وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سخت احکامات کے بعد اینٹی کرپشن پنجاب نے کرپٹ پولیس اہلکاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی مزید تیز کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر بھر کے مختلف تھانوں کے اطراف اینٹی کرپشن کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں، جو تھانوں سے رجوع کرنے والے سائلین سے پولیس عملے کے رویے، رشوت طلب کرنے اور بدعنوانی سے متعلق معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب: کرپشن کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ، متعدد سرکاری اہلکار رنگے ہاتھوں گرفتار، مقدمات درج
ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن اہلکار سائلین سے یہ بھی معلوم کر رہے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے کسی قسم کی رشوت طلب کی گئی یا نہیں، جبکہ بدعنوانی سے متعلق شکایات اور معلومات کو بھی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن کی ٹیموں نے تھانوں میں موجود کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے لیے منظم حکمت عملی اپنائی ہے۔
سائلین سے خفیہ طور پر بات چیت کی جا رہی ہے جبکہ رشوت مانگنے والے ملازمین کی فہرستیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ ان فہرستوں کی بنیاد پر متعدد پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں پہلے ہی عمل میں لائی جا چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے چند ہفتے قبل ایک اجلاس میں آئی جی پنجاب کو ایک ہفتے کے اندر کرپٹ پولیس افسران کی نشاندہی اور انہیں فیلڈ پوسٹنگز سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ بری شہرت رکھنے والے افسران کو ایس ایچ او نہیں بنایا جائے گا اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل ہوگا۔ اسی حکم کی روشنی میں محکمہ اینٹی کرپشن کو بلاامتیاز کارروائیوں کا فری ہینڈ دیا گیا ہے۔
محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان کے مطابق آپریشن کے پہلے مرحلے میں محکمہ پولیس اور محکمہ مال کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ساہیوال سے سب انسپکٹر عبدالسلام اور فیصل آباد سے اے ایس آئی محمد عرفان سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
لاہور میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے کرپشن میں ملوث 37 پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا ہے جن میں 11 سب انسپکٹر، 14 اے ایس آئی، 6 ہیڈ کانسٹیبل اور 6 کانسٹیبل شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی خفیہ سیل قائم کیا گیا ہے جس کی رپورٹس براہ راست وزیراعلیٰ کو پیش کی جا رہی ہیں۔ عوامی شکایات کے لیے اینٹی کرپشن میں شکایت کنندہ کا نام خفیہ رکھا جاتا ہے۔
اینٹی کرپشن کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ تھانوں کے گرد تعیناتی کا مقصد صرف نگرانی نہیں بلکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا بھی ہے تاکہ وہ بلا خوف اپنی شکایات درج کروا سکیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن، خصوصی خفیہ سیل قائم، گرفتاریاں شروع
ذرائع کے مطابق اگلے چند دنوں میں مزید تھانوں میں کریک ڈاؤن کی توقع ہے اور جن اہلکاروں کے نام فہرستوں میں آئیں گے ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی ایک ساتھ چلائی جائے گی۔
پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ پولیس محکمے کو عوام دوست بنانے کے لیے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے اور اس مہم میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔













