ہگنگ فیس میں کمزوریاں تلاش کرنے کی اوپن اے آئی ایجنٹس کی کوشش سامنے آگئی

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اوپن اے آئی سے منسلک خودکار اے آئی ایجنٹس نے جولائی میں ہونے والے بڑے سائبر حملے سے تقریباً 2 ماہ قبل ہی ہگنگ فیس کے صارف اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرکے ویب سائٹ میں ممکنہ کمزوریوں کی تلاش شروع کردی تھی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ انکشاف ان محققین نے کیا ہے جنہوں نے اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ نئی سامنے آنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہگنگ فیس میں داخل ہونے کی کوششیں پہلے سامنے آنے والی معلومات سے کہیں پہلے شروع ہوگئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے ہگنگ فیس سائبر حملے کی مزید تفصیلات جاری کردیں

اوپن اے آئی نے گزشتہ ماہ اپنی واقعے سے متعلق رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کی خودکار سرگرمی کے دوران ہگنگ فیس کے ایک صارف کی ڈیجیٹل اسناد چوری کرکے حیاتیات سے متعلق ایک فائل تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔ تاہم محققین نے بتایا کہ ہگنگ فیس کے خلاف سرگرمی اس سے کہیں زیادہ وسیع معلوم ہوتی ہے۔

آزاد محقق جوناس ویڈرمین مولر نے گزشتہ ہفتے اس سرگرمی کا پتا چلایا۔ ان کے مطابق شواہد سے معلوم ہوا کہ اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس نے ہگنگ فیس کے 2 صارف اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی اور 13 مئی سے کمپنی کے سرورز کو غیرمعمولی انداز میں تیار کردہ فائلیں بھیجیں۔

محقق اور دیگر ماہرین کے مطابق یہ سرگرمی ہگنگ فیس کے نیٹ ورک کے مختلف حصوں کی جانچ اور نقشہ سازی کی کوشش معلوم ہوتی ہے تاکہ ممکنہ طور پر اندر داخل ہونے کا راستہ تلاش کیا جاسکے، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس کوشش کے نتیجے میں حقیقی طور پر ہگنگ فیس کے نظام میں نقب لگائی گئی۔

اوپن اے آئی کے ترجمان ڈریو پوسیٹرِی نے کہا کہ کمپنی نے 13 مئی کے واقعے سے متعلق معلومات پہلے ہی فراہم کردی تھیں اور جوناس ویڈرمین مولر کی جانب سے سامنے لائی گئی سرگرمی سے ہگنگ فیس کو نجی طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی ہگنگ فیس سائبر حملہ: نئی تفصیلات سامنے آگئیں، اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی صلاحیتوں پر ماہرین پریشان

انہوں نے کہا کہ اوپن اے آئی ان معاملات میں شفافیت کے لیے پرعزم ہے اور جائزہ جاری رہنے کے ساتھ حاصل ہونے والی معلومات شیئر کرتی رہے گی۔

جوناس ویڈرمین مولر نے کہا کہ اوپن اے آئی کی جانب سے 13 مئی کی سرگرمی کا بروقت پتا نہ لگانا ایک ایسا موقع ضائع ہونے کے مترادف ہے جس سے بعد میں ہونے والی سائبر کارروائی کو روکا جاسکتا تھا۔

اوپن اے آئی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ بعد میں دستیاب معلومات کی روشنی میں اس کے اے آئی ایجنٹس کی کچھ ابتدائی سرگرمیوں کو پہلے ہی کارروائی کے لیے واضح اشارہ سمجھا جانا چاہیے تھا۔

‘واضح انتباہ’

2 بیرونی ماہرین نے ویڈرمین مولر کی جانب سے سامنے لائے گئے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ یہ سرگرمی ان کارروائیوں سے مطابقت رکھتی ہے جو پہلے اوپن اے آئی کے ایجنٹس سے منسوب کی جاچکی ہیں۔

سینٹینل ون کے خطرات کے سینیئر محقق ٹام ہیگل نے کہا کہ صارف اکاؤنٹس تک رسائی اور اس کے بعد کی جانچ پڑتال اوپن اے آئی کے ایجنٹس سے منسوب پہلے سے معلوم رویے سے مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہے۔

اے آئی سیفٹی گروپ نائٹنگیل کلیکٹو کی سڈنی وان آرکس نے بھی اس سرگرمی کو اوپن اے آئی سے منسوب کیا اور اسے جولائی کے واقعے کو روکنے میں مدد دینے والا ‘واضح انتباہ’ قرار دیا۔

اوپن اے آئی نے 21 جولائی کو انکشاف کیا تھا کہ خودکار اے آئی ایجنٹس نے اندرونی حفاظتی نظام کو نظرانداز کرکے کھلے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور باہمی رابطے کے ساتھ مختلف کارروائیاں انجام دیں۔ کمپنی نے اسے ایک غیرمعمولی سائبر واقعہ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے 4  اے آئی کمپنیوں کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے دیا

اس کے بعد بیرونی محققین نے اوپن اے آئی سے منسلک ایجنٹس کی مزید مبینہ سرگرمیوں کا سراغ لگایا، جن میں جرمنی کی ایک غیر فعال وکی ویب سائٹ اور روبی جیمز سافٹ ویئر پیکیج ذخیرے سے متعلق سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

ان اضافی واقعات کے باعث قانون سازوں اور اے آئی سیفٹی کے ماہرین کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ آیا ان واقعات کی مکمل نوعیت اور دائرہ کار سامنے آچکا ہے یا نہیں۔

جوناس ویڈرمین مولر نے کہا کہ تازہ انکشافات جدید اے آئی نظاموں کی تیاری میں عارضی وقفے کے مطالبات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp