میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی آج کی کارروائی کے دوران کمیشن اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد کارروائی معطل کردی گئی اور وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو طلبی کا نوٹس جاری کردیا گیا۔
اجلاس میں مقتول میر رضا کے اہل خانہ، ان کے وکیل جبران ناصر، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال، ہیڈ محرر ذیشان، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر نسیم احمد نے شرکت کی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کا بیان اور پوسٹ مارٹم کے ضوابط
کمیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ وہ جون 2022 سے پولیس سرجن کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ ان کی اصل تعیناتی ایڈیشنل پولیس سرجن کے عہدے پر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک وہ 99 قبر کشائیاں کرچکی ہیں، جن کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، تاہم پوسٹ مارٹم کی مجموعی تعداد کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، جس پر کمیشن نے تعریفی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ محکمہ ایک قابل شخص کے ہاتھ میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ
ڈاکٹر سمیہ نے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور معیاری عملی طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ لاش اسپتال پہنچنے پر پہلا مرحلہ میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ کا اجرا ہوتا ہے، پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ میڈیکولیگل ایکٹ 2023 کے تحت ناقابل شناخت لاشوں کا ڈی این اے سیمپل لیا جاتا ہے، جبکہ قانون کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران لاش کی تصاویر لینا، سر سے پاؤں تک زخموں کا جائزہ لینا اور زخموں کے وقت کا تعین کرنا لازمی ہے کہ آیا یہ زخم موت سے قبل آئے یا بعد میں۔
ڈاکٹر سمیہ کے مطابق جناح اسپتال میں روزانہ 15 سے 18 پوسٹ مارٹم ہوتے ہیں، جبکہ ہائی پروفائل یا مشکوک کیسز کی نگرانی وہ خود کرتی ہیں۔
ایم ایل او افسران کی عدم دلچسپی اور افرادی قوت کا مسئلہ
کمیشن کی جانب سے میڈیکولیگل افسران (ایم ایل اوز) کی تربیت سے متعلق سوال پر ڈاکٹر سمیہ نے انکشاف کیا کہ تمام تر تربیت اور پروٹوکول فراہم کیے جانے کے باوجود ایم ایل اوز کام میں دلچسپی نہیں لیتے اور اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ افرادی قوت کی کمی کا شکار نہیں کیونکہ اس وقت 42 میڈیکولیگل افسران موجود ہیں، ان کے مطابق اصل مسئلہ افسران کی جانب سے کام میں عدم دلچسپی ہے۔
ڈاکٹر اسامہ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران کسی سویپر کی معاونت حاصل نہیں کی گئی، بلکہ تربیت یافتہ لیب اسسٹنٹ شعیب راشد موجود تھے۔
ڈاکٹر اسامہ سے گفتگو اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضاد
کمیشن کی ہدایت پر پروجیکٹر کی مدد سے ڈاکٹر اسامہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور اسکرین شاٹس کا جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ 29 جولائی کو ڈاکٹر اسامہ نے گلستان جوہر سے ملنے والی 2 روز پرانی لاش کے بارے میں آگاہ کیا، جب ان سے گولی کے داخل ہونے اور خارج ہونے کے مقامات سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ گولی سینے میں لگی اور کمر سے نکل گئی۔
مزید پڑھیں: میر رضا کی موت خودکشی نہیں، قتل کا کیس ہے، تفتیشی افسر
ڈاکٹر سمیہ کے مطابق 31 جولائی کو ڈاکٹر اسامہ نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس گولی کے نکلنے کے مقام کی تصویر موجود نہیں تھی اور انہوں نے رشوت دے کر کرائم سین کی تصویر حاصل کی۔
ڈاکٹر سمیہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر اسامہ کو واضح کیا تھا کہ پوسٹ مارٹم میں کچھ اہم نکات رہ گئے ہیں اور تصاویر گولی لگنے اور نکلنے کے مقامات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
ان کے مطابق ڈاکٹر اسامہ نے ان کے پاس رپورٹ بھیجے بغیر ہی اسے حتمی شکل دے دی، جس کے بعد سے وہ آف ڈیوٹی ہیں۔
پولیس افسران سے رابطے اور خودکشی کے دعوے کی تردید
پولیس افسران سے رابطوں کے سوال پر ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس کیس کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم ڈاکٹر سمیہ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحقیقات اور طبی نتائج اس مؤقف کی تائید نہیں کرتے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی آئی جی ڈاکٹر فرخ، ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو سے ملاقاتوں کے دوران بھی انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کیس: شاہراہ فیصل بلاک کرنے پر 100 کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج
ڈاکٹر سمیہ کے مطابق پولیس افسران کا اصرار تھا کہ گولی کا نشان سینے پر ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ گولی سینے پر لگی ہے۔
جبران ناصر کی جانب سے میڈیا رپورٹس کے حوالے پر ڈاکٹر سمیہ نے وضاحت کی کہ ’سینے پر گولی لگنے‘ کے الفاظ ان سے غلط منسوب کیے گئے۔
کمیشن میں تلخی، ایڈووکیٹ جنرل کا اعتراض، وزیر داخلہ کو نوٹس
کارروائی کے دوران وکیل جبران ناصر نے شواہد اور کیمیکل ایگزامینیشن میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا, اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سوالات صرف کمیشن کی جانب سے کیے جانے چاہییں، جبران ناصر کی جانب سے نہیں۔
اس اعتراض پر جوڈیشل کمیشن نے ایڈووکیٹ جنرل سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ اگر مقتول کے اہل خانہ کو کوئی سوال پوچھنا ہے تو سندھ حکومت کو اس پر کیا اعتراض ہے، کیا آپ کچھ چھپا رہے ہیں۔
کمیشن نے ایڈووکیٹ جنرل کے رویے اور مداخلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی معطل کردی اور وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔














