خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا لاہور کا 2 روزہ دورہ سیاسی ملاقاتوں، کارکنوں سے رابطوں، پولیس کے ساتھ تلخ کلامی اور مختلف مقامات پر احتجاج کے باعث توجہ کا مرکز رہا۔
اس دوران وہ کہیں فٹ پاتھ پر بیٹھے نظر آئے، کہیں پولیس کی قیدیوں والی وین پر چڑھ گئے اور پھر احتجاجاً اسی وین کے اندر بیٹھ کر گرفتاری اور اغوا کا دعویٰ کرتے رہے۔
سہیل آفریدی پیر کو موٹروے کے راستے لاہور پہنچے، لاہور پہنچنے سے قبل وہ موٹروے پر موجود قیام و طعام کے مقامات پر بھی رکتے رہے، لاہور شہر کے داخلی راستے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ پولیس نے سڑک کا ایک رخ بند کر رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، کیا پی ٹی آئی پنجاب سے ورکرز نکال پائے گی؟
اس پر سہیل آفریدی نے احتجاج کیا اور فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے، اس دوران ان کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کے لیے سڑک نہیں کھولی جائے گی، وہ وہاں سے نہیں جائیں گے۔
پولیس کا مؤقف تھا کہ لاہور میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس لیے جلوس نکالنا اور سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
🚨 🇵🇰 Pakistan | Lahore
Footage circulating online is being shared as scenes of the reported arrest of Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi.
The circumstances surrounding the incident, including the legal basis and official statements from authorities, remain to be…
— Naveed Khan (@i_Naveediqbal) September 14, 2026
کچھ دیر تک جاری رہنے والے تناؤ کے بعد سہیل آفریدی کا قافلہ وہاں سے آگے روانہ ہوگیا۔
سہیل آفریدی کا اگلا پڑاؤ پی ٹی آئی کارکن اشتیاق احمد کا گھر تھا، جہاں انہوں نے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
اشتیاق احمد میلاد کی تیاری کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج رہے تھے، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
اس موقع پر اشتیاق احمد کے بھائی نے ویڈیو پیغام میں واضح طور پر کہا کہ پنجاب حکومت نے ان کا بہترین علاج کروایا اور جان بچانے کے ضمن میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی۔
اشتیاق احمد کے گھر کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، اس موقع پر وزیراعلیٰ کے ساتھ آنے والے افراد اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ وہاں جلسہ کرنے نہیں بلکہ تعزیت کے لیے آئے ہیں، تعزیت کے بعد وزیراعلیٰ کا قافلہ مال روڈ اور ریگل چوک کی جانب روانہ ہوگیا۔
🇵🇰 Lahore | Political Activity
Supporters are sharing footage claiming that Sohail Afridi’s convoy has moved through the streets of Lahore.
The appearance of the convoy has drawn attention among political supporters and observers as activity continues around the city.#Lahore…
— Naveed Khan (@i_Naveediqbal) September 14, 2026
اس دوران پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی لاہور کے صدر سمیت کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
کارکنوں کی گرفتاری پر سہیل آفریدی پہلے قیدیوں کی وین کے آگے کھڑے ہوگئے، پھر وین کے اوپر چڑھ گئے۔
اس کے بعد وہ احتجاجاً اسی پولیس وین کے اندر جا بیٹھے اور کہا کہ جب تک کارکنوں کو رہا نہیں کیا جاتا، وہ وین سے نہیں اتریں گے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نااہلی کا خدشہ، سہیل آفریدی کے خلاف کون کون سے مقدمات درج ہیں؟
پولیس نے وین چلا دی اور سہیل آفریدی کو لکشمی چوک پر اتار دیا، وہاں پہنچ کر وہ دوبارہ فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور احتجاج شروع کردیا۔
اس دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پسینے میں شرابور نظر آئے تو پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے انہیں پانی پلایا، سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ انہیں اغوا کرکے سڑک پر چھوڑ دیا گیا۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ان کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی خود پولیس وین میں بیٹھے تھے، ان کے مطابق یہ گرفتاری نہیں بلکہ ڈرامہ تھا۔
If you ever feel useless, just remember that once PTI CM Sohail Afridi visited Lahore and everyone ignored him 😭😭 pic.twitter.com/OIKaVRl2zw
— Zardan Sangzi (@ZardanSi) September 15, 2026
بعد ازاں سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان سے ملاقات کے دوران 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی تیاریوں پر بات چیت بھی کی۔
اس ملاقات کے بعد سہیل آفریدی کی پیر کے روز کی سیاسی سرگرمیاں اختتام پذیر ہوگئیں۔
منگل کو سہیل آفریدی اچھرہ میں میاں اکرم عثمان کے گھر پہنچے، جنہیں پیر کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ وہاں انہوں نے پی ٹی آئی کے مختلف رہنماؤں اور پارٹی کے اراکینِ اسمبلی سے ملاقاتیں کیں۔
مزید پڑھیں: بڑے احتجاج سے گریز، پی ٹی آئی پنجاب کم پروفائل سیاست کو کیوں ترجیح دے رہی ہے؟
اسٹریٹ موومنٹ کے اعلان کے باوجود عوام کی خاطر خواہ تعداد سڑکوں پر نظر نہیں آئی، زیادہ تر سرگرمیاں پی ٹی آئی کی قیادت، پولیس اور محدود تعداد میں موجود کارکنوں کے گرد ہی رہیں۔
سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کا مقصد پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور اسٹریٹ موومنٹ کو آگے بڑھانا تھا، تاہم عوام کی جانب سے انہیں بھرپور انداز میں پذیرائی نہیں ملی۔














