جنوبی افریقہ نے امریکی ویزا پابندیاں مسترد کردیں، قوانین مسخ کرنے کا الزام

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی افریقہ نے نسلی مساوات سے متعلق اپنی پالیسیوں پر امریکا کی جانب سے عائد نئی ویزا پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے جنوبی افریقہ کے قوانین کو غلط انداز میں پیش کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ رونالڈ لامولا نے کہا کہ پریٹوریا نے امریکی اقدام کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے اختیار کیا گیا مؤقف ان انتہا پسند گروہوں کے بیانیے کی عکاسی کرتا ہے جو جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خاتمے کے بعد کی اصلاحات کے مخالف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں غیرملکی طلبہ کے لیے امیگریشن نظام تبدیل، نئی پابندیاں کل سے نافذ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ نئی ویزا پابندیوں کا ہدف ان افراد کو بنایا جائے گا جو ‘نسل کی بنیاد پر امتیاز، تشدد پر اکسانے یا جنوبی افریقہ میں بغیر معاوضے کے زمین ضبط کرنے’ کی حمایت کرتے ہیں۔

رونالڈ لامولا نے کہا کہ ماضی کی تقسیم ختم کرکے جمہوری اقدار، سماجی انصاف اور بنیادی انسانی حقوق پر مبنی معاشرہ قائم کرنا جنوبی افریقہ کے آئین کی بنیادی ضرورت ہے۔

امریکی حکومت نے فوری طور پر ان افراد کے نام ظاہر نہیں کیے جن پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاہم مزید ‘سخت’ اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ جنوبی افریقہ میں امریکی سفیر برینٹ بوزیل نے کہا کہ نئی ویزا پابندیوں کی پالیسی مزید سخت اقدامات کی ایک سیریز کا پہلا قدم ہے۔

نسل پرستی کے بعد کی پالیسیاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوبی افریقہ کی زمینوں کی اصلاحات اور روزگار میں مساوات سے متعلق قوانین پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ یہ قوانین نسل پرستی کے نظام کے خاتمے کے بعد معاشرے میں موجود نسلی عدم مساوات کم کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اقدامات کو افریکنر برادری کے خلاف امتیازی قرار دیا ہے۔ افریکنر جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت ہے جس کی بڑی تعداد ڈچ آبادکاروں کی نسل سے تعلق رکھتی ہے، تاہم جنوبی افریقہ کی حکومت اس مؤقف کو مسترد کرتی ہے۔

2025 میں امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا سے ملاقات کے دوران جنوبی افریقہ میں سفید فام افراد کے خلاف مبینہ ‘نسلی قتل عام’ سے متعلق دعووں کا حوالہ دیا تھا، جنہیں رپورٹ میں بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے ویزا قوانین میں تبدیلی کے خلاف امریکی یونینز نے عدالت سے رجوع کرلیا

دوسری جانب امریکی حکومت نے امیگریشن کے خلاف وسیع پیمانے پر سخت اقدامات کیے ہیں، تاہم اسی انتظامیہ نے ہزاروں سفید فام جنوبی افریقی باشندوں کو پناہ گزین کا درجہ دینے کی پیشکش بھی کی ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہیں جنوبی افریقہ میں ظلم و ستم کا سامنا ہے۔

رونالڈ لامولا نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جنوبی افریقی حکومت کسی مخصوص نسلی گروہ کو نشانہ بنارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پورے جنوبی افریقہ کے لیے ایک قومی مسئلہ ہیں۔

سابق صدر جیکب زوما کی قیادت میں اپوزیشن جماعت اومکھونٹو ویزیزوے پارٹی نے بھی امریکی ویزا پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنوبی افریقہ کی خودمختاری کی توہین قرار دیا۔

تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود پریٹوریا اور واشنگٹن تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقہ نے امریکا سے اپنے سفیر کی بے دخلی کو افسوس ناک قرار دے دیا

رونالڈ لامولا نے کہا کہ بات چیت سے یہ ضرورت واضح ہوئی ہے کہ کسی بھی حل میں جنوبی افریقہ کے مخصوص حالات، اس کے جمہوری نظام، آئین، خودمختاری اور عوام کی خواہشات کا احترام کیا جانا چاہیے۔

جنوبی افریقہ افریقی براعظم میں امریکا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ملک میں 500 سے زیادہ امریکی کاروباری ادارے اور تقریباً 30 ہزار امریکی شہری موجود ہیں۔

جنوبی افریقہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ امریکا کو ایک ‘سخاوت پر مبنی’ نیا تجارتی معاہدہ پیش کرے گا تاکہ ان بھاری محصولات سے بچا جاسکے جن سے ملک میں روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ جنوبی افریقہ پہلے ہی شدید بے روزگاری کے بحران کا سامنا کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp