قندھار سے پنجشیر تک طالبان کے خلاف حملے، مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں اضافے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جن کے باعث طالبان کے سیکیورٹی نظام پر دباؤ بڑھنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قندھار، پنجشیر، ہلمند اور غور سمیت مختلف علاقوں میں افغان مزاحمتی گروہوں نے طالبان کے اہلکاروں، کمانڈروں، چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جس سے طالبان کے سیکیورٹی نظام میں موجود کمزوریوں کا اظہار ہوتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 16 ستمبر کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار شہر میں طالبان کے ایک سیکیورٹی اہلکار کو نشانہ بنایا۔ 15 ستمبر کو ہلمند کے ضلع ناوزاد میں افغان یونائیٹڈ فرنٹ کی کارروائی میں طالبان کے 2 اہلکار ہلاک اور 2 کلاشنکوف رائفلیں قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا۔

اسی طرح 12 ستمبر کو غور کے دارالحکومت فیروزکوه میں افغان فریڈم فرنٹ نے طالبان پولیس اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کمانڈروں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا، جس میں 3 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان کی زیرِ قیادت افغانستان عالمی دہشتگردی کا گڑھ بن گیا، اٹلانٹک کونسل کی تہلکہ خیز رپورٹ

رپورٹ کے مطابق پنجشیر میں بھی طالبان کی سیکیورٹی موجودگی کو نشانہ بنایا گیا۔ 15 ستمبر کو افغانستان گرین ٹرینڈ نے طالبان کی 2 رینجر گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ حملے کے بعد طالبان کی جانب سے مواصلاتی نظام بند کرکے مقامی آبادی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان گرین ٹرینڈ نے بعد ازاں کپیسہ کی جانب پیش قدمی اور ہلمند میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کا اعلان کیا، جس سے مزاحمتی کارروائیوں کے مزید علاقوں تک پھیلنے کا اشارہ ملتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف جغرافیائی علاقوں میں مزاحمتی کارروائیوں کا سامنے آنا طالبان حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے، کیونکہ حملے صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ مختلف صوبوں میں سیکیورٹی اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے سخت سیکیورٹی اقدامات، دباؤ اور طاقت کے استعمال کے باوجود مسلح مزاحمت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا، جبکہ قندھار جیسے طالبان کے روایتی مضبوط گڑھ سے پنجشیر تک کارروائیوں کا پھیلاؤ طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی کے لیے دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp