قازقستان کی ایلینا ریباکینا نے شاندار اور پُراعتماد کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 مرتبہ کی دفاعی چیمپئن آرینا سبالینکا کو شکست دے کر یو ایس اوپن ویمنز سنگلز کا ٹائٹل جیت لیا۔
ریباکینا نے ہفتے کو آرتھر ایش اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں سبالینکا کو 4-6، 5-7، 2-6 سے شکست دے کر نہ صرف اپنے کیریئر کا تیسرا گرینڈ سلام ٹائٹل حاصل کیا بلکہ عالمی نمبر ایک کی پوزیشن بھی سنبھال لی۔
روس میں پیدا ہونے والی قازق کھلاڑی نے فیصلہ کن مقابلے میں غیر معمولی ذہنی مضبوطی اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: یو ایس اوپن میں چرس کی بو، عالمی نمبر ایک سبالینکا نے میچ روک دیا
کامیابی کے ساتھ ہی انہوں نے فلشنگ میڈوز میں سبالینکا کی 20 میچوں پر مشتمل ناقابلِ شکست رہنے کی اسٹریک بھی ختم کردی۔
سبالینکا مسلسل تیسری مرتبہ یو ایس اوپن ٹائٹل جیت کر سرینا ولیمز اور کرس ایورٹ کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والی تیسری خاتون بننے کی کوشش میں تھیں، تاہم ریباکینا نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
ELENA RYBAKINA WINS THE US OPEN 👏
It is the second time she's beat Aryna Sabalenka in a Major Final this year‼️ pic.twitter.com/BalbXhYiyd
— SportsCenter (@SportsCenter) September 12, 2026
ٹورنامنٹ سے قبل ٹخنے کی انجری نے ریباکینا کی مہم کو خطرے میں ڈال دیا تھا، تاہم 27 سالہ کھلاڑی نے تمام خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شاندار کارکردگی دکھائی۔
انہوں نے رواں سال آسٹریلین اوپن اور اب یو ایس اوپن جبکہ 2022 میں ومبلڈن کا ٹائٹل جیت کر اپنے گرینڈ سلام ریکارڈ کو مزید مضبوط کرلیا۔
فتح کے بعد ریباکینا نے کہا کہ ان کے لیے اس کامیابی پر الفاظ تلاش کرنا مشکل ہے اور انہیں ٹورنامنٹ سے قبل ایسی کامیابی کی توقع نہیں تھی۔
مزید پڑھیں: یو ایس اوپن میں ٹینس کی تاریخ کی سب سے بڑی انعامی رقم کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ انجری کے باوجود حالات ان کے حق میں سازگار ہوتے گئے۔
انہوں نے سبالینکا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کھیلنا انتہائی مشکل ہے اور وہ اپنے حریف کو مسلسل اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ریباکینا نے نیویارک کے شائقین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اس شہر سے مزید محبت کرنے لگی ہیں۔

فائنل میں عالمی درجہ بندی کی ٹاپ 2 کھلاڑیوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع تھی اور میچ بھی اسی انداز میں شروع ہوا۔ ریباکینا نے ابتدا میں دباؤ برقرار رکھا، تاہم سبالینکا نے اپنی طاقتور سروسز کے ذریعے مزاحمت جاری رکھی۔
ریباکینا نے سبالینکا کی ڈبل فالٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2-3 کی برتری حاصل کی۔ اس کے فوراً بعد سبالینکا نے غصے میں گیند تماشائیوں کی جانب اچھال دی، جس پر انہیں ضابطے کی خلاف ورزی پر وارننگ بھی ملی۔
پہلا سیٹ ریباکینا نے 4-6 سے اپنے نام کیا۔ دوسرے سیٹ میں سبالینکا نے زبردست واپسی کرتے ہوئے میچ کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچا دیا۔ انہوں نے عمدہ ڈراپ شاٹ اور شاندار بیک ہینڈ کراس کورٹ ونر کے ذریعے دوسرا سیٹ 5-7 سے جیت لیا۔
مزید پڑھیں: یو ایس اوپن میں ٹینس اسٹار کی ٹوپی چوری، سارا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ
فیصلہ کن تیسرے سیٹ میں دونوں کھلاڑیوں نے بھرپور مقابلہ کیا، تاہم ریباکینا نے اپنی بہترین گراؤنڈ اسٹروکس اور پرسکون انداز کی بدولت 2-5 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی، اس کے بعد انہوں نے میچ ختم کرتے ہوئے یو ایس اوپن ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
دوسری جانب شکست کے بعد سبالینکا جذباتی ہوگئیں، انہوں نے ریباکینا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی سے مایوس ہیں اور خواہش تھی کہ وہ بہتر کھیل پیش کرتیں، تاہم اب اگلے سال کے لیے کوشش کریں گی۔
ریباکینا کو ٹرافی روس کی 5 مرتبہ کی گرینڈ سلام چیمپئن ماریا شراپووا نے پیش کی، یو ایس اوپن کی فتح کے ساتھ ریباکینا نے رواں سال دونوں ہارڈ کورٹ گرینڈ سلام ٹورنامنٹس جیتنے والی اس صدی کی صرف تیسری خاتون ہونے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا ہے۔













