پنجاب حکومت کے اہم فلاحی منصوبے دھی رانی پروگرام کے تحت غریب اور مستحق خاندانوں کی بیٹیوں کی اجتماعی شادیاں تیزی سے جاری ہیں۔ پروگرام کے مختلف مراحل میں 5 ہزار جوڑے رشتہ ازدواج سے منسلک ہو چکے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے لیے بھی مزید اتنی ہی اجتماعی شادیوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کا سلسلہ اکتوبر سے شروع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام، اب تک پنجاب حکومت کتنے جوڑوں کی شادیاں کروا چکی ہے؟
یہ منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال پنجاب چلا رہا ہے۔ اس کا مقصد ان والدین کو سہارا دینا ہے جو مالی تنگی کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کروا پاتے۔
پروگرام کب شروع ہوا؟
صوبائی کابینہ نے اکتوبر 2024 میں اس منصوبے کی منظوری دی اور اسی مہینے آن لائن پورٹل بھی شروع کر دیا گیا۔ عملی طور پر پہلی بڑی تقریب 11 جنوری 2025 کو لاہور میں ہوئی جس میں 51 جوڑوں کی شادیاں کرائی گئیں۔ ان میں اقلیتی برادری اور خصوصی افراد کے جوڑے بھی شامل تھے۔
مزید پڑھیے: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز دوبارہ سیاسی طور کیوں متحرک ہوئے ؟
پہلے مالی سال 2024-25 میں تقریباً تین ہزار شادیاں ہوئیں۔ بعد میں حکومت نے سالانہ ہدف بڑھا کر 5 ہزار کر دیا۔ نومبر 2025 تک 9 مہینوں میں 66 تقریبات منعقد ہو چکی تھیں جن میں 5 ہزار جوڑے شادی کر چکے تھے۔ مالی سال 2025-26 میں 5 ہزار شادیوں کا ہدف بھی پورا کیا گیا۔ اب نئے مالی سال میں دوبارہ 5 ہزار شادیوں کا سلسلہ اکتوبر سے شروع ہوگا۔
ایک شادی پر حکومت کتنا خرچ کرتی ہے؟
شروع میں ہر جوڑے کو ایک لاکھ روپے نقد سلامی دی جاتی تھی۔ جون 2025 کے بعد وزیراعلیٰ کی ہدایت پر یہ رقم بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دی گئی۔ یہ رقم ’دھی رانی سلامی کارڈ کی صورت میں بینک آف پنجاب کے اے ٹی ایم سے نکالی جا سکتی ہے۔
نقد امداد کے علاوہ تقریباً 2 لاکھ روپے مالیت کا گھریلو سامان بھی الگ سے دیا جاتا ہے۔ اس پیکج میں عام طور پر ڈبل بیڈ بمعہ میٹرس، ڈنر سیٹ، کچن کا سامان، آئینہ، عروسی جوڑا، قرآن پاک اور جائے نماز شامل ہوتے ہیں۔
اس کے ساتھ حکومت خود مکمل تقریب کا بندوبست کرتی ہے جس میں وینیو، کھانا اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ ہر جوڑے کے تقریباً 20 مہمانوں کے کھانے کا انتظام بھی حکومت کرتی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے لیے اس پروگرام پر 1.70 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
درخواست دینے کے کتنے عرصے بعد شادی ہوتی ہے؟
دھی رانی پروگرام میں درخواست آن لائن پورٹل، مریم کو بتائیں ایپ یا ضلعی سوشل ویلفیئر دفتر میں جمع کرائی جاتی ہے۔ اس کے بعد تحصیل سطح کی تصدیقی کمیٹیاں گھر جا کر چیک کرتی ہیں کہ درخواست دہندہ واقعی مستحق ہے یا نہیں۔ ڈومیسائل، آمدن، غیر شادی شدہ ہونا اور رشتہ طے شدہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔
تصدیق کے بعد منتخب جوڑوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے تقریب کی تاریخ اور مقام بتایا جاتا ہے۔ شادی ضلعی یا ڈویژنل سطح پر ہونے والی اجتماعی تقریب میں شامل کی جاتی ہے۔ تاریخ کا حتمی فیصلہ حکومت کرتی ہے مگر دراخوست دہند کا شادی تقریب کی یقین دہانی ایک ماہ کے اندر دئے دی جاتی ہے ۔اس پروگرام کے تحت تمام مذاہب کے جوڑے بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سہیل شوکت بٹ کا کہنا ہے کہ دھی رانی پروگرام غریب والدین کے لیے بڑا سہارا بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شادی کے اخراجات بہت سے گھرانوں پر بھاری بوجھ ہوتے ہیں اس لیے حکومت کی یہ مدد بیٹیوں کو باعزت انداز میں رخصت کرنے میں مدد دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں: وہ 5 پروجیکٹس جو سال رواں میں پنجاب کے لوگوں کو بڑا ریلیف دے سکتے ہیں
سہیل شوکت بٹ کا کہنا ہے کہ نئے مرحلے میں مزید شفافیت اور وسعت ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔












