ایک سانس کی قیمت

پیر 14 ستمبر 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوئٹہ سی ایم ایچ کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہوئے تو منظر ہی بدل گیا۔ شدید زخمی سپاہیوں کے بیڈ چاروں جانب لگے تھے، اسپتال میں موجود دوائیوں کی نامانوس مہک دور تک پھیلی ہوئی تھی، تیز تیز کام کرنے والا محنتی نرسنگ عملہ چاق چوبند تھا۔ ہر وینٹی لیٹرز کی بیپ بیپ کی آواز خطرے کے سائرن کی طرح گونج رہی تھی۔ متفکر ڈاکٹر زندگی موت کی جنگ لڑتے زخمیوں  کی سانسیں بحال کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے۔

 یہاں نہ کسی کو ملک کے بڑے شہروں سے آئے صحافیوں کے استقبال کی فرصت تھی نہ ہی صحافیوں میں سے کسی کو سوال کی حاجت تھی۔ منظر خود ہی سوال تھا، خود ہی  جواب تھا۔ یہاں شدید زخمی سپاہی ملک کے میڈیا پر ہونے والی بحثوں سے بہت دور تھے۔ نہ بستروں پر  ٹیوبوں کے سہارے سانس لیتے سپاہیوں کو چھوٹے صوبوں کے بننے کی کوئی خبر تھی، نہ کسی سیاستدان کی بیٹی کی شادی کے بارے میں کوئی بات کر رہا تھا، نہ کسی سیاسی جماعت کے احتجاج سے ان کو کوئی مطلب تھا، نہ انہیں کسی وزیر کی پریس کانفرنس سے کوئی واسطہ تھا، نہ کسی مشیر کے استعفے سے کوئی دلچسپی تھی۔ یہاں منظر مختلف تھا، یہاں زندگیاں وینٹی لیٹر کی مدد سے ایک ایک سانس کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔

ہر بیڈ پر ایک جسم نہیں، ایک جہان تھا۔ اس زمیں پر ایک آسمان تھا۔  ایک داستان تھی، جو جرات سے شروع ہوتی تھی اور شجاعت پر تمام ہوتی تھی۔ ہر بیڈ پر ایک زخمی شیر تھا جس نے وطن کی خاطر جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا۔ جان کی بھی پروا نہیں کی۔ جسم کو بھی وار دیا۔ خون بھی نچھاور کیا، سانسیں بھی قربان کیں۔ اس دھرتی ماں سے صرف محبت  کا  نہیں، اس وطن سے عشق کا ثبوت دیا۔

سی ایم ایچ کوئٹہ کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ کے پہلے بیڈ پر سپاہی عماد تھا۔ عمر پچیس سال۔ فیصل آباد سے تعلق۔ شادی ابھی نہیں ہوئی۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا بھائی، سب کا لاڈلا۔ سارے گھر کی آنکھ کا تارا۔ تیرہ دن سے یہاں وینٹی لیٹر پر۔ دبلا بدن، چہرے پر ہلکی مونچھیں، جبڑا سختی سے بھنچا ہوا، جسم بالکل ساکت۔ گلے پر ٹیوب کی وجہ سے آواز معدوم۔ ٹیوبوں سے سارا جسم اٹا ہوا۔ بتانے والے بتاتے تھے، ملک دشمنوں سے ایک دور دراز علاقے میں جب مقابلہ درپیش ہوا تو سپاہی عماد بے جگری سے لڑا۔ تن، من داؤ پر لگا دیا۔ دشمن کے لیے خوف بن گیا۔ وطن فروشوں کے پاس جدید امریکی اسلحہ تھا جو امریکی افغانستان سے جاتے ہوئے چھوڑ گئے تھے۔ مگر اس کو اس کی کہاں پروا تھی، وہ تو بے تیغ بھی لڑنے کا سبق سیکھ کر آیا تھا۔

دیر تک جاری رہنے والے مقابلے میں سپاہی عماد کو دشمن کی گولیوں نے چھلنی کر دیا مگر شجاعت کا پیکر آخری لمحے تک لڑتا رہا۔ دشمن جہنم واصل ہوا تو سپاہی عماد کو سی ایم ایچ پہنچایا گیا۔ لانے والے ساتھی اب بھی اس کی شجاعت کے قصے سناتے تھے۔ خون بہت بہہ گیا تھا۔ پھیپھڑوں سے چند گولیاں پار ہو گئی تھیں۔ سپائنل کارڈ چور چور ہو گیا تھا۔ ساری عمر کے لیے بدن مفلوج ہو چکا تھا۔ وینٹی لیٹر پر 13 دن گزر چکے تھے۔ مدقوق بدن ہر سانس کے لیے مشقت کر رہا تھا۔ ڈاکٹر گھر والوں کو امید دلا رہے تھے مگر آثار بہت حوصلہ افزا نہیں تھے۔ یاد رکھیں، جب میڈیکل ڈاکٹر معجزوں کے منتظر رہنے لگیں تو امکان ختم ہو چکا ہوتا ہے، بس امید زندہ ہوتی ہے۔

اگلے بیڈ پر سپاہی شاہد تھا۔ شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ لایا گیا۔ داستان اس کی بھی وہی ہے۔ وہ بھی بے جگری سے لڑا۔ بہت سے دہشتگرد اس کی بندوق کی گولی سے جہنم واصل ہوئے۔ وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو اس نے خوب مزا چکھایا۔ دشمن تعداد میں زیادہ تھے، حملہ اچانک ہوا۔ مگر شیر سپاہی اس گھڑی کے لیے تیار تھا۔ اس کی بندوق شعلے اگلتی رہی۔ دہشتگردوں نے اس پر چاروں طرف سے فائرنگ کی۔ یہ جب تک ہوش میں رہا، لڑتا رہا، شجاعت کی داستانیں اپنے لہو سے لکھتا رہا۔ گولیاں پھیپھڑوں کو چیر گئیں، کمر کے مہرے ریزہ ریزہ ہو گئے۔ شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا۔ کئی دن وینٹی لیٹر پر رہا۔

اب وینٹی لیٹر اتر چکا ہے۔ ہوش میں ہے۔ بات کرتا ہے۔ مہمانوں کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ ایک ہاتھ ہوا میں بلند کر کے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔ جب سے ہوش میں آیا ہے، ایک ہی ضد کر رہا ہے۔ مجھے محاذ پر واپس جانا ہے۔ اس وطن کا دفاع کرنا ہے۔ فتنہ الہندوستان کے ناپاک وجود سے اس ملک کو پاک کرنا ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ اب وہ ٹھیک ہے تو اس کو جانے کیوں نہیں دیتے۔ اس کے ساتھی اس کے منتظر ہوں گے۔ محاذ پر اس کی بندوق کی ضرورت ہو گی۔ اس کے  ساتھی اس کی فلک شگاف آواز میں نعرہ تکبیر کے منتظر ہوں گے۔ اب رکاوٹ کیا ہے؟ یہ ڈاکٹر کیوں رستہ روک رہے ہیں ؟ اس کو جانے کیوں نہیں دیتے؟ اس کو اس وطن کی خاطر لڑنے کیوں نہیں دیتے ؟ اس کا جذبہ دیکھ کر کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ اس کو بتائے کہ اب اس کی ٹانگیں مفلوج ہو چکی ہیں۔ یہ معذوری تمام عمر کی ہے۔ وہ بار بار اپنی ٹانگیں محسوس کرتا ہے۔ ان میں حرکت نہ پا کر کنفیوز ہوتا ہے۔ وہ جلد صحت یاب ہونا چاہتا ہے۔ دشمن سے لڑنا چاہتا ہے۔ غازی نہیں، شہید ہونا چاہتا ہے۔

ہر بیڈ پر ایک شجاعت کی داستان۔ ہر بیڈ پر عظمت کا ایک مینار۔ کس کس کی کہانی لکھوں۔  چند ماہ پہلے ایڈمٹ ہونے والے اکیس سالہ نوجوان لیفٹیننٹ کاشف کی داستان سناؤں جس نے دشوار پہاڑی علاقے میں دلیری سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ جرات کا نیا باب لکھا۔ ٹانگ میں گولی لگی۔ زخم اتنا بڑھا کہ جان بچانے کے لیے ٹانگ کاٹنی پڑی۔ جس پر لیفٹیننٹ کاشف بہت روئے۔ اس لیے نہیں کہ بدن کا حصہ جسم سے کٹ گیا بلکہ اس لیے کہ اب دشمن کا مقابلہ کرنے محاذ پر نہیں جا سکتے۔

نارووال کے غلام نبی کا قصہ سناؤں؟ جعفر ایکسپریس میں چھٹی پر جا رہا تھا۔ ٹرین پر حملہ ہوا۔ ساڑھے چھ فٹ کا جوان تھا۔ دہشتگردوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا۔ اسپتال پہنچا تو آنکھ کی پتلیاں بالکل ساکت تھیں۔ جسم میں کوئی حرکت نہیں تھی۔ اڑتالیس گھنٹے کی جدوجہد کے بعد جانبر نہ ہو سکا۔ شہادت مقدر ہوئی۔ اس کے سامان سے ننھی ننھی چوڑیاں اور ایک گڑیا ملی، جو یہ اپنی بیٹی کے لیے لے جا رہا تھا۔ وہ بیٹی آج بھی اس باپ کی منتظر ہے جو وطن پر جان نچھاور کر چکا۔

نہ بیڈ ختم ہو رہے تھے، نہ دلیری کی داستانیں ختم ہو رہی تھیں۔ میں آئی سی یو سے باہر نکل آیا۔ مزید کہانیاں سننے کا یارا نہیں تھا۔ ان شیر جوانوں کی دلیری کے قصے سننے کے بعد میں ان لوگوں کے بارے میں سوچنے لگا جو یہاں سے بہت دور شہروں میں بیٹھے، پرتعیش، ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے فوج پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔ تو یقین مانیے، جو کہتے ہیں کہ فوج تنخواہ کے لیے لڑتی ہے، جو اپنی فوج پر بہتان لگاتے ہیں، جو اپنی سپاہ پر تنقید کرتے ہیں، جو ان شہیدوں، غازیوں کی بے حرمتی کرتے ہیں، وہ اس قابل بھی نہیں کہ حوالدار غلام نبی کے پاؤں کی گرد کا ایک چھوٹا سا ذرہ بن سکیں، لیفٹیننٹ کاشف کے قدموں کو چھو سکیں، سپاہی شاہد کی قربانی کا صلہ دے سکیں، خدا کی قسم! اس لائق بھی نہیں کہ سپاہی عماد کی مشقت سے آتی سانسوں میں سے کسی ایک سانس کی قیمت بھی چکا سکیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp