ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کے نئے سسٹم کی آمد سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس سے گرمی اور حبس کا زور تو ٹوٹ گیا تاہم کئی علاقوں میں نشیبی راستے زیرِ آب آنے اور بجلی کا نظام درہم برہم ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں وقفے وقفے سے جاری بارش کے باعث ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے۔ راولپنڈی میں شمس آباد، کچہری، مری روڈ، راجا بازار اور کٹاریاں سمیت دیگر علاقوں میں تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ واسا حکام کے مطابق جڑواں شہروں میں مجموعی طور پر بارش کے مختلف اسپیلز کے بعد نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح ساڑھے 8 فٹ اور گوالمنڈی پُل کے مقام پر 5 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔
بارش کے پیش نظر واسا راولپنڈی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ نالہ لئی کے اطراف اور نشیبی علاقوں میں عملہ اور بھاری ڈی واٹرنگ مشینری تعینات ہے تاکہ پانی کی فوری نکاسی ممکن بنائی جا سکے۔
دوسری جانب سندھ میں بھی بارش برسانے والا نیا سسٹم داخل ہو گیا ہے۔ کراچی کے علاقوں گلشن حدید، بن قاسم، ملیر اور اسٹیل ٹاؤن سمیت دیگر حصوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز اور ہلکی بارش ہوئی۔
صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے متوقع بارشوں کے پیشِ نظر تمام بلدیاتی اداروں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے افسران کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور تمام نالوں و شاہراہوں سے پانی کی فوری نکاسی کا حکم دیا ہے۔
حیدرآباد اور سجاول میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش سے موسم خوشگوار ہوا، تاہم حیدرآباد میں 70 سے زائد فیڈرز بند ہونے سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
ترجمان حیسکو کے مطابق 99 فیڈرز بحال کر دیے گئے ہیں اور باقی بھی جلد بحال کر دیے جائیں گے۔ بارش کے دوران حادثات سے بچنے کے لیے کے الیکٹرک نے بھی اپنا فیلڈ اسٹاف ہائی الرٹ کر دیا ہے اور شہریوں کو برقی تنصیبات، کھمبوں اور ٹوٹے ہوئے تاروں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
علاوہ ازیں، خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور بالائی علاقوں میں بھی بارش سے موسم معتدل ہو گیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 17 ستمبر تک ملک کے مختلف اضلاع، بالائی خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف حصوں میں مزید شدید بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے، جس کے تحت نشیبی علاقوں میں جل تھل اور ندی نالوں میں طغیانی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔














