وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا حالیہ بیان تنقید کی زد میں کیوں ہے ؟

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس بیان نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ پنجاب کو ہمسایہ ملک بھارت سے دہشتگردی کا اتنا خطرہ نہیں جتنا پڑوسی صوبوں سے ہے۔ انہوں نے یہ بیان چند روز قبل لاہور میں پنجاب آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب اور صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے صوبوں سے متعلق بیان کو غلط رنگ دیا گیا، عظمیٰ بخاری

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان کے فوری بعد اپوزیشن، خصوصاً خیبر پختونخوا حکومت نے اسے صوبائیت، تعصب اور دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے قومی مؤقف کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا جبکہ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ دراصل دہشتگردوں کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور اس سے پنجاب کو لاحق خطرات کی بات کر رہی تھیں۔

مریم نواز کا بیان کیا تھا؟

مریم نواز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ انہیں پڑوسی ممالک کی نسبت پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے اور ’وہاں سے دہشتگردی پنجاب میں آتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پر سب کی نظر ہے اور الحمدللہ یہ ایک پُرامن صوبہ ہے، تاہم جس نوعیت کے سیکیورٹی خطرات کا پنجاب کو سامنا ہے، ان سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے ٹیکنالوجی پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ٹرائی بارڈر ایریاز اور صوبائی سرحدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطرات ان علاقوں سے آتے ہیں جہاں سے دہشتگرد پنجاب میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کچے کے علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کئی دہائیوں سے جرائم اور دہشتگردی کا گڑھ رہا ہے تاہم فوج اور سندھ حکومت کے تعاون سے اب وہاں ریاست کی رٹ قائم ہوچکی ہے اور علاقہ جرائم سے پاک ہے۔

مریم نواز کے مطابق جب انہوں نے وزارت عالیہ سنبھالی تو چیک پوسٹوں پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس دہشتگردوں کے مقابلے میں اتنی جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔

مزید پڑھیے: مریم نواز کے ناقدین حقائق سے ناواقف ہیں، عظمیٰ بخاری کا سہیل آفریدی کو جواب

انہوں نے کہا کہ اب جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مضبوط کیا گیا ہے اور وہاں تھرمل اور نائٹ ویژن کیمروں، بلٹ پروف تحفظ اور جدید سیکیورٹی نظام کی تنصیب کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے مصنوعی ذہانت کا مرکز قائم کیا ہے تاکہ سیکیورٹی خطرات کی پیشگی نشاندہی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنایا جاسکے۔

سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کی وضاحت

سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے وزیراعلیٰ کے بیان پر ہونے والی تنقید کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز دہشتگردوں کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کی بات کر رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی حاسدین‘ نے دانستہ طور پر بیان کے سیاق و سباق کو مسخ کرکے اسے صوبائیت اور لسانیت کا رنگ دیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ انسداد دہشتگردی جیسے حساس اور قومی سلامتی کے معاملے کو صوبائیت سے جوڑنا انتہائی گھٹیا اور افسوسناک رویہ ہے۔ ان کے مطابق ایسے عناصر دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں اور قوم میں تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز تمام صوبوں اور ان میں بسنے والی تمام اقوام کا دل سے احترام کرتی ہیں۔

مریم اورنگزیب نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت دہشتگردی کی روک تھام کے لیے تمام صوبوں اور قومی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے بھی وزیراعلیٰ کے بیان پر تنقید کرنے والوں کو حقائق سے ناواقف قرار دیا۔

مزید پڑھیں: ’چھٹیوں پر ہوں‘: مریم نواز کا صوبوں کی تقسیم سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز

انہوں نے کہا کہ خارجہ امور اور بیرونی خطرات وفاقی دائرہ اختیار میں آتے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کی ذمہ داری صوبے میں حکمرانی اور داخلی سلامتی کے معاملات دیکھنا ہے۔

اپوزیشن اور سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مریم نواز کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 3 صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت کو ’کلین چٹ‘ دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بیان سے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف عالمی مؤقف کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے صوبوں کے خلاف متعصبانہ رویہ پاکستان کو تقسیم کرنے والی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے مریم نواز کے بیان کو خیبر پختونخوا کے لیے توہین آمیز اور شرمناک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور صوبے کے عوام، شہدا کے خاندانوں اور پولیس اہلکاروں نے اس جنگ میں سب سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔

اسد قیصر کے مطابق ان قربانیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے صوبے کے لوگوں کو طعنے دینا قومی سطح پر افسوسناک رویہ ہے۔

سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی بیان کو ’انتہائی تضحیک آمیز‘ قرار دیتے ہوئے اسے لاعلمی اور غرور کی عکاسی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پڑوسی صوبہ خیبر پختونخوا شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر رہا ہے جبکہ پڑوسی ملک بھارت کو بآسانی بری الذمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی تنقید

مریم نواز کا بیان سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوا جہاں متعدد صارفین نے اسے حساسیت سے عاری اور تعصبانہ قرار دیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ ریاست دہشت گردی کو بھارتی ’فتنہ‘ قرار دیتی ہے، مگر پنجاب کی وزیراعلیٰ کہہ رہی ہیں کہ پڑوسی ملک سے خطرہ کم اور پڑوسی صوبے سے زیادہ ہے۔

صحافی بینظیر شاہ نے لکھا کہ پنجاب بمقابلہ دیگر صوبوں کی زبان اس احساس برتری کو تقویت دیتی ہے جو طویل عرصے سے صوبائی تحفظات کا سبب بنتا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق اگر دہشتگردی کسی صوبے میں ہو رہی ہو یا کسی صوبے سے گزر رہی ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صوبہ خود خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کرپٹ پولیس اہلکاروں کی شامت، مریم نواز کے احکامات پر تھانوں کی ریکی کیسے کی جارہی ہے؟

ان کے مطابق دہشتگردی ایک قومی چیلنج ہے جس سے تمام صوبوں اور ریاستی اداروں کو مل کر نمٹنا چاہیے۔

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا بیان ایک حساس معاملے سے متعلق تھا اس لیے انہیں زیادہ محتاط الفاظ اور انداز اختیار کرنا چاہیے تھا۔

ان کے مطابق ’پنجاب بمقابلہ دیگر صوبوں‘ کا تاثر درست نہیں کیونکہ اصل لڑائی دہشتگردی کے خلاف ہے، کسی صوبے کے خلاف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے بیان سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت صوبائی حدود، بین الصوبائی نقل و حرکت اور سرحدی علاقوں کی نگرانی کو اپنی سیکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ سمجھتی ہے تاہم اس مقصد کے لیے الزام تراشی کے بجائے بین الصوبائی تعاون زیادہ مؤثر راستہ ہوسکتا ہے۔

سلمان غنی کے مطابق دہشتگردی ایک قومی مسئلہ ہے جسے صوبوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا اور اس کا سدباب ہر سطح پر سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حساس معاملات پر ذمہ دارانہ کردار اور آواز ہی قومی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے ریمارکس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پنجاب کو دہشتگردی سے پاک دیکھنا چاہتی ہیں تاہم متاثرہ صوبوں کو نشانہ بنانے کے بجائے پنجاب کا بڑا کردار یہ ہونا چاہیے کہ جہاں بھی دہشتگردی ہو اس کے خلاف مشترکہ طور پر آواز اٹھائی جائے اور تمام اداروں اور صوبوں کا ساتھ دیا جائے۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ نگار ماجد نظامی کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل رہے ہیں اور ان صوبوں کے عوام نے سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔

ان کے مطابق ایسے میں وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ کہنا کہ پنجاب کو پڑوسی ملک کے مقابلے میں پڑوسی صوبے سے زیادہ خطرہ ہے قومی یکجہتی کے بیانیے کو کمزور کرتا ہے۔

ماجد نظامی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان کو سیاسی بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بنیادی حقائق کا خیال نہیں رکھا گیا۔

ان کے مطابق ریاستِ پاکستان کی جانب سے متعین کیے گئے دشمنوں میں بھارت سرفہرست ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ بھارت نے سنہ 1971 کے بعد 54 سال کے وقفے سے سنہ 2025 میں پنجاب کی سرزمین پر باقاعدہ حملہ کیا جو ان کے بقول بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی۔

مزید پڑھیں: نوجوانوں کے لیے خوشخبری، مریم نواز نے ’الیکٹرک بائیک اسکیم‘ کا اعلان کردیا

انہوں نے کہا کہ ایسے میں یہ کہنا کہ پاکستان کو ہمسایہ ملک سے نہیں بلکہ ہمسائے صوبے سے دہشتگردی کا زیادہ خطرہ ہے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp