فرنچ اوپن کے بعد زیورِف نے یو ایس اوپن بھی اپنے نام کر لیا

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی کے ٹاپ سیڈ الیگزینڈر زیورِف نے امریکی کھلاڑی بین شیلٹن کو سخت مقابلے کے بعد شکست دے کر یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

زیورِف نے فائنل میں شیلٹن کو 3-6، 6-7، 7-5، 2-6 سے ہرا کر 6 سال قبل ضائع ہونے والے سنہری موقع کا ازالہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایلینا ریباکینا نے ٹاپ سیڈ سبالینکا کو ہرا کر یو ایس اوپن ٹائٹل جیت لیا

زیورِف کے لیے یہ کامیابی خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ 2020 کے یو ایس اوپن فائنل میں وہ آسٹریا کے ڈومینک تھیم کے خلاف 2 سیٹس کی برتری حاصل کرنے کے باوجود ٹائٹل جیتنے میں ناکام رہے تھے۔

تاہم رواں سال جون میں فرنچ اوپن میں پہلی گرینڈ سلام کامیابی کے بعد زیورِف نے خود اعتمادی اور فاتحانہ ذہنیت حاصل کی، جس کا مظاہرہ انہوں نے نیویارک کے فائنل میں بھی کیا۔

فتح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زیورِف نے کہا کہ خدا نے ان کی محنت، مشکلات اور تکالیف کو دیکھا اور 2026 میں انہیں گزشتہ تمام برسوں کی محنت کا صلہ ملا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ تقریباً تمام شائقین شیلٹن کی حمایت کر رہے تھے، تاہم انہوں نے امریکی تماشائیوں کے منصفانہ رویے کو سراہا۔

دلچسپ امر یہ تھا کہ زیورِف کو میچ ختم ہونے کا فوری طور پر احساس بھی نہ ہوا۔ شیلٹن کا ریٹرن باہر جانے کے بعد جب امپائر نے ’گیم، سیٹ اینڈ میچ زیورِف‘ کا اعلان کیا تو جرمن کھلاڑی بیس لائن کی جانب بڑھ گئے، جیسے اگلی سروس وصول کرنے کی تیاری کر رہے ہوں۔

مزید پڑھیں: یو ایس اوپن میں ٹینس کی تاریخ کی سب سے بڑی انعامی رقم کا اعلان

چند لمحوں بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ چیمپئن بن چکے ہیں اور وہ شیلٹن سے گلے ملنے کے لیے نیٹ کی جانب دوڑ پڑے۔

فائنل میں زیورِف نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا، شیلٹن نے پہلے سیٹ کے ابتدائی گیم میں بریک پوائنٹ پر ڈبل فالٹ کیا، جس سے جرمن کھلاڑی کو برتری حاصل ہوئی۔

زیورِف نے دوسرا سیٹ ٹائی بریک میں 2-7 سے جیت کر میچ پر گرفت مضبوط کرلی۔

شیلٹن نے تیسرے سیٹ میں بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے 5-7 سے کامیابی حاصل کی اور چوتھے سیٹ میں واپسی کی امید پیدا کی، تاہم زیورِف نے فیصلہ کن سیٹ میں ابتدائی بریک حاصل کرکے دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔ بالآخر انہوں نے 2-6 سے سیٹ جیت کر ٹرافی اپنے نام کرلی۔

شیلٹن امریکی مردوں کے 23 سالہ گرینڈ سلام ٹائٹل کے قحط کو ختم کرنے کی امید بن کر فائنل میں پہنچے تھے، مگر وہ اپنے کیریئر کے پہلے بڑے فائنل میں بہترین فارم برقرار نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں ان کے لیے تحفہ ہیں۔

مزید پڑھیں: یو ایس اوپن میں ٹینس اسٹار کی ٹوپی چوری، سارا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ

زیورِف کی اس سیزن میں 2 گرینڈ سلام فتوحات نے کارلوس الکاراز اور یانک سنر کی حالیہ بالادستی کو بھی چیلنج کیا ہے، تاہم زیورِف نے کہا کہ دونوں کھلاڑی مکمل صحت کے ساتھ اپنی بہترین فارم میں ہوں تو سنر اب بھی ان سے آگے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp