وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ لانگ مارچ سے پہلے ہی انہیں نااہل کر دیا جائےگا۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بھی انہوں نے ایک بار پھر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک انٹرویو میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی کے لیے ان کی نااہلی کو ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ انہیں خدشہ ہے کہ انہیں نااہل قرار دینے کے ساتھ گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں کے خلاف الزامات کا کیس: سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
انہوں نے اپنی ممکنہ نااہلی کو 27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ سے جوڑتے ہوئے کہاکہ اگر ایسا ہوا بھی تو ان کی ویڈیو موجود ہے اور اس صورت میں کوئی اور قیادت سنبھال لے گا۔
سہیل آفریدی کو نااہلی یا گرفتاری کے خدشات کیوں ہیں؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی ہو سکتی ہے۔ ان کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ سہیل آفریدی کو لانگ مارچ اور احتجاج نہ کرنے کے پیغامات ملے تھے، جبکہ انہوں نے اس کے باوجود بھی احتجاج کا اعلان کیا۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد سے ان کے خلاف کیسز بننے لگے، جبکہ کچھ پرانے کیسز بھی نکل آئے۔ ’سہیل آفریدی کو اشارے ملے ہیں، تو انہوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔‘
ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد میں سہیل آفریدی کی گرفتاری کا خدشہ ہے کیوںکہ ان کے خلاف زیادہ کیسز اسلام آباد میں درج ہیں، جن کی سماعت بھی وہیں ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق سہیل آفریدی پر کارکنان کا بھی شدید دباؤ ہے اور ان حالات میں مارچ کا اعلان بھی ضروری تھا، تاہم ان پر کیسز کی سماعت میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور اسلام آباد میں درج کیس میں گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے ہیں۔
’وزیراعلیٰ کوئی بیان دیتا ہے یا احتجاج کی تیاری کرتا ہے تو کیسز کی سماعت تیز ہو جاتی ہے یا کوئی نیا کیس نکل آتا ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کے خلاف کچھ کیا جا رہا ہے۔‘
وزیراعلیٰ کے خلاف کون کون سے مقدمات درج ہیں؟
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ کچھ مقدمات ان کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے کے ہیں، جبکہ دو مقدمات ان کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد درج ہوئے یا انہیں ان میں نامزد کیا گیا۔
سہیل آفریدی کے خلاف پشاور میں ایک مقدمہ درج ہے، جس کی سماعت اس وقت انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ہورہی ہے۔ یہ کیس 9 مئی کو توڑ پھوڑ اور ریڈیو پاکستان پر حملے کا ہے، لیکن اس مقدمے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نامزدگی ان کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق نادرا اور لاہور فرانزک رپورٹ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد باقاعدہ طور پر عدالتی حکم پر انہیں نامزد کیا گیا ہے۔
پشاور کے علاوہ مردان میں بھی ان کے خلاف کیسز ہیں، لیکن ان کیسز میں ابھی تک کوئی پیشرفت نظر نہیں آ رہی، جبکہ اسلام آباد میں ان کے خلاف متعدد کیسز درج ہیں۔
عدالتی تفصیلات کے مطابق اس وقت اسلام آباد میں سہیل آفریدی کے خلاف 2 کیسز کی سماعت تیزی سے ہو رہی ہے، جن میں ایک 26 نومبر کو اسلام آباد مارچ کے دوران ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کا کیس ہے، جو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے، جبکہ دوسرا کیس ان کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد اداروں کے خلاف بیان دینے پر درج ہوا، جس میں ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے ہیں۔
عمران خان کے کیسز پر کڑی نظر رکھنے والے صحافیوں کے مطابق وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی کے خلاف درج کیسز بھی نکل آئے اور سماعت بھی تیزی سے ہونے لگی ہے۔
’سہیل آفریدی کا خدشہ بلاجواز نہیں ہے‘
عثمان دانش پشاور کے کورٹ رپورٹر ہیں، ان کے مطابق سہیل آفریدی کا خدشہ بلاجواز نہیں ہے۔
’سہیل آفریدی کے خلاف کیسز ہیں، پشاور میں ان کے ماتحت پولیس نے ہی انہیں پرانے کیس میں نامزد کیا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کا کیس سنجیدہ نوعیت کا ہے، جس کی اسلام آباد منتقلی کے لیے باتیں بھی آرہی تھیں۔ ریڈیو پاکستان کے وکیل کے مطابق کیس میں شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا کیس ہے، جس میں کئی سال بعد پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق نادرا کی جانب سے تصدیق کے ساتھ ساتھ لاہور سے حاصل ہونے والی فرانزک رپورٹ میں بھی سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی شناخت کی تصدیق ہوئی ہے، اب اس کیس کی باقاعدہ سماعت بھی جاری ہے۔
عثمان دانش کے مطابق ریڈیو پاکستان کے علاوہ اسلام آباد میں زیر سماعت دونوں کیسز اہم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کیسز کی سماعت بھی تیزی سے ہورہی ہے اور سہیل آفریدی کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کیسز سہیل آفریدی کے لیے رکاوٹ بن رہے ہیں اور ان پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔
’پاکستان میں عدالتی فیصلوں کا سب کو پتا ہے، کسی بھی وقت فیصلہ آ سکتا ہے۔‘
’سہیل آفریدی اس وقت شدید دباؤ میں ہیں، کارکنان اور مقتدر حلقوں کا دباؤ ہے‘
نوجوان صحافی کامران علی کے مطابق سہیل آفریدی اس وقت شدید دباؤ میں ہیں، ان پر کارکنان اور مقتدر حلقوں کا بھی دباؤ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کارکنان چاہتے ہیں کہ احتجاج ہو، جس میں توڑ پھوڑ اور خونریزی کا بھی خدشہ ہے۔
’مقتدر حلقے اس وقت احتجاج نہیں چاہتے، جس کی وجہ سے ان کی جانب سے بھی سہیل آفریدی پر دباؤ ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی نااہلی کی بات کرکے پارٹی کارکنان کی ہمدردی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو ان سے کافی حد تک ناراض ہیں۔
’اصل مسئلہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہے، جس کے لیے سب کچھ ہو رہا ہے۔ لگ رہا ہے لانگ مارچ سے پہلے ہی معاملات طے ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی اپنے کارکنان کو فعال کرنا چاہتے ہیں اور نااہلی کے حوالے سے بیانات بھی اسی کا حصہ لگ رہے ہیں۔













