سابق میئر اسلام آباد پیر عادل گیلانی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کا نیا نظام تجویز کرنے سے قبل سابق منتخب بلدیاتی نمائندوں سے مشاورت ہونی چاہیے تھی، کیونکہ ہم نے پانچ سال اس نظام میں گزارے ہیں اور اس دوران پیش آنے والے مسائل اور مشکلات کا عملی تجربہ رکھتے ہیں۔ اگر ہماری مشاورت شامل ہوتی تو ہم بہتر بتا سکتے تھے کہ سابق نظام میں کہاں مسائل تھے اور نئے نظام کو کس طرح زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق میئر اسلام آباد پیر عادل گیلانی نے کہاکہ اسلام آباد میں مقامی حکومت اور اسلام آباد کے لوگوں کی اپنی نمائندگی ہونی چاہیے، اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ سیٹ اپ 2015 میں شروع ہوا اور 2020 میں ختم ہوا۔ یہ ایک بڑا اہم سیٹ اپ تھا کیونکہ اسلام آباد میں پہلی مرتبہ لوکل باڈیز کے انتخابات ہوئے، جو ایک اچھا عمل تھا، لیکن بدقسمتی سے ہمیں مضبوط نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بہت زیادہ مسائل پیدا ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں نئے نظام کا آنا ضروری ہے کیونکہ شہر میں گراس روٹ لیول پر لوگوں کے بہت زیادہ مسائل ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو موجودہ نظام میں حل نہیں ہو پاتے۔ اگر لوکل نمائندے ہوں گے تو انشااللہ یہ بہت اچھا اور مؤثر سیٹ اپ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر نئے نظام کا سابق لوکل باڈیز نظام سے موازنہ کیا جائے تو اس وقت بہت زیادہ عوامی نمائندے موجود تھے۔ اسلام آباد میں 50 یونین کونسلز تھیں اور تقریباً 25 لاکھ آبادی کے شہر میں ہر کونسل میں 12، 13 ارکان تھے، یوں عوام کی ایک بڑی نمائندگی موجود تھی۔
ان کے مطابق اگر اب اسلام آباد میں 21 حلقے بنائے جا رہے ہیں تو یہ بھی ایک نمائندگی کا نظام ہے، تاہم اس کے مؤثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اختیارات اور وسائل بھی عوامی نمائندوں کو دیے جائیں۔
سابق میئر نے اپنے پانچ سالہ دور کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پانچ سال میں آفس تک نہیں دیا گیا، پانچ سالوں میں ایک روپیہ بھی تنخواہ کسی میئر، ڈپٹی میئر، کونسلر، چیئرمین یا وائس چیئرمین کو نہیں دی گئی، کوئی ملازمین بھی نہیں تھے، اس کے علاوہ ہمارا اپنا کوئی بجٹ بھی نہیں تھا۔ ہم سی ڈی اے کا ہی بجٹ اور وسائل استعمال کرتے تھے۔
پیر عادل گیلانی نے کہاکہ سابق نظام میں بیوروکریسی انتہائی مضبوط تھی اور عوامی نمائندوں کے لیے کام کرنا آسان نہیں تھا، بیوروکریسی نہیں چاہتی تھی کہ یہ لوگ کام کرتے رہیں۔
انہوں نے کہاکہ سابق سیٹ اپ انتہائی مشکل ترین تھا اور اختیارات عوامی نمائندوں تک منتقل کرنے کے حوالے سے بھی مسائل موجود رہے۔
انہوں نے بتایا کہ پانچ سالہ مدت کے اختتام پر انہیں یہ بتایا گیا کہ ابھی تک رولز آف بزنس بھی نوٹیفائی نہیں ہوئے، اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سابق لوکل گورنمنٹ سیٹ اپ کو عملی طور پر کس قدر مشکلات کا سامنا تھا۔
نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے پیر عادل گیلانی نے کہاکہ اگر اسلام آباد کے لوگوں کو خود ان کی نمائندگی ملے، ان کے اپنے نمائندے ہوں جو عوام کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتے ہوئے ان کے مسائل حل کریں تو یہ ایک بہت اچھا سیٹ اپ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے لندن کے میئر ظہران ممدانی اور دیگر نظاموں کی مثالیں دی گئی ہیں، اگر اسی طرح کا کوئی بااختیار سیٹ اپ اسلام آباد میں لایا جاتا ہے تو ان کے خیال میں اس سے بڑی اچھی مثال اسلام آباد کے لوگوں کے لیے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ تاہم اس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اختیارات، وسائل اور انتظامی ڈھانچے کی واضح تقسیم ضروری ہے۔
پیر عادل گیلانی نے کہا کہ نئے نظام کے حوالے سے سابق منتخب نمائندوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور احسن اقبال جیسی ذمہ دار شخصیات موجود ہیں اور ان سے اس حوالے سے مشاورت ہونی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی کے بعض سینیئر نمائندے اس معاملے کو دیکھ رہے تھے، تاہم چونکہ سابق لوکل گورنمنٹ کا نظام طویل عرصے تک چلتا رہا اور اس میں انہوں نے عملی طور پر کام کیا، اس لیے اگر ان سے تجاویز لی جاتیں تو اچھا ہوتا۔
ان کے مطابق سابق نظام میں جو مسائل سامنے آئے، وہ تمام چیزیں سابق نمائندوں سے شیئر کی جانی چاہییں تھیں اور ان سے رائے بھی لینی چاہیے تھی۔
سابق میئر نے کہاکہ موجودہ پارلیمانی نمائندے، خصوصاً اسلام آباد کے تینوں ایم این ایز، اپنے طور پر اسلام آباد کے مسائل سے آگاہ ہیں اور انہوں نے اپنی طرف سے اس حوالے سے کام بھی کیا ہے، لیکن گراس روٹ لیول پر جو لوگ عوام کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہے ہیں، اگر ان کو بھی ساتھ شامل کیا جاتا تو شاید نئے نظام میں مزید بہتری آ سکتی تھی۔
مزید پڑھیں: بلدیاتی نظام سے متعلق امور 28ویں آئینی ترمیم میں زیر غور آئیں گے، مصطفیٰ کمال
پیر عادل گیلانی نے کہا کہ اسلام آباد میں مضبوط اور بااختیار مقامی حکومت کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے روزمرہ اور گراس روٹ لیول کے مسائل ان کے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حل ہو سکیں۔ تاہم ان کے بقول نئے نظام کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سابق تجربات سے سبق حاصل کیا جائے، اختیارات اور وسائل کی منتقلی یقینی بنائی جائے اور ان لوگوں کی رائے بھی شامل کی جائے جنہوں نے سابق نظام میں پانچ سال عملی طور پر کام کیا ہے۔













