پنجاب حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں اس سال صوبے کے عوام کو معاشی، ماحولیاتی اور سماجی ریلیف دینے کے لیے متعدد بڑے پروجیکٹس تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان میں الیکٹرک بسیں، الیکٹرک گاڑیاں (بشمول ای ٹیکسی)، کسان کارڈ کے ذریعے کسانوں کو ریلیف، ستھرا پنجاب صفائی مہم اور اپنی چھت اپنا گھر سکیم شامل ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی تاریخی سرمایہ کاری اور نئی سہولیات عوام کو بڑا فائدہ پہنچا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی 2 ماہ کی تنخواہیں کفایت فنڈ میں دیں گے
یہ پروجیکٹس نہ صرف روزمرہ زندگی آسان بنا رہے ہیں بلکہ ماحول دوست، سستی اور پائیدار ترقی کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔
الیکٹرک بسیں: جدید پبلک ٹرانسپورٹ
پنجاب میں الیکٹرک بسوں کا نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرک بسیں متعارف کرائی جا چکی ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 میں 2000 مزید بسیں شامل کرنے کا ہدف ہے۔ یہ بسیں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، ساہیوال اور دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ 148 تحصیلوں تک پہنچ رہی ہیں۔ جدید سہولیات، جیسے وائی فائی، سی سی ٹی وی اور آرام دہ نشستوں سے آراستہ ان بسوں کو وزیراعلیٰ مریم نواز نے ’گرین انیشیٹو‘ قرار دیا ہے، جو صوبے کو کلین موبیلیٹی کی جانب لے جا رہا ہے۔
ای ٹیکسی سکیم: بے روزگاروں کے لیے نئے روزگار کے مواقع
پنجاب نے پاکستان کی پہلی بڑی ای ٹیکسی سکیم شروع کی ہے۔ پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرک ٹیکسیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت مردوں کے لیے 50 فیصد اور خواتین کے لیے 60 فیصد ڈاؤن پیمنٹ خود ادا کر رہی ہے، جبکہ باقی رقم آسان اقساط میں لی جا رہی ہے۔ رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکس اور سود بھی معاف ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے
اس پروجیکٹ سے بے روزگار نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ اس پروجیکٹ میں پینک بٹن کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔ اگر کسی خاتون کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراسانی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہ فوری طور پر پینک بٹن کے کیو آر کوڈ کے ذریعے پولیس کو اطلاع دے سکتی ہے۔ یہ اسکیم ٹرانسپورٹ وژن 2030 کا حصہ ہے اور الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے منصوبے کے ساتھ بھی آگے بڑھ رہی ہے۔
کسانوں کو سود سے نجات اور براہِ راست سپورٹ
چیف منسٹر کسان کارڈ نے لاکھوں کسانوں کی زندگی بدل دی ہے۔ اب تک 8 لاکھ سے زائد چھوٹے کسانوں کو کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ ہر سیزن میں بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی خریداری کے لیے 1.5 لاکھ روپے تک کا سود سے پاک قرضہ دیا جا رہا ہے۔ گندم سپورٹ کے طور پر 5,000 روپے فی ایکڑ بھی براہِ راست کارڈ میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری آئی ہے۔ اربوں روپے کے قرضے اور سبسڈیز براہِ راست کسانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ یہ کارڈ زراعت کے شعبے کو جدید اور خودمختار بنا رہا ہے۔
ستھرا پنجاب
ستھرا پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا مربوط ویسٹ مینجمنٹ پروگرام ہے، جو 36 اضلاع اور 141 تحصیلوں میں کام کر رہا ہے۔ روزانہ 57,000 ٹن کچرا اکٹھا کیا جا رہا ہے، کھلی نالیاں صاف کی جا رہی ہیں اور لینڈ فل سائٹس کو ویسٹ ٹو انرجی اور ری سائیکلنگ مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ 150000 سے زائد صفائی کارکن دن رات کام کر رہے ہیں۔
گلیاں، بازار اور دیہی علاقے صاف ستھرے ہو رہے ہیں، جبکہ صحت کے مسائل میں بھی کمی آ رہی ہے۔ کچرے سے بائیو گیس اور بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ یہ پروجیکٹ صوبے کو زیرو ویسٹ پنجاب کی جانب لے جا رہا ہے۔
اپنی چھت اپنا گھر اسکیم: گھر کے خواب کی تکمیل
اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے۔ اپنی زمین (5 مرلہ شہری اور 10 مرلہ دیہی) پر گھر بنانے کے لیے 15 لاکھ روپے تک کا سود سے پاک قرضہ دیا جا رہا ہے، جبکہ اس اسکیم میں حکومت سبسڈی کی مد میں بھی بڑا حصہ ادا کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں گندم کی قلت ہے نہ ہی درآمد کرنے کی ضرورت، صوبائی وزیر زراعت
اب تک 135410 سے زائد خاندانوں کو امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ 91000 سے زیادہ گھر مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ 42000 گھروں پر تعمیراتی کام جاری ہے، جو اس مالی سال کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔












