یورپی یونین کا برطانیہ اور کینیڈا کے ساتھ مل کر نئی سلامتی کونسل قائم کرنے کا اعلان

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان دیر لاین نے خطے کو درپیش نئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئی ’یورپی سلامتی کونسل‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ یہ اعلان انہوں نے یورپی پارلیمنٹ میں اپنے سالانہ ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کے دوران کیا۔

اس نئی سیکیورٹی کونسل کا مقصد روایتی اور ہائبرڈ خطرات کے خلاف خطے کا اپنا مربوط لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ کونسل میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے علاوہ برطانیہ، ناروے، کینیڈا اور یوکرین کے رہنماؤں کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔

یہ بھی پڑھیے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے نے یورپ پر بھاری اقتصادی بوجھ ڈال دیا، صدر یورپی یونین

سائبر حملوں، ڈرونز کی دراندازی، اہم تنصیبات پر تخریب کاری اور آتش زنی جیسے ’ہائبرڈ حملوں‘ کا بروقت اور ہم آہنگ ردِعمل دینا (ان کارروائیوں کا اکثر الزام روس پر عائد کیا جاتا ہے)۔

نئی سلامتی کونسل بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

یورپی حکام کی جانب سے اپنی دفاعی خود مختاری بڑھانے کا یہ قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سیاسی تبدیلیوں اور نیٹو (NATO) پر واشنگٹن کے وعدوں سے متعلق پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے باعث یورپ پر اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں ممکنہ پالیسی تبدیلیوں اور نیٹو کے تحفظ کے وعدوں پر قائم رہنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے یورپی رہنماؤں کو متبادل دفاعی حکمتِ عملی بنانے پر مجبور کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا

یورپی کمیشن کی صدر نے ہائبرڈ واقعات کے تدارک کے لیے ایک نیا ’ردِعمل کا نظام‘ (Response Mechanism) تشکیل دینے کی بھی سفارش کی ہے۔

بعض دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس فورم کی ٹھوس پالیسی نہ بنائی گئی تو یہ نیٹو کے موجودہ ڈھانچوں کے متوازی کام کر کے ابہام کا باعث بن سکتا ہے، یا محض ایک رسمی سیاسی گفتگو کا مرکز بن کر رہ جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp