پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی سے جوڑنے کی بھارتی کوشش ناکام ہوچکی ہے اور نئی دہلی عالمی سطح پر مکمل طور پر بے نقاب ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدے پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے، بلاول بھٹو زرداری
سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے بھارتی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بھارت کے من گھڑت پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ایک جھوٹ کی بنیاد پر پاکستان سے جنگ شروع کی اور اسے اس میں بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
پہلگام حملے سے پاکستان کو جوڑنے کی بھارتی کوشش
بلاول بھٹو زرداری کے مطابق نئی دہلی میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی اینکر نے ملائیشین وزیراعظم سے اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے پاکستان کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم انور ابراہیم نے اسے مسترد کردیا۔
ملائیشین وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کے سیکیورٹی اداروں نے انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں دی اور نہ ہی پاکستان کے ریاستی طور پر ملوث ہونے کے کوئی ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاک بھارت پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو زرداری
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملائیشین وزیراعظم کے واضح بیان نے پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کو مکمل طور پر رد کردیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشین وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو کھلم کھلا ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا۔
بھارت سے سیز فائر معاہدوں کی پاسداری کا مطالبہ
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کو اب سیز فائر کے موقع پر کیے گئے تمام معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات اور ’فریکشن پوائنٹس‘ پر باضابطہ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور استحکام لایا جاسکتا ہے۔
پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر الزامات
یاد رہے کہ 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملہ ہوا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ہلاک ہونے والوں میں اکثریت سیاحوں کی تھی۔
بھارت نے بغیر ثبوت اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
بعد ازاں 6 اور 7 مئی کو بھارت نے پاکستان پر فوجی حملے کیے، جس کے نتیجے میں دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان شدید مسلح تصادم شروع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے جنگ کے دوران میڈیا نے قومی بیانیے کو مضبوطی سے اجاگر کیا، بلاول بھٹو زرداری
87 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس معرکے میں پاکستان کے مطابق پاک فوج نے دفاع کرتے ہوئے فرانس کے تیار کردہ رافیل طیاروں سمیت 8 بھارتی جنگی طیارے اور درجنوں ڈرونز مار گرائے تھے۔
بعد میں امریکی ثالثی میں سیز فائر طے پایا، جس کے بعد سے پاکستان مسلسل تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم کے بیان کو بھارتی مؤقف کے حوالے سے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اب خطے میں امن و استحکام کے لیے سیز فائر کی پاسداری اور مذاکرات کی جانب بڑھنا چاہیے۔













