اگلے سال لاہور میں بسنت کیسے منائی جائے گی؟

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت پنجاب نے لاہور میں محفوظ بسنت 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو منانے کا فیصلہ حتمی کر لیا ہے۔

سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ 3 دن بسنت 2026 کی کامیاب بحالی کے بعد شہر میں روایتی تہوار کو منظم اور محفوظ انداز میں منانے کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔

مقررہ تاریخوں سے پہلے یا بعد میں پنجاب بھر میں پتنگ بازی سخت پابندی کے زمرے میں رہے گی اور خلاف ورزی پر فوری قانونی کارروائی ہوگی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ کامیاب بسنت 2026 کے بعد لاہور بسنت 2027 رنگ، ثقافت، موسیقی اور مہمان نوازی کے ساتھ منائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت 2027 کی تیاریاں شروع، پتنگ سازوں کی رجسٹریشن کب شروع ہوگی؟

یاد رہے کہ فروری 2026 میں تقریباً 18 سالہ پابندی کے بعد پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائینگ ایکٹ کے تحت محدود اور مشروط اجازت دی گئی تھی۔

اب محکمہ داخلہ نے اگلے بسنت  میلے سے مہینوں پہلے حفاظتی فریم ورک مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے تاکہ جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

سیکریٹری داخلہ کے مطابق غیر محفوظ یا کمزور چھت پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔ چھت کی دیوار اور گرل کم از کم ساڑھے 3 فٹ بلند اور مضبوط ہونا لازم ہے۔

چھت کی پائیداری کی ذمہ داری مالک مکان پر ہوگی، اجازت یافتہ مقامات پر چھتیں، منڈیر اور سیڑھیاں مرمت کرائی جائیں گی۔ مالکان کو 31 دسمبر 2026 تک تمام حفاظتی انتظامات مکمل کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور پرانی عمارتوں کا مکمل معائنہ کرائیں گے اور غیر مطمئن رپورٹ کی صورت میں بسنت کے دنوں میں بھی کمزور چھت پر پتنگ نہیں اڑائی جا سکے گی۔ خلاف ورزی پر عمارت سیل بھی کی جا سکتی ہے۔

نئے ضوابط کے مطابق بچوں کو بغیر بالغ نگرانی کے چھت کے کنارے نہیں جانے دیا جائے گا۔ دوڑنا، کودنا، کنارے سے لٹکنا اور چھت پر حد سے زیادہ بھیڑ ممنوع ہے۔ افراد کی تعداد چھت کی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت سے زیادہ نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں:بسنت کے دوران اخراجات، لاہور پولیس نے پنجاب حکومت سے کروڑوں روپے طلب کرلیے

منتظمین ہجوم کنٹرول اور حفاظتی ہدایات پر عمل کے پابند ہوں گے۔ بلند آواز والی موسیقی، ڈی جے اور شور مچانے والے سسٹم پر پابندی ہوگی۔ ہر مقام پر فرسٹ ایڈ کٹ دستیاب ہونا ضروری ہے۔ کسی حادثے، زخمی یا قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مالک مکان اور منتظمیں دونوں ذمہ دار ٹھہریں گے۔

ٹریفک پولیس بسنت سے پہلے 20 لاکھ سے زیادہ موٹرسائیکلوں پر مفت سیفٹی راڈز نصب کرے گی۔ لیسکو تمام تنصیبات پر حفاظتی نیٹ لگائے گی جبکہ چھت کے قریب بجلی کی تاریں محفوظ بنانا مالک کی ذمہ داری ہوگی۔

پی ایچ اے درختوں اور کھمبوں سے پتنگیں محفوظ طریقے سے اتارنے کا پابند ہوگا۔ لفٹس کے لیے سیفٹی سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا اور چھتوں پر آتش گیر مواد رکھنا منع ہوگا۔

پتنگ اور سوتی ڈور کی تیاری، ترسیل اور فروخت صرف اجازت نامے پر ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ نے مینوفیکچررز کی رجسٹریشن ستمبر میں شروع کر دی ہے تاکہ منظور شدہ سائز کی پتنگ اور صرف کاٹن ڈور دستیاب ہو۔

کیمیکل، شیشہ یا دھاتی تار والی ڈور پر پابندی رہے گئی ۔ فروخت کنندگان کی رجسٹریشن بعد میں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت کے اخراجات اور سیکیورٹی اقدامات کی تفصیلات طلب

مقررہ 3 دنوں سے پہلے یا بعد پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ اجازت کے بغیر پتنگ یا ڈور بنانے، بھیجنے یا بیچنے پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

حکام کا مؤقف ہے کہ بسنت لاہور کی ثقافتی شناخت ہے مگر تفریح انسانی جان سے بڑی نہیں۔ محفوظ بسنت اسی صورت ممکن ہے جب مالکان، منتظمین اور شہری قوانین پر عمل کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp