پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب میں ایک نئی سیاسی حکمت عملی کے تحت بڑے احتجاجی مظاہروں سے گریز کرتے ہوئے کم پروفائل سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق یہ حکمت عملی کارکنوں کو محفوظ رکھنے اور تنظیمی ڈھانچے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے اختیار کی گئی ہے تاہم سیاسی مبصرین اسے پنجاب میں جماعت کی کمزور ہوتی سیاسی سرگرمیوں سے بھی جوڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پنجاب میں پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر سڑکوں پر احتجاج یا ہائی پروفائل مظاہروں کے بجائے نسبتاً کم پروفائل سیاسی سرگرمیوں، جیسے پریس کانفرنسوں، پارلیمانی کارروائی میں شرکت، بجٹ پر تنقید اور قانونی و آئینی بیانات تک محدود دکھائی دے رہی ہے۔ سال 2024 کے عام انتخابات اور 9 مئی کے واقعات کے بعد پارٹی کے سینکڑوں رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہوئے اور جماعت سے علیحدہ ہو گئے یا سیاست سے کنارہ کش ہو گئے جبکہ بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں پر عائد پابندیوں نے بھی پنجاب میں پارٹی کی تنظیمی اور سیاسی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ ان عوامل کے باعث صوبے میں پارٹی ماضی کے مقابلے میں نسبتاً کمزور دکھائی دے رہی ہے۔
’کم پروفائل میں رہ کر بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں‘
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی نیوز کو بتایا کہ پارٹی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ کم پروفائل حکمت عملی اختیار کرنے سے کارکنوں اور تنظیمی وسائل کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور غیر ضروری نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق ماضی میں ہونے والے بڑے احتجاج اکثر کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہوئے جبکہ حکومت کو مزید سخت اقدامات کا جواز بھی مل گیا۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی پنجاب کی تنظیم میں اکھاڑ پچھاڑ کا امکان، عالیہ حمزہ نے عندیہ دے دیا
انہوں نے بتایا کہ پارٹی سیکریٹری جنرل سلمان اکبر راجہ اور دیگر رہنماؤں کی ہدایت پر پنجاب کوآرڈینیشن کمیٹی کے ذریعے ضلعی اور علاقائی سطح پر تنظیم کو دوبارہ فعال اور مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اندرونی اختلافات کے باعث پنجاب میں پی ٹی آئی کو بطور جماعت شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اب قانونی اور سیاسی ذرائع پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر پارٹی کا بیانیہ بھی پہلے کے مقابلے میں کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق شدت پسند بیانیے نے بھی پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق دوسری اہم وجہ عوامی بیزاری اور معاشی حالات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار احتجاج کی کالوں کے باوجود پنجاب میں خاطر خواہ عوامی ردعمل سامنے نہیں آ رہا، کیونکہ لوگ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر روزمرہ مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نہ تو اس وقت جماعت کی جانب سے کسی بڑے احتجاج کی کال دی جا رہی ہے اور نہ ہی پارٹی کے اندر اس حوالے سے کوئی سنجیدہ بحث جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی قیادت کی رائے ہے کہ اگر احتجاج یا بڑے مظاہرے کرنے ہوں تو ان کا مرکز خیبر پختونخوا ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، کیا پی ٹی آئی پنجاب سے ورکرز نکال پائے گی؟
انہوں نے بتایا کہ ایک روز قبل پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر اراکین صوبائی اسمبلی نے عمران خان کی صحت اور قید تنہائی کے معاملے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی۔
ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کی سرگرمیاں اب زیادہ تر پریس کانفرنسوں، اجلاسوں اور بند ہالوں میں بیانات تک محدود ہوتی جا رہی ہیں جس کے باعث کارکنوں میں بھی غیر فعالیت بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پنجاب میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک اب بھی مضبوط سمجھا جاتا ہے، تاہم مؤثر حکمت عملی کے فقدان کے باعث جماعت کی سیاسی سرگرمیاں کم پروفائل ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت اسے خاموشی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی لائحہ عمل قرار دے رہی ہے۔
9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کا تنظیمی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا، ماجد نظامی
اس تمام صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی ماجد نظامی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پہلے کے مقابلے میں بہت محدود سیاسی سرگرمیاں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کی 2 بڑی وجوہات ہیں جن میں حکومت کی جانب سے سخت اقدامات اور 9 مئی کے واقعات کے بعد پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کا بکھر جانا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2،4 مرتبہ دوبارہ متحرک ہونے کی کوشش ضرور کی لیکن اسے خاطر خواہ سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا، جس کے باعث کارکن بھی اب گھروں تک محدود رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کو بھی اب اندازہ ہو چکا ہے کہ انہیں آئندہ انتخابات تک انتظار کی حکمت عملی اپنانا ہوگی اور جب انتظار کی کیفیت ہو تو عملی سیاست کے بجائے زیادہ تر بیانات پر ہی انحصار کیا جاتا ہے۔
ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ چونکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت موجود ہے اس لیے جلسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کی کالیں زیادہ تر وہیں سے دی جاتی ہیں جبکہ پنجاب میں پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلافات بھی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
ان کے مطابق جماعت کے پاس آئندہ دو سے ڈھائی برس کے لیے کوئی واضح سیاسی حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی کہ کس طرح تنظیم کو منظم کر کے اگلے انتخابات کی تیاری کی جائے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف پہلے کے مقابلے میں خاصی کم متحرک نظر آ رہی ہے۔













