں اور ان کے خون سے لکھی داستانیں آنے والی نسلوں تک پہنچاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: سابق فوجیوں کی فیلڈ مارشل کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ میں شرکت، پاک فوج کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے شہدا کی قربانیوں، جنگ کے دوران فوجی جوانوں کے جذبات، اپنے ایک ساتھی سپاہی کی شہادت، باجوڑ آپریشن کے دوران اپنی ٹانگ سے محرومی اور اس کے باوجود پاک فوج میں خدمات جاری رکھنے کے تجربات سمیت مختلف امور پر گفتگو کی۔

انہوں نے کہاکہ آج ہم ان شہدا کے ورثا کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے بچوں، خاندانوں، بھائیوں اور والدین نے قربانیاں دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قربانی وردی میں موجود لوگوں نے دی ہو یا بغیر وردی کے، ہم سب پاکستان کے سپاہی ہیں۔ شہدا نے قیامت کے دن ہم سے جواب طلب کرنا ہے کہ جس ملک کے لیے انہوں نے شہادت دی، ہم نے اس ملک کو کہاں تک پہنچایا۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہاکہ خاص طور پر ان ماؤں کو سلام پیش کرنا چاہیے جو اپنے جگر گوشوں کی قربانی ملک کے لیے دیتی ہیں۔ ایک ماں کی قربانی اور اس کے جذبات کو شاید کسی پروگرام یا الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہاکہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ایسے ملک میں بستے ہیں جس کی داستان شہیدوں کے خون سے لکھی گئی ہے، چاہے وہ تحریک پاکستان کے شہدا ہوں جنہوں نے ملک بنانے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا یا وہ شہدا جنہوں نے اس ملک کو بچانے، آگے لے جانے اور قائداعظم کے اس قول کو سچ ثابت کرنے کے لیے قربانیاں دیں کہ کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔

’سپاہی کا جنگ میں داخل ہونا اللہ سے ایک عہد ہے‘

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہاکہ فوج یا سپاہی ہونا محض ایک پیشہ نہیں، اس انسان کا اپنے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ ایک بہت بڑا کنٹریکٹ ہوتا ہے۔

ان کے مطابق جس طرح ہم آئین کے تحت اپنے ملک سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں، اسی طرح فوج، پولیس یا کسی بھی ادارے سے تعلق رکھنے والا وہ شخص جو ملک کی حفاظت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک بہت بڑا عہد کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ عظیم قومیں اپنے شہدا کو یاد رکھتی ہیں، ان کی قربانیوں کو یاد کرتی ہیں اور ان کے خون سے لکھی ہوئی داستانیں آنے والی نسلوں کو ضرور بتاتی ہیں۔

’جنگ کے میدان میں خوف ختم ہو جاتا ہے‘

جنگ کے دوران فوجی جوان کے جذبات کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہاکہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی شاید وضاحت ہی نہ کی جا سکتی ہو۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جس کے اندر خوف نہ ہو، لیکن جنگ میں جانے کے بعد اس خوف پر قابو پانے اور اسے زندگی سے دور کرنے کا عمل خودکار طور پر شروع ہو جاتا ہے۔

ان کے بقول جنگ کے وقت سپاہی اور اس کے خدا کے درمیان معاملہ رہ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق بہت گہرا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد کی دنیا کو بھول جاتا ہے کہ اس کے ماں باپ، بچے، بیوی اور دوست ہیں اور وہ زندہ رہے گا یا نہیں۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہاکہ اس وقت سپاہی صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے لڑ رہا ہوتا ہے اور اتنا پُرسکون اور پُراعتماد ہوتا ہے کہ زندگی یا موت اس کے لیے وہ معنی نہیں رکھتی جو عام حالات میں رکھتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سپاہی کا دماغ صرف اس بات پر کام کر رہا ہوتا ہے کہ دشمن سے کس طرح لڑنا ہے، اسے کیسے مارنا ہے، خود کیسے بچنا ہے اور کس طرح مقابلہ کرنا ہے۔ اس کے سامنے جنت سے بڑا ایوارڈ کوئی نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ایک سپاہی کے لیے سب سے بڑا اطمینان یہ ہوتا ہے کہ جب وہ جنگ لڑ کر واپس نکلے گا تو اپنی قوم کے اندر اس کا مقام ہوگا۔ غازی کا مقام کتنا بڑا ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

’’شاہد‘، جس کی قربانی آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے‘

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے اپنی زندگی کے ایک ایسے ساتھی سپاہی کا واقعہ بھی بیان کیا جس کی قربانی آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2009 میں باجوڑ میں آپریشن کے دوران ایک سپاہی ان کے ساتھ رہتا تھا جس کا نام شاہد تھا اور اس کا تعلق خوشاب سے تھا۔ جب وہ سڑک پر نکلتے یا کہیں سفر کرتے تو شاہد تیز رفتاری سے آگے آکر ان کے سامنے چلنا شروع ہو جاتا تھا۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود کے مطابق وہ کمانڈر ہونے کے ناطے آگے چلنے والے شاہد سے کہا کرتے تھے کہ اگر ان کے نام کی گولی ہے تو وہ آگے ہوں یا پیچھے، ان تک پہنچے گی۔

ان کے بقول شاہد اس بات کا جواب نہیں دیتا تھا کہ وہ کیوں آگے چلتا ہے، لیکن انہیں معلوم تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ ایک مرتبہ جب وہ ایک کمپاؤنڈ سے نکلے اور تھوڑا سا آگے چلے تو راکٹ لانچر فائر ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ جس وقت شاہد ان کے سامنے چل رہا تھا، راکٹ لانچر اسے لگا۔ اس کی گردن کا حصہ پوری طرح اڑ گیا اور اس کی باڈی میرے اوپر آ گری۔

ان کے مطابق جب شاہد کی باڈی ان کے اوپر آئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے پانی کی طرح خون بہہ رہا ہے۔ ’شاہد اس شدت سے مجھ پر گرا کہ میں بھی زمین پر گرگیا۔‘

انہوں نے کہا کہ اسی دوران سنائپر فائر شروع ہو گیا۔ وہ زمین پر گرے ہوئے تھے، شاہد کی باڈی ان کے اوپر تھی اور گولیاں قریب موجود دیوار سے ٹکرا رہی تھیں۔ گولیاں ان سے صرف تین چار فٹ اوپر دیوار پر لگ رہی تھیں۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ اگر شاہد کی باڈی ان کے اوپر نہ گرتی تو شاید وہ آج اس دنیا میں انٹرویو نہ دے رہے ہوتے۔ ان کے ساتھ موجود ایک اور جوان بھی اس واقعے میں شہید ہوا۔

انہوں نے کہاکہ شاہد کی قربانی اس بات کی مثال ہے کہ ایک جوان کے اندر اپنی قیادت کو بچانے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے کتنا جذبہ ہوتا ہے۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہاکہ ان کے گھر میں شہدا کی تصاویر لگی ہوئی ہیں اور وہ اپنے دن کا آغاز شاہد کو یاد کرکے کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کا دن ایسی کسی چیز میں گزرے جو ان شہدا کے لہو اور قربانی کا حق ادا کرنے کا ذریعہ بن سکے۔

’باجوڑ آپریشن میں ٹانگ سے محرومی‘

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے 2008 میں باجوڑ میں پیش آنے والے اس واقعے کا بھی ذکر کیا جس میں ان کی دائیں ٹانگ شدید زخمی ہوئی اور بعد ازاں انہیں مصنوعی ٹانگ استعمال کرنا پڑی۔

انہوں نے بتایا کہ 2008 میں وہ باجوڑ میں تعینات تھے اور ایک یونٹ کی کمانڈ کر رہے تھے۔ اس وقت باجوڑ میں مختلف عسکریت پسند گروپس موجود تھے۔

ان کے مطابق اس وقت آپریشن ’شیردل‘ جاری تھا اور ان کی یونٹ کو ایک آپریشن کا حکم ملا۔ کچھ فورسز اندر سے گھری ہوئی تھیں جبکہ عسکریت پسندوں نے باجوڑ ایجنسی سے مہمند ایجنسی جانے والی سڑک کو کاٹ رکھا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران کمپاؤنڈ ٹو کمپاؤنڈ سرچ آپریشن ہو رہا تھا۔ اسی دوران ایک مقام پر مارٹر کا گولہ ان کی پوزیشن کے قریب پھٹا۔ گولہ اتنے قریب پھٹا کہ ان کی دائیں ٹانگ شدید زخمی ہو گئی اور وہ زمین پر گر گئے۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود کے مطابق اس وقت قریبی مقام پر عسکریت پسند موجود تھے جنہوں نے ان کی پوزیشن پر ریڈ کیا۔ ان کی دائیں ٹانگ پہلے ہی شدید زخمی تھی اور اس میں چھ گولیاں لگیں۔

انہوں نے کہاکہ بعد میں میرا علاج بہت اچھی طرح سے کیا گیا، اور حفاظت کی گئی، پھر مصنوعی ٹانگ لگائی گئی، لیکن میں نے اپنی سروس جاری رکھی۔

’ماں کی دعاؤں نے مجھے واپس لایا‘

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ زخمی ہونے کے بعد انہیں قوم کی جانب سے جو عزت اور احترام ملا، وہ ان کے لیے اہم تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے بھی بطور ماں اپنے بیٹے کے فوج میں جانے پر فخر کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ان کی اہلیہ کہتی تھیں کہ جب فوجی جوان آپریشنز میں لڑ رہے ہوتے ہیں تو وہ خود کو بھی اس کا حصہ محسوس کرتی ہیں اور ان کے لیے یہ ایک فخر کا لمحہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا اس وقت بہت کم عمر تھا، تقریباً دوسری جماعت میں، اور جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس کی عمر تقریباً 4 سال تھی۔ بعد میں یونٹ میں ان کی تصاویر دیکھنے اور لوگوں سے ان کے واقعات سننے کے باعث اس کا فوج کی طرف رجحان مزید بڑھا۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود کے مطابق ان کا بیٹا جب یونٹ میں جاتا یا ان کے ساتھ کہیں جاتا تو ان تصاویر اور واقعات سے بہت متاثر ہوتا تھا اور فوج میں جانے کے حوالے سے اس کا جذبہ بڑھتا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ماں اور خاندان کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ جب کسی جوان کی تعیناتی ہوتی ہے تو اس کے گھر والے بھی ایک نفسیاتی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ رات کو جب کوئی ماں یا بیوی اپنے بیٹے یا شوہر کی خیریت کی اطلاع کا انتظار کرتی ہے تو یہ بھی ایک بہت بڑی قربانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا، ان کی والدہ بھی بہت دعائیں کرتی تھیں اور وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ ماں کی دعائیں تھیں جنہوں نے انہیں واپس لایا۔

’مصنوعی ٹانگ کے باوجود معمول کی زندگی جاری رکھی‘

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے بتایا کہ زخمی ہونے کے بعد معاشرے میں دوبارہ مؤثر انداز میں زندگی گزارنا ایک اہم مرحلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک افسر خاص طور پر اپنے لوگوں کے لیے رول ماڈل ہوتا ہے، اس لیے انہیں خود کو اسی انداز میں برقرار رکھنا تھا تاکہ ان کے بچے اور ان کے جوان بھی حوصلہ پیدا کریں۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ ان کی اہلیہ نے بھی اس پورے سفر میں بہت اہم کردار ادا کیا اور ان کی والدہ بھی ان کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک فوجی کی ماں اور بیوی بھی دراصل سپاہی ہوتی ہیں۔

’شہدا کی عزت و تکریم قوم کی ذمہ داری ہے‘

قوم کی جانب سے فوجی جوانوں کی عزت و تکریم کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ جن قوموں کو اپنے شہداء کا احترام کرنا نہیں آتا، وہ قومیں قومیں نہیں رہتیں۔

انہوں نے کہاکہ جو جوان اس وقت کسی چوکی پر کھڑا ہے اور اسے معلوم نہیں کہ کس وقت کس محاذ پر اسے دشمن کا سامنا کرنا پڑے گا، وہ اپنی ذات، اپنی تنخواہ یا اپنے مفاد کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے کھڑا ہے۔

’وہ اپنی زندگی اور موت اللہ کے حوالے کرکے ملک کی حفاظت کرتا ہے۔ ہر پوسٹ پر ایک ہی جھنڈا لگا ہوتا ہے، وہ کسی قومیت، شہریت یا سیاست کا نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا جھنڈا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سپاہی روزانہ صبح اس جھنڈے کو بلند کرتا ہے، شام کو اسے اتارتا ہے اور اس کی حفاظت کی قسم کھاتا ہے۔ جب وہ شہید ہوتا ہے تو اس کی میت بھی پاکستان کے جھنڈے میں لپٹ کر قبر میں جاتی ہے۔

’عوام اور افواج کا ملاپ پاکستان کا مرکزِ ثقل ہے‘

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ دشمن کا ایک اہم مقصد عوام اور افواج کے ملاپ کو توڑنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب دشمن قوم کو شکست نہیں دے سکتا تو وہ یہ حملہ کرتا ہے کہ عوام اور افواج کے ملاپ کو توڑا جائے تاکہ یہ قوم نہ امن قائم رکھنے کے قابل رہے اور نہ جنگ لڑنے کے قابل رہے۔

مزید پڑھیں: پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہے، کشمیر کی سرحد پر کھڑا سپاہی اپنی جان خطرے میں ڈال کر وطن کا دفاع کرتا ہے : بلاول بھٹو

انہوں نے کہاکہ قوم کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر آپ اپنے شہداء اور سپاہیوں کی قدر نہیں کریں گے تو پھر دشمن کا سپاہی آپ پر موجود ہوگا۔ وہ آپ کی عزت اور آپ کی سلامتی کا دشمن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معمولی بات نہیں بلکہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے اور ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے تحفظ کے لیے اس بنیادی اتحاد کو مضبوط رکھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp