جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا اور برینٹ کروڈ آئل 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا اور ایران جنگ شروع ہونے کے بعد تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافے سے عالمی توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ری پبلکن جیتے تو ہر بالغ امریکی کو 5 ہزار ڈالر ملیں گے، ٹرمپ کا بڑا اعلان
برینٹ کروڈ فیوچرز میں 4.05 ڈالر یعنی 4 فیصد اضافہ ہوا اور 1215 جی ایم ٹی تک یہ 105.26 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ میں 3.99 ڈالر یعنی 4.15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 100.04 ڈالر تک پہنچ گیا جو مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر گیا۔
اگست کے اوائل میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح سے برنٹ میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے سفارتی مذاکرات ناکام ہو گئے اور لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔
تازہ ترین قیمتوں میں اضافہ آبنائے ہرمز کے گرد تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ہوا جو عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے اہم راستہ ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے کہا کہ اسے خلیجِ عمان میں کئی مرچنٹ جہازوں پر فائرنگ سے انہیں ناقابل استعمال بنائے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔
عراقی بندرگاہ کے حکام کے مطابق ایندھن کے تیل کے تقریباً 20 لاکھ بیرل لے جانے والا ٹینکر ’نیو اینڈروس‘ عراقی پانیوں میں ڈرون کے حملے کے بعد آگ لگنے سے متاثر ہوا۔ اس کے 22 عملے کے ارکان میں سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
Trump on Iran:
There’s another place called Pickaxe Mountain, another nice place. We may have to give them a shot there too. https://t.co/eZvP6ux8cj
— Clash Report (@clashreport) September 10, 2026
جنگ تیز ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے جہاز رانی میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ کیپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق منگل کو صرف 6 کموڈٹی جہاز اس پانی کے راستے سے گزرے جبکہ 10 دن کی اوسط تقریباً 12 تھی۔
ریسٹیڈ انرجی کے چیف اکانومسٹ کلاڈیو گیلیمبرٹی نے کہا کہ 30 اگست کو لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے پہلے والے ہفتے میں روزانہ 80 سے 90 لاکھ بیرل تیل اس آبنائے سے گزر رہا تھا جبکہ حال ہی میں یہ مقدار 20 لاکھ بیرل یومیہ سے کم رہ گئی ہے۔
ٹرمپ کا ایران کو انتباہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایران کو نقصان زدہ نطنز یورینیم افزودگی کی سہولت کے قریب مضبوط ’پک ایکس ماؤنٹین‘ سائٹ پر سرگرمیوں سے متعلق متنبہ کیا۔
ڈلاس میں ریپبلکنز کے درمیانی مدت کے الیکشن کنونشن میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پک ایکس پر تھوڑی سی سرگرمی ہو رہی ہے لہٰذا میں ایران کو مشورہ دوں گا کہ چالاکی نہ کرے کیونکہ ہمیں انہیں بہت سخت ضرب لگانی پڑے گی۔
مزید پڑھیے: نیو امریکا؟ ٹرمپ کی نیو میکسیکو کا نام بدلنے کی تجویز پر تنازع
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ نومبر میں امریکی درمیانی مدت کے الیکشنز کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ تہران سے اس وقت تنازعہ ختم کرنے کی توقع کیوں رکھتے ہیں۔
ڈلاس جانے سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ جنگ الیکشن کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایران الیکشن کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور کہا کہ وہ الیکشن کو متاثر کرنے کی شدید کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ تنازعے کے دوران تیزی سے بڑھنے والی امریکی توانائی کی قیمتیں درمیانی مدت کے الیکشنز کے بعد گر جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ لیکشن کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو جائیں گی۔ ہم انہیں نیچے لائیں گے اور میرا خیال ہے کہ پیٹرول کی قیمت 2 ڈالر فی گیلن سے کم کر دیں گے۔
فروری میں شروع ہونے والے اس تنازعے نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور نومبر کے درمیانی مدت کے الیکشنز سے قبل ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے یہ ایک اہم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ
امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مذاکرات کے ذریعے تنازعے کو مستقل طور پر ختم کرنے کی سفارتی کوششیں ابھی تک کوئی پائیدار معاہدہ نہیں کر سکی ہیں۔
NEW: President Trump insisting gas prices will fall below $2 a gallon after the midterms, saying current high prices are the cost of keeping Iran from obtaining a nuclear weapon.
"Right after the election, oil prices are going to be tumbling downward. They're going to be… pic.twitter.com/qGZk8mSpBU
— Fox News (@FoxNews) September 9, 2026
امریکی فوج نے بدھ کو کہا کہ اس نے پچھلے ایک ہفتے میں ایران کے 10 تیل کے ٹینکرز تباہ کر دیے ہیں جبکہ ایران نے خلیج میں امریکی جہازوں اور تجارتی جہاز رانی پر حملوں کا دعویٰ کیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی آپریشنز کی نگرانی کرنے والے یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ اس کی افواج نے 2 امریکی بحری ڈیسٹرائرز پر حملہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران تنازع ’چھوٹی بات‘ ہے، جنگ نہیں، ٹرمپ نے نائب صدر کے مؤقف کا دفاع کردیا
سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا: ’’کسی بھی امریکی بحری جنگی جہاز پر حملہ نہیں ہوا۔ آئی آر جی سی کے تمام حملے ناکام رہے۔‘‘
سینٹ کام کے مطابق تباہ کیے گئے 10 ایرانی ٹینکرز ایک ’اربوں ڈالر کے شیڈو نیٹ ورک‘ کا حصہ تھے جو ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو مالی وسائل فراہم کرتا ہے۔
تازہ ترین امریکی اعلان منگل کو ایران کے 5 کروڈ آئل کیریئرز کی تباہی کے بعد سامنے آیا ہے۔
سینٹ کام نے کہا کہ اس کی افواج نے ان جہازوں کو اس وقت تباہ کیا جب آئی آر جی سی نے دو دن میں 2 بار ایک امریکی بحری جنگی جہاز پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔
https://twitter.com/CENTCOM/status/2097625485450543588/photo/1?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2097625485450543588%7Ctwgr%5Ee8a5a6ed636cba27a1a433fe867c8f902233dc6e%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwenewsenglish.com%2Fglobal-oil-prices-jump-to-105-a-barrel-as-middle-east-conflict-escalates%2F
امریکی فوج کے مطابق جنگی جہاز نے دونوں حملوں سے کامیابی سے بچاؤ کیا اور کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
سینٹ کام کے مطابق منگل کو تباہ کیے گئے جہاز کاویز، چارمینار، ہوریزن 1، ریسکو اور دریا تھے۔ ان میں سے 4 خلیجِ عمان میں اور ایک ایران کے خارگ جزیرے کے قریب نشانہ بنائے گئے۔
سینٹ کام نے کہا کہ امریکی افواج نے جہازوں پر حملہ کرنے سے پہلے عملے کو انہیں چھوڑنے کا حکم دیا اور پھر انہیں ناقابل استعمال بنا دیا۔ کمانڈ کے مطابق ایران ان ٹینکرز کو آئی آر جی سی اور اس کے علاقائی نمائندوں کی مالی معاونت کے لیے شیڈو نیٹ ورک کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا ’پیس پیکیج‘ محض جنگ بندی نہیں، مستقل قیامِ امن کے لیے ہے، امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر
اس سے پہلے سینٹ کام نے کہا تھا کہ اس نے 7 ستمبر کو ایران کے 3 دیگر کروڈ آئل کیریئرز تباہ کیے تھے جب آئی آر جی سی نے ایک امریکی ایئر کرافٹ کیریئر اور ایک گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائر پر حملے کی کوشش کی تھی۔
ایران کا امریکا کو ’منفرد‘ جواب دینے کا انتباہ
ایران نے امریکا کو اپنے حملے جاری رکھنے سے متعلق انتباہ کیا ہے۔
CENTCOM forces destroyed five Iranian crude oil carriers, Sept. 8, after the Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) targeted a U.S. Navy warship with ballistic missiles twice over the past two days. The U.S. warship successfully evaded the attempted Iranian attacks and… pic.twitter.com/Gi8a2tloN1
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 8, 2026
اسلامی انقلابی گارڈ کور کے سینیئر مشیر اور سابق ترجمان بریگیڈیئر جنرل رمضان شریف نے کہا کہ ایران خطے کی نگرانی کر رہا ہے اور مزید امریکی حملے ایران کے ’منفرد‘ ردعمل کو متحرک کر سکتے ہیں۔
ریاستی ٹی وی چینل پریس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے جنرل رمضان شریف نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے ایک اسٹریٹجک اور روک تھام کا ہتھیار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو بالآخر ’زمینی حقائق‘ کو قبول کرنا پڑے گا۔
اسی دوران ایرانی ریاستی خبر رساں ایجنسی فارس نے جنوبی بندرگاہی شہر جاسک کے قریب دھماکے کی آواز سنائی دینے کی اطلاع دی۔ اس نے کہا کہ آواز سمندر کی طرف سے آئی معلوم ہوتی ہے تاہم اس کی وجہ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔
ایران کے آئی آر جی سی نے بدھ کو کہا کہ اس کی بحری افواج نے امریکا کی جانب سے 5 ایرانی ٹینکرز کی تباہی کے بدلے میں خلیج میں دو امریکی جہازوں اور 8 تیل کے ٹینکرز پر حملہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی حمایت: شام آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر ابھرنے لگا
آئی آر جی سی نے کہا کہ ان حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس نے ان امریکی جہازوں یا ٹینکرز کی نشاندہی نہیں کی جن پر اس کے مطابق حملہ کیا گیا۔
An E/A-18G aircraft launches from the flight deck of USS George H.W. Bush (CVN 77) during night flight operations while the ship supports enforcement of the U.S. blockade against Iran in the Arabian Sea. As of Sept. 7, CENTCOM forces have redirected 94 commercial vessels,… pic.twitter.com/yEQ7oKC5Jo
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 7, 2026
آئی آر جی سی نے یہ بھی کہا کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز کے ’ممنوعہ اور غیر محفوظ‘ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مزید 10 جہازوں کو نشانہ بنایا۔
سینٹ کام نے کسی بھی امریکی بحری جنگی جہاز کے متاثر ہونے کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ امریکی فوج نے کہا کہ اس کے جنگی جہازوں پر آئی آر جی سی کے تمام حملے ناکام رہے۔
ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے
تازہ ترین تصادم نے تنازعے کو فوجی اہداف سے آگے بڑھا کر آبنائے ہرمز کے گرد تجارتی جہاز رانی تک پھیلا دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا کی جانب سے پانچ ایرانی ٹینکرز تباہ کیے جانے کے بعد ایران نے 10 جہازوں پر حملہ کیا۔ یہ حملے جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں فریقوں کی جانب سے جہاز رانی پر سب سے بڑے اعلان کردہ جوابی حملوں کی لہر تھے۔
آئل پروڈکٹس ٹینکر ’ہرکیولیس اسٹار‘ دبئی کے قریب لنگر انداز ہونے کے دوران حملے کا نشانہ بنا۔ عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا لاپتا ہے۔ رائٹرز کے حوالے سے میری ٹائم سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ جہاز پر ممکنہ طور پر ڈرون سے حملہ کیا گیا۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے کہا کہ اسے خلیجِ عمان میں کئی مرچنٹ جہازوں پر فائرنگ سے انہیں ناقابل استعمال بنائے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔
IRGC warns of more ‘unique’ surprises if enemy continues aggressionhttps://t.co/cPEWx2Preu
— Press TV 🔻 (@PressTV) September 9, 2026
عراقی بندرگاہ کے حکام نے کہا کہ تقریباً 20 لاکھ بیرل ایندھن کا تیل لے جانے والا ٹینکر ’نیو اینڈروس‘ عراقی پانیوں میں ڈرون کے حملے کے بعد آگ لگنے سے متاثر ہوا۔ جہاز میں 22 عملے کے ارکان تھے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
اس تشدد نے آبنائے ہرمز پر خدشات کو شدید کر دیا ہے جو ایران اور عمان کے درمیان عالمی تیل کی جہاز رانی کا اہم راستہ ہے۔
عام طور پر اس پانی کے راستے سے دنیا کے تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے تاہم تنازعہ تیز ہونے کے بعد ٹریفک میں تیزی سے کمی آئی ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے راستے کو بڑی حد تک بند کیا ہوا ہے جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ٹینکرز کو اس پانی کے راستے سے گزارنے میں کامیاب رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ حالیہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف 6 جہاز فعال ٹرانسپونڈرز کے ساتھ اس آبنائے سے گزرے۔














