خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2013 کے بعد وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی سیاست کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا، جو 2018 تک وفاق میں اس کی حکومت بننے تک جاری رہا۔ اسلام آباد میں دھرنا ہو، لانگ مارچ ہو یا ملک گیر احتجاج، ماضی میں پارٹی کی جانب سے احتجاج کی کال ملتے ہی منتخب اراکین، پارٹی رہنما اور کارکن متحرک ہو جاتے تھے، تاہم 2024 کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی احتجاجی سیاست میں اس جوش و خروش میں واضح کمی نظر آ رہی ہے۔
اس بار بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال دی ہے، تاہم احتجاج کی تاریخ قریب آنے کے باوجود پارٹی کی جانب سے ضلعی سطح پر ماضی کی طرح بڑے پیمانے پر عوامی رابطہ مہم اور منظم تیاری تاحال نظر نہیں آ رہی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی اراکین اور رہنماؤں کو 27 ستمبر کے مارچ کے لیے اپنے اپنے علاقوں میں اسٹریٹ مہم شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور وہ خود بھی مختلف اضلاع کے بعد دیگر صوبوں کے دورے شروع کر چکے ہیں۔ تاہم پارٹی کے اکثر منتخب اراکین اور مقامی رہنما خاموش ہیں۔ انہوں نے تاحال اپنے حلقوں میں اسٹریٹ مہم کا آغاز نہیں کیا۔
ماضی میں احتجاج کی کال پر کارکن فوری متحرک ہوتے تھے
پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو ماضی میں پارٹی قیادت کی جانب سے احتجاج یا اسلام آباد مارچ کی کال دیے جانے کے بعد منتخب نمائندے اپنے اپنے حلقوں میں متحرک ہو جاتے تھے۔
اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کارکنوں کے اجلاس بلاتے، یونین کونسل اور تحصیل کی سطح پر ذمہ داریاں تقسیم کی جاتیں، مختلف فورسز اور تنظیمی ٹیمیں تشکیل دی جاتیں، جبکہ کارکنوں کو اسلام آباد پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات بھی کیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے 27 ستمبر مارچ سے قبل پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار، ہزاروں افراد نکالنا بھی مشکل، اندرونی کہانی سامنے آگئی
اس دوران پارٹی کے منتخب اراکین کے درمیان زیادہ سے زیادہ کارکن اسلام آباد پہنچانے کا مقابلہ بھی نظر آتا تھا۔ مختلف رہنما اور منتخب نمائندے اپنے حلقوں کے نوجوانوں پر مشتمل خصوصی فورس بھی تشکیل دیتے تھے، جو مارچ کے دوران رکاوٹیں ہٹا کر فرنٹ پر ہوتی تھی۔ کئی ہفتے پہلے ہی کارکنوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جاتا تھا۔ مارچ یا دھرنے کو کامیاب بنانے کے لیے ضلعی سطح پر موٹرسائیکل ریلیوں کا انعقاد بھی معمول تھا۔
پی ٹی آئی کی قیادت ماضی میں سرگرم ہوا کرتی تھی، تاہم اب اس کی اکثریت منظر عام سے غائب رہتی ہے اور پیشگی سرگرمیوں میں نظر نہیں آتی۔ صرف سوشل میڈیا کی حد تک سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔
پی ٹی آئی کے اراکین بھی اس حوالے سے اندرونی اجلاسوں میں کھل کر بات کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نے بتایا کہ عمران خان جب خود کال دیتے تھے تو سب نکلتے تھے۔ وہ خود ہر وقت فرنٹ پر ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا، ’اگر آپ دیکھیں تو ڈی چوک دھرنا کئی ماہ جاری رہا، لیکن کارکنوں کا جذبہ کم نہیں ہوا۔ اب صورت حال یکسر مختلف ہے۔‘
بار بار احتجاج اور ناکامی، کیا کارکنوں کا اعتماد بحال نہیں رہا؟
پاکستان تحریک انصاف نے وفاق میں اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد 2022 میں وفاق مخالف احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ پشاور سمیت کئی شہروں میں احتجاج ہوئے اور 9 اور 10 مئی کو پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے، جس کے بعد پی ٹی آئی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
9 مئی کے احتجاج کے بعد صورت حال تبدیل ہوئی اور پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہو گیا۔ اس کے بعد پارٹی کے بعض رہنماؤں کے مطابق کارکنوں میں مایوسی پیدا ہونا شروع ہوئی۔
پی ٹی آئی کے ایک ناراض رکن نے بتایا کہ اس وقت پارٹی کے اندر شدید اختلافات ہیں، جس کی بڑی وجہ عمران خان کے حوالے سے احتجاج کی بار بار ناکامیاں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’اس وقت پارٹی کے اندر ہم خیال گروپ کے نام سے 30 سے زائد اراکین کا ایک گروپ ہے۔ یہ ارکان ناراض ہیں اور قیادت سے لائحۂ عمل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
پی ٹی آئی کے ایک اور رکن نے کہا کہ ان کا مشورہ ہے کہ سب سے حلف لیا جائے اور سر پر کفن باندھ کر نکلا جائے۔ ناراض اراکین کے بقول کارکن بھی اس وقت ناراض ہیں اور ان کا قیادت پر اعتماد بھی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا، ’لاہور جلسے میں بھی خیبر پختونخوا کے کارکن پہنچیں، اسلام آباد میں بھی وہ پہنچیں، کیسز بھی ان پر ہوں، اور پھر قائدین ان کارکنوں کو ڈی چوک پر چھوڑ کر بھاگ جائیں تو وہ دوبارہ کیوں نکلیں گے۔‘
پی ٹی آئی کے ایک رکن نے بتایا کہ اس وقت کارکنوں کے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ لوگوں کو نکال کر اٹک سے واپس آنے سے اعتماد بحال نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’2018 تک قیادت مخلص تھی۔ عمران خان خود فرنٹ پر ہوتے تھے۔ اب کون قیادت کر رہا ہے اور کس کی بات مانی جائے، کسی کو نہیں پتا۔ ہر بندہ 10 بندوں کو لے کر کہتا ہے جلوس لے کر آیا ہوں۔‘
انہوں نے پارٹی کے اندر ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس وقت سب کرسی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’علی امین کے دور میں صوابی جلسہ ناکام ہوا تو باقاعدہ اس کی کمیٹی بنی، تو پتا چلا کہ علی امین نہیں چاہتے تھے کہ جلسہ کامیاب ہو۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی طرح علی امین گنڈاپور کے دور میں پشاور کے کبوتر چوک کے قریب جلسہ ہوا۔ کارکن تو کم تھے ہی، جو کارکن جلسہ میں پہنچے، انہوں نے بھی علی امین گنڈاپور کو جوتے دکھائے اور ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی، جس کے بعد کابینہ سے بعض ارکان کو فارغ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں ہر شخص لیڈر بن گیا ہے، جبکہ ان کے سامنے کوئی سازش کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
ان کے بقول، ’کرسی کی جنگ، بیک ڈور مبینہ میچ فکسنگ نے کارکنوں کا اعتماد کھو دیا ہے۔‘
پارٹی رہنماؤں اور منتخب اراکین کی خاموشی کیوں؟
27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے سہیل آفریدی کے لیے اپنے منتخب اراکین اور مقامی تنظیموں کو متحرک کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ سہیل آفریدی نے ضلع خیبر سے اسٹریٹ مہم کا آغاز کرتے ہوئے پارٹی اراکین کو ہدایت کی تھی کہ اپنے اپنے اضلاع میں کارکنوں کو فعال کرنے کے لیے مہم شروع کریں اور 27 ستمبر کے لیے انہیں مکمل طور پر متحرک کریں۔
سہیل آفریدی کی جانب سے اسٹریٹ مہم شروع کرنے کی ہدایت کے باوجود اکثر حلقوں میں ابھی تک عوامی رابطہ مہم شروع نہیں ہو سکی۔ متعدد منتخب اراکین کی سرگرمیاں بھی محدود ہیں۔
پارٹی کے اندر پہلے ہی مارچ کے طریقہ کار، مشاورت، مالی وسائل اور قیادت کے فیصلوں کے حوالے سے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ اندرونی ذرائع کے مطابق منتخب اراکین نے فنڈنگ پر اعتراض کیا ہے، جبکہ بعض نے کھل کر معذرت بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پی ٹی آئی میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر اختلافات، اراکین اور قیادت کے تحفظات کیا ہیں؟
صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی اسلام آباد مارچ کے لیے مکمل خاموشی ہے اور کسی قسم کی سرگرمی نہیں ہو رہی، جس کی بڑی وجہ منتخب اراکین کی عدم دلچسپی بتائی جاتی ہے۔
بعض پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کے باعث بھی پارٹی کے لوگ ناراض ہیں اور حکومت کے باوجود کارکنوں کے جائز کام نہیں ہو رہے۔ ان کے مطابق کارکن اب سوال کر رہے ہیں کہ وہ صرف احتجاج اور لاٹھی کھانے کے لیے ہیں، جبکہ حکومت کا فائدہ خاص لوگ اٹھائیں گے۔
پی ٹی آئی کے ایک اور ناراض رکن کا ماننا ہے کہ ماضی میں احتجاج کی کال پر کارکن یہ سمجھتے تھے کہ شاید اس مرتبہ احتجاج فیصلہ کن ثابت ہوگا، لیکن متعدد احتجاجی سرگرمیوں کے بعد بھی صورت حال میں بنیادی تبدیلی نہ آنے سے اب بعض کارکن پہلے کی طرح فوری طور پر گھروں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا، ’صاف بات یہ ہے کہ انقلاب لانے کے لیے عوامی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے اور پی ٹی آئی کے ساتھ اس وقت کارکن بھی ہیں، عوامی طاقت کہاں سے آئے گی۔‘
کیا سہیل آفریدی اٹک کراس کر پائیں گے؟ کارکنوں کا سوال
پی ٹی آئی کارکنوں کا خیال ہے کہ عمران خان کے لیے حقیقی معنوں میں احتجاج ہوا تو لوگ نکلیں گے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایک کارکن کا ماننا ہے کہ کارکن اور عام لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں، لیکن پارٹی قیادت مخلص نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علی امین کئی بار اسلام آباد تک مارچ کر چکے ہیں، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں نکلا۔ ان کے مطابق اس وقت کارکنوں کا سوال ہے کہ کیا سہیل آفریدی اٹک کراس کر پائیں گے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے 27 ستمبر مارچ: سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف کیسز میں تیزی، کن مقدمات میں گرفتاری کا خدشہ؟
انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ اور وزرا اپنی کرسیاں بچانے کے لیے طاقتوروں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور پوری طاقت کے ساتھ فیصلہ کن احتجاج نہیں کرتے۔
کارکن پرجوش ہیں، اسٹریٹ مہم زور و شور سے جاری ہے: پی ٹی آئی
پی ٹی آئی رہنما اندرونی اختلافات کی تردید کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن اور علی امین کابینہ کے سابق وزیر محمد سجاد کے مطابق 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے لیے پارٹی مکمل تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر منتخب اراکین نے بھی اپنے اپنے حلقوں میں اسٹریٹ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہماری تیاری مکمل ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ نکلیں گے۔‘
پی ٹی آئی کے رکن اور سابق کابینہ رکن احتشام علی نے بتایا کہ اس بار احتجاج بھرپور ہوگا اور ہر حال میں اسلام آباد پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا، ’ہم پرامن احتجاج کریں گے، پرامن رہیں گے اور آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا احتجاج کریں گے۔‘
احتشام علی نے بتایا کہ سہیل آفریدی مارچ کی قیادت کریں گے اور اس وقت زور و شور سے اسٹریٹ مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی خود بھی مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے اور اراکین نے بھی مقامی سطح پر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔













