پنڈت برج نارائن چکبست کا ایک شعر!

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شعرا دریا کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ایک فلسفی یا ریاضی دان کو جس نکتے کو سمجھانے کے لیے ضخیم کتب تحریر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، شعرا کرام اسی نکتے کو شعر کے قالب میں ڈھال کر ایک لطیف پیرائے میں پیش کر دیتے ہیں۔ جس میں حسنِ ترتیب کے ساتھ ساتھ معنوی اسرار بھی پنہاں ہوتے ہیں۔

معروف ہندو شاعر پنڈت برج نارائن چکبست کا ایک شعر فلسفے اور معنویت کے اعتبار سے نہایت باوزن، لطافت سے بھرپور اور موت و حیات کے نظریے کو پرُاثر انداز میں بیان کرتا ہے۔

زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہورِ ترتیب

موت کیا ہے، انہی اجزاء کا پریشاں ہونا

سماعتوں کو لطف دینے کے ساتھ ساتھ اس شعر کی حقیقی معنویت فکر و تحقیق کے بے پایاں دریچے کھول دیتی ہے۔ ہمارے ہاں موت و حیات کا عمومی تاثر استاد ابراہیم ذوق کے اس مصرعے کی مانند ہے کہ

لائی حیات آئے، قضا لے چلی، چلے

یعنی مرد و عورت کے ملن سے ایک انسان معرضِ وجود میں آتا ہے، نشو و نما پاتا ہے، اوجِ کمال کو پہنچتا ہے، بوڑھا ہوتا ہے اور بالآخر مر جاتا ہے۔ حقیقت بھی کسی حد تک یہی ہے لیکن اگر بالخصوص اس شعر کے پیرائے میں غور و خوض کیا جائے تو یہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ نمایاں اور لطیف معلوم ہوگی۔

عناصر سے یہاں کیا مراد ہے؟ لغت میں عناصر سے مراد اجزاء، حصے یا Elements  ہیں۔ یہاں تک تو بات واضح ہے کیونکہ انسان بھی مختلف عناصر کا ہی مرکب ہے۔ مگر اس گرہ کو کھولنے کے لیے یونان کے عظیم فلسفی ارسطو کی مدد درکار ہوگی۔

ارسطو کا نظریہِ صورت و مادہ (Hylomorphism) کچھ اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ارسطو کے نزدیک فلسفہِ حیات میں زندگی مادے کی منظم حالت کا نام ہے۔ اس کے مفہومِ کے مطابق مادہ (Matter) ایک خام شے ہے جس کی اپنی کوئی بنیادی شکل یا فعلیت نہیں ہوتی، جبکہ صورت (Form) وہ جوہر ہے جو مادے کو ایک شکل اور ترتیب فراہم کرتا ہے، جس سے وہ فعال ہو جاتا ہے۔ مادہ بالذات بے جان ہوتا ہے۔ اس تناظر میں فارم کو روح اور مادے کو مختلف عناصر کہا جا سکتا ہے۔ روح کے بغیر عناصر سے بنا قالب یا جسم بے معنی ہے۔ اسی فلسفے سے آگے چل کر ما بعد الطبیعات یا میٹا فزکس کی بنیاد پڑتی ہے۔

انسان کے بنیادی عناصر کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن پر مشتمل ہیں۔ یہ عناصر مل کر ڈی این اے اور خلیے بناتے ہیں اور خلیوں کا یہی منظم نظام زندگی کہلاتا ہے۔ گویا ان کی ایک خاص صورت میں ترتیب ہی زندگی ہے۔ اب اگر اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہر شے ایک مناسب ترتیب میں نظر آئے گی۔

کائناتی و شمسی نظام، شب و روز کا بدلنا، حتیٰ کہ کسی مکان کی تعمیر بھی ایک منظم ترتیب کی ہی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک شعر کو دیکھ لیجیے۔ اگر اس میں وزن کے حساب سے الفاظ ایک خاص ترتیب میں نہ ہوں تو وہ شعر نہیں کہلا سکتا۔ یہاں پیر نصیر الدین نصیر کا ایک مصرع یاد آتا ہے جس میں وہ شعر کو لطافتِ فطرت سے جوڑتے ہیں کہ فطرت کے مناظر و مقاصد میں جو  Rhythm یا ترتیب و لطافت پائی جاتی ہے وہی شعر میں بھی موجود ہوتی ہے اور وہی اس کا اصل حسن ہے۔

فطرت کے اس نظم کی گواہی تو قرآنِ مجید بھی دیتا ہے کہ تمام اجرامِ فلکی اپنے معینہ محور میں تیر رہے ہیں۔ سورۃ الانبیاء میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اور وہی ( اللہ ) ہے جس نے  رات  اور  دن  کو  پیدا  کیا اور سورج اور  چاند  کو ( بھی ) ، تمام ( آسمانی کرّے ) اپنے اپنے مدار کے  اندر  تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیں

اسی مفہوم کو افتخار عارف نے نہایت ہی صوفیانہ رنگ میں پیش کیا۔

میانِ عرصہِ موت و حیات رقص میں ہے

اکیلا میں نہیں، کل کائنات رقص میں ہے

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام اجرام و اشیاء کا ارتقاء و ظہور کیسے ہوا؟ آج سے تقریباً 14 بلین سال پہلے ایک عظیم دھماکہ ہوتا ہے جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ جس کے بعد مختلف چیزیں ظہور پذیر ہوتی ہیں؛ مثلاً اجرامِ فلکی اور کیمیائی عناصر کی بنیاد۔ کوئی ستارہ جب اپنی طبعی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے جسے سپر نووا کہتے ہیں۔ اس کی بیرونی سطح کو نیبولا کہا جاتا ہے جو مٹی اور گیسوں کا ایک بادل ہوتا ہے۔ اس بادل میں مختلف کیمیائی عناصر اور اجزاء پائے جاتے ہیں جو کششِ ثقل کی مدد سے زمین تک پہنچتے ہیں۔ (یہاں یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ دھماکہ عموماً بد نظمی اور بے ترتیبی کو جنم دیتا ہے تو اس کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والی اس شدید نظم و ترتیب کی آخر کیا وجہ ہے؟)

مگر یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ انسان کی خلقت میں یہ تمام اجزاء و عناصر کیسے آئے؟ اس کی تفسیر اور تفہیم کے لیے سورۃ الحج کی آیت مبارکہ اور اہلیانِ تصوف کے نکتہ نظر سے استفادہ کرنا پڑے گا۔

اے لوگو! اگر تمہیں (مرنے کے بعد) جی اٹھنے میں شک ہے تو (اپنی تخلیق و ارتقاء پر غور کرو کہ) ہم نے تمہاری تخلیق (کی کیمیائی ابتداء) مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک تولیدی قطرہ سے پھر (رِحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلق وجود سے پھر ایک (ایسے) لوتھڑے سے جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، جس میں بعض اعضاء کی ابتدائی تخلیق نمایاں ہو چکی ہے اور بعض (اعضاء) کی تخلیق ابھی عمل میں نہیں آئی تاکہ ہم تمہارے لئے (اپنی قدرت اور اپنے کلام کی حقانیت) ظاہر کر دیں، اور ہم جسے چاہتے ہیں رحموں میں مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، اور تم میں سے وہ بھی ہیں جو (جلد) وفات پا جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نہایت ناکارہ عمر تک لوٹائے جاتے ہیں تاکہ وہ (شخص یہ منظر بھی دیکھ لے کہ) سب کچھ جان لینے کے بعد (اب پھر) کچھ (بھی) نہیں جانتا، اور تو زمین کو بالکل خشک (مُردہ) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو اس میں تازگی و شادابی کی جنبش آجاتی ہے اور وہ پھولنے بڑھنے لگتی ہے اور خوش نما نباتات میں سے ہر نوع کے جوڑے اگاتی ہے

اہلیانِ تصوف کی نگاہ میں انسان کی پیدائش و ارتقاء کے تقریباً 21 سے 22 مختلف مراحل ہیں جن کا بیان ایک حدیث میں بھی ملتا ہے اور صوفیاء کے فلسفہِ قوسِ نزول و صعود میں بھی (چونکہ ہم فی الوقت جسمانی ہیئت پر بات کر رہے ہیں اس لیے اس فلسفے کی گہرائی میں جانا طوالت کا باعث ہوگا)۔

ان مراحل کا آغاز تراب یعنی مٹی سے ہوتا ہے، پھر نبات، غذا، نطفہ اور علقہ سے ہوتا ہوا یہ سفر میت اور بالآخر دوبارہ تراب و نبات تک جاتا ہے۔ یہاں مرزا غالب کا ایک شعر یاد آتا ہے

 

سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی جو پنہاں ہو گئیں

ان مراحل سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان بالآخر اسی حالت میں پہنچ جاتا ہے جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا۔ مولانا روم مثنوی میں فرماتے ہیں

از جمادی مُردم و نامی شدم

وز نما مُردم به ‌حیوان سرزدم

مُردم از حیوانی و آدم شدم

پس چه ترسم؟ کی ز مردن کم شدم؟

(یعنی میں بے جان مٹی کی حالت میں مرا تو نباتات بن کر اگا۔ جب پودے کی حالت سے مرا تو حیوان کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اور جب حیوانی سطح سے مرا تو انسان بن گیا۔ تو پھر میں موت سے کیوں ڈروں؟ مرنے سے میں کب کم ہوا ہوں؟)

یہاں مولانا روم کے مریدِ ہندی حضرتِ اقبال کی نظم “آدم” یاد آ رہی ہے مگر اس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔

چکبست چونکہ خود ہندو تھے اس لیے یہاں ہندو مت کے نظریے پنج مہا بھوت کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اس فلسفے کے مطابق کائنات اور انسان کی تخلیق میں پانچ عناصر کارفرما ہیں: پرتھوی یعنی زمین، جل یعنی پانی، اگنی یعنی آگ، وایو یعنی ہوا اور آکاش یعنی خلا۔ مرنے کے بعد انسان انہی پانچ عناصر میں تحلیل ہو جاتا ہے جسے “پنج تتو میں لین” ہونا کہتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کے ہاں مفہوم ہے کہ انسان مر کر تراب بن جاتا ہے۔ بدھ مت میں “انتا” کا فلسفہ بھی کچھ اس سے ملتا جلتا ہی ہے۔

اب ہم یہ جان چکے ہیں کہ انسان درحقیقت مختلف عناصر کی ایک خاص ترتیب کا مرکب ہے اور موت بنیادی طور پر عدمِ ترتیب و عدمِ نظم کا نام ہے۔ جس طرح انسان یا کائنات کی زندگی عناصر کی ترتیب کی مرہونِ منت ہے۔ بالکل اسی طرح عناصر کا پریشان یا منتشر ہو جانا موت کا سبب بنتا ہے۔ اگر ارسطو کی فارم کو روح یا امرِ ربی مان لیا جائے تو جب وہ فارم نکل جاتی ہے تو پیچھے صرف بے جان مادہ رہ جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو قیامت واقع ہو جائے گی یعنی کائناتی ترتیب اور نظم میں ایک شدید انتشار آئے گا جو کائنات کی موت کا پیش خیمہ ہوگا۔ آسمان پھٹ جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ یہ سب مختلف عناصر کے عدمِ نظم ہی کا نتیجہ ہوگا۔

خود انسان کو ہی دیکھ لیجیے۔ سورۃ العصر میں ارشاد ہے کہ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے، نشو و نما پاتا ہے، پروان چڑھتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ بینائی کمزور ہوتی ہے، ہاضمہ خراب ہوتا ہے اور پٹھے جواب دینے لگتے ہیں۔ کمزوری و نقاہت کے عالم میں انسان بالآخر پھر بچے کی مانند ہو جاتا ہے

جسم کے ہو گئے حالات بتدریج بتر

خاک پر تیشہِ حالات کے ادوار گرے

یہاں تھرموڈائینامکس کے دوسرے قانون اینٹروپی (Entropy) کا ذکر بھی نہایت ضروری ہے۔ اس قانون کے مطابق کائنات کا نظام قدرتی طور پر نظم و ترتیب سے بے ترتیبی اور عدمِ نظم کی طرف جا رہا ہے۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

کیا معلوم کائنات کا اختتام ہی اس کا تمام ہونا ہی ہو؟ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن اور جدید سائنس یہ کہتے ہیں کہ کائنات مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہے، تو پھر کائنات کے اختتام اور اینٹروپی کا کیا جوڑ ہے؟ اس ضمن میں سائنس دانوں نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں؛ جن میں بگ رِپ، بگ فریز اور بگ کرنچ وغیرہ شامل ہیں، جن کا مطالعہ قارئین کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر جو کائنات کے 95 فیصد سے زائد حصے پر محیط ہے۔ سائنس ابھی تک ان کی حقیقت سے بے خبر ہے۔ ان کا یقیناً کائنات کے اختتام سے گہرا تعلق ہوگا!

خیر، ہم انسان کے خسارے کی طرف واپس آتے ہیں۔ جسمانی طور پر تو انسان کو خسارے کی طرف جانا ہی ہے اور اس کا کوئی طبعی توڑ نہیں۔ لیکن جو روحانی بیماریاں آج کل عام ہیں میری ناقص فہم میں وہ جسمانی تنزلی سے کہیں زیادہ تشویش ناک ہے۔ احمد جاوید صاحب کے مطابق آدمیت کا تصور اب ختم ہوتا جا رہا ہے اور انسان رفتہ رفتہ ڈی ہیومنائزیشن (Dehumanization) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ میرے نزدیک اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔

اول تو  علم سے دوری، جاننے کے شوق کا فقدان، عدمِ دلچسپی، روحانی تربیت کی کمی، اخلاقی تنزلی اور مادہ پرستی۔

احمد جاوید صاحب کی یوٹیوب پر ایک ویڈیو “نارمل آدمی” کے عنوان سے موجود ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ آج انسان نے مادہ پرستی ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ اگر کوئی پروگرامر ہے تو وہ اسی میں محو ہے بس اپنی خرید و فروخت میں لگا ہے، اسے نہ اپنے ارد گرد کی خبر ہے اور نہ ہی وہ اپنی ذات کی پہچان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کا ایک جملہ اس پورے المیے کو کوزے میں بند کر دیتا ہے “لوگ خودی حاصل کیے بغیر خود فراموشی کا شکار ہو رہے ہیں۔” یہ ایک انتہائی گہری بات ہے۔

دوم، انسان ڈی ہیومنائز ہو کر ایک طرح سے مشین بنتا جا رہا ہے۔ محبت، جذبات و احساسات سے عاری اور شدید ذہنی انتشار کا شکار وجود۔

اس روحانی خسارے سے بچنے کا راستہ سورۃ العصر کی بقیہ دو آیات میں بھی موجود ہے اور برج نارائن چکبست کی اسی غزل کے مطلع میں بھی۔

دردِ دل، پاسِ وفا، جذبہِ ایماں ہونا

آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

ذرا غور کیجیے کہ معاشرے میں جس تیزی سے بگاڑ آ رہا ہے، کیا اس کی اصل وجہ یہی نہیں ہے؟  عناصر کا یہ کھیل، یہ دنیائے دوں اور موت و حیات تو اپنی جگہ موجود ہیں ہی۔ مگر اصل اور ابدی موت درحقیقت انسان کی “روحانی تنزلی” ہے۔ ورنہ رومی کے مطابق انسان تو اپنی شکل و ہیئت بدلتا رہتا ہے۔

ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین پر ایک بھی مردِ مومن موجود ہوگا۔ یعنی مومن کے وجود میں کچھ ایسی روحانی صفات ہیں جو کائنات کے عناصر کو پریشان اور منتشر ہونے سے روکے ہوئے ہیں۔ ورنہ عام آدمی تو ‘لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے’ کا مصداق ہے لیکن جب تک “آدم” یعنی مومن موجود ہے، یہ نظام قائم ہے۔ جب وہ نہیں رہے گا تو قیامت آ جائے گی اور تمام عناصر عدمِ نظم کا شکار ہو کر پریشان ہو جائیں گے۔

علامہ اقبال کی نظم “آدم” اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور اس کا آخری شعر تو حیرت کے نئے دریچے کھول دیتا ہے

طلسمِ بود و عدم، جس کا نام ہے آدم

خدا کا راز ہے، قادر نہیں ہے جس پہ سخن

زمانہ صبحِ ازل سے رہا ہے محوِ سفر

مگر یہ اس کی تگ و دو سے ہو سکا نہ کہن

اگر نہ ہو تجھے الجھن تو کھول کر کہہ دوں

وجودِ حضرتِ انسان نہ روح ہے نہ بدن!

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp