روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے لائپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے سے متعلق جرمن الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جرمنی ایک بار پھر جنگ چاہتا ہے‘۔
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے ثقافتی مراکز کی بندش اور سفارتکاروں کی بے دخلی کے بعد جاری ہونے والا یہ بیان روس اور جرمنی کے سفارتی تعلقات میں شدید بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روس اور ایران کے خطرات کے پیشِ نظر جرمنی کا خفیہ اداروں کو مزید طاقت دینے کا فیصلہ
جرمن حکومت نے حال ہی میں ماسکو پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے مشرقی جرمنی کے اہم لائپزگ ایئرپورٹ پر بارود سے لدے ڈرون کے ذریعے ’ہائبرڈ حملے‘ کی ناکام کوشش کی، جس کے لیے نچلے درجے کے ایجنٹوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔
اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں رواں ہفتے ماسکو اور برلن نے ایک دوسرے کے ثقافتی مراکز بند کر دیے جبکہ یورپی یونین کے متعدد ممالک نے بھی روسی سفیروں کو طلب کر کے اپنا احتجاج درج کرایا۔
یہ ایک حقیقی جنگ کا آغاز ہے‘، سرگئی لاوروف
روسی سرکاری ٹی وی کے ‘ویسٹی’ چینل کو دیے گئے انٹرویو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جرمن اقدامات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ مجموعی طور پر ایک حقیقی جنگ کی شروعات ہے۔ انہوں نے بون سے ہمارا قونصلیٹ جنرل نکال دیا اور اب برلن میں واقع ’روسی ہاؤس‘ (ثقافتی مرکز) کو بند کر رہے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے آغاز سے قبل بھی حالات ایسے ہی تھے۔ وہ ایک بار پھر جنگ کے خواہش مند ہیں‘۔
لاروف نے جرمنی پر ’ناززم‘ کا الزام بھی عائد کیا اور واضح کیا کہ روسی قیادت اس صورتحال سے ’مناسب نتائج‘ اخذ کرے گی۔
کشیدہ تعلقات کی وجہ
روس اور جرمنی کے درمیان پیدا ہونے والی یہ نئی کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس کا یوکرین پر عسکری حملہ 4.5 سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی تاریخ کا سب سے بڑا عسکری تنازع قرار دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:روس کے مبینہ ہائبرڈ حملوں کا خطرہ، جرمنی نے سائبر ڈوم بنانے کا اعلان کردیا
جرمنی اس جنگ میں یوکرین کے اہم ترین اتحادیوں اور امداد دہندگان میں سے ایک ہے۔
طویل ترین عرصے تک روسی وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہنے والے لاروف کا یہ سخت بیان روس میں رواں ماہ کے اختتام پر ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے عین قبل سامنے آیا ہے، جس سے عالمی منظر نامے پر روس کے سخت تر ہوتے ہوئے سیاسی و سفارتی مؤقف کی عکاسی ہوتی ہے۔














