انگلینڈ نے ایجبسٹن میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-3 سے تاریخی کلین سویپ کر لیا ہے۔ کپتان جو روٹ اور جورڈن کاکس کی ذمہ دارانہ نصف سنچریوں نے ہدف کا تعاقب انتہائی آسان بنا دیا۔
انگلش ٹیم کے لیے 130 رنز کے ہدف کا تعاقب ابتدا میں انتہائی پریشان کن رہا۔ میچ کے پہلے ہی اوور میں اوپنر بین ڈکٹ اور ایمیلیو گے پویلین لوٹ گئے، جس سے ہوم ٹیم شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں:بابر اعظم انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے دستیاب ہوں گے یا نہیں؟ کپتان نے بتا دیا
تاہم اس نازک صورتحال میں کپتان جو روٹ اور جورڈن کاکس نے کریز سنبھالی اور انتہائی پراعتماد بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ دونوں بلے بازوں نے ناقابل شکست رہتے ہوئے شاندار نصف سنچریاں سکور کیں اور ٹیم کو ابتدائی بحران سے نکال کر فتح کی منزل تک پہنچا دیا۔
اس فیصلہ کن شراکت داری میں جو روٹ نے 62 اور کاکس نے 59 رنز کی دلکش اننگز کھیلیں۔ پاکستان کے طرف سے دونوں کھلاڑیوں کو محمد عباس نے آؤٹ کیا۔
اس سے قبل پاکستان نے اپنی اننگز میں 449 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا اور انگلینڈ کو جیت کے لیے 130 رنز کا ہدف دیا۔ پاکستانی بیٹنگ لائن کی جانب سے رضاللہ نے 81 رنز کی شاندار اور جارحانہ اننگز کھیلی۔
ان کے علاوہ، محمد عباس نے بھی 42 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیل کر ٹیم کے مجموعی سکور میں اہم کردار ادا کیا، لیکن یہ مجموعی کوششیں بالآخر ٹیم کو شکست سے بچانے کے لیے ناکافی ثابت ہوئیں۔
مزید پڑھیں:برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ کی تباہ کن بیٹنگ، پاکستان کی میچ میں واپسی، انگلینڈ کو 130 رنز کا ہدف دے دیا
انگلینڈ کی یہ فتح ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ 3 میچوں کی سیریز کے تمام مقابلوں میں تسلسل کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھا کر انگلینڈ نے نہ صرف ہوم گراؤنڈ پر اپنی برتری ثابت کی ہے، بلکہ پاکستانی ٹیم کو ہر شعبے میں آؤٹ کلاس کر کے یہ تاریخی ‘وائٹ واش’ اپنے نام کیا ہے۔
حالیہ سیریز میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اور حکمت عملی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں، جن کا بغور جائزہ لینا مستقبل کی سیریز کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔













