اگر ہم چین کی ترقی کو دیکھیں، تو یہ جدید دنیا کا سب سے حیرت انگیز اور فیصلہ کن سنگ مل محسوس ہوتا ہے۔ محض چالیس برسوں کے اندر، جس ملک کی پہچان غربت، سفارتی تنہائی اور جمود کے شکار نظریات تھی، اس نے خود کو مکمل طور پر بدل ڈالا ہے۔ آج وہ نہ صرف دنیا کا صنعتی مرکز اور ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک فعال ترین قوت ہے، بلکہ عالمی سیاست میں اسے ایک ناگزیر حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔
یہ غیر معمولی تبدیلی کسی راتوں رات ہونے والے اتفاقی واقعے یا کسی ایک لیڈر کا کارنامہ نہیں ہے، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط اس دور اندیش اور مربوط قومی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ جس نے معاشی ترقی اور خارجہ پالیسی کو ایک دوسرے کا بازو بنا دیا ہے۔
چین کی ترقی کا سب سے اہم اور فیصلہ کن موڑ 1978 میں اس وقت آیا، جب ڈینگ ژیاؤ پنگ نے ’اصلاحات اور عالمی انضمام‘ کی پالیسی کی بنیاد رکھی۔ چین نے ریاست کا کنٹرول مکمل ختم کرنے کے بجائے بڑی دانشمندی سے قدم بہ قدم مارکیٹ کے اصول اپنائے، نجی کاروباروں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا، غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا اور خصوصی معاشی زونز قائم کیے۔
اس تدریجی اور عملی انداز فکر نے چین کو کسی بڑے معاشی نصقان سے بچایا اور اسے مختلف تجربات کے ذریعے اپنی معیشت کی نئے سرے سے تعمیر کا موقع فراہم کیا۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ کس طرح چین نے چند دہائیوں میں دیہی و زرعی معاشرے سے ایک جدید شہری و صنعتی نظام، اور مرکزی کنٹرول سے ایک متحرک مارکیٹ معیشت کی طرف اپنا سفر طے کیا۔
چین کی اس حیرت انگیز معاشی پیش رفت کی بنیادی وجہ ایک نہایت سادہ مگر گہرا اصول تھا: “دنیا سے سیکھو، مگر اس کے محتاج نہ بنو۔” بیجنگ نے عالمی منڈیوں، غیر ملکی سرمائے اور جدید ٹیکنالوجی سے پورا فائدہ اٹھایا، لیکن اس دوران اپنی مقامی صنعتی صلاحیت کو ہرگز نظر انداز نہیں ہونے دیا بلکہ اسے مسلسل مضبوط کرتا رہا۔
2001 میں جب چین عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کا حصہ بنا، اس نے اس کے معاشی ارتقا کو نئی جہت دی۔ چینی صنعت دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سپلائی چین کا ایک ناگزیر حصہ بن گئی اور دنیا بھر کی مارکیٹوں تک اس کی پہنچ بے حد وسیع ہو گئی۔ تاہم، صرف کارخانوں کی تعمیرات ہی چین کے تاریخی ارتقا کے تمام گوشے اجاگر کرنے سے قاصر ہیں۔ اس معاشی انقلاب کے پیچھے انفراسٹرکچر، معیاری تعلیم، انسانی صلاحیتیں، سائنس اور ٹیکنالوجی میں کی جانے والی وسیع اور مدبرانہ سرمایہ کاری شامل ہے۔
چین نے جس تیز رفتاری سے شاہراہیں، بندرگاہیں، صنعتی زونز، جدید ریلوے نیٹ ورک اور پورے کے پورے نئے شہر آباد کیے، اس کی مثال جدید تاریخ میں شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، لاکھوں لوگ زراعت سے نکل کر صنعت اور جدید شعبہ جات کا حصہ بنے، جس سے ایک انتہائی متحرک اور پیداواری افرادی قوت کی بنیاد پڑی۔ یوں یہ معاشی استحکام اور تبدیلی صرف قومی آمدنی یا اعداد و شمار کے اضافے تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے محض معیشت کے رنگ نہیں بدلے، بلکہ پورے چینی معاشرے کے خدوخال کو ایک نئی زندگی اور جدت بخشی۔
معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ چین کی خارجہ پالیسی میں بھی ایک واضح ارتقا دیکھنے کو ملا۔ دہائیوں تک بیجنگ کا بنیادی محور غیر ضروری محاذ آرائی سے بچنا، ضبط و تحمل، قومی خودمختاری، عدم مداخلت، معاشی شراکت داری اور ایک مستحکم بین الاقوامی ماحول قائم رکھنا رہا۔
اس کے پس پردہ ایک نہایت گہری تزویراتی (اسٹریٹجک) سوچ کارفرما تھی: چین اچھی طرح سمجھتا تھا کہ کسی نظریاتی محاذ آرائی یا جنگ کے مقابلے میں اسے امن، عالمی منڈیوں تک بلا رکاوٹ رسائی اور پائیدار معاشی پیش رفت کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ تاہم، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ چین کا عالمی کردار ہمیشہ غیر فعال یا خاموش رہا۔ جیسے جیسے اس کی معاشی طاقت میں اضافہ ہوتا گیا، اس کی سفارت کاری میں بھی ایک نیا اعتماد اور وسعت آتی گئی۔
اس بدلتی ہوئی حکمت عملی کی سب سے نمایاں مثال ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ (BRI) ہے۔ چین نے سڑکوں کے جال، تجارت اور باہمی روابط کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم کو اپنی معاشی شہ رگ بناتے ہوئے دنیا کے ساتھ رشتوں کو نئی وسعتیں دیں۔ بیجنگ اس سفر کو کسی عسکری اتحاد کے بجائے، باہمی تعاون کا ایک ایسا حسین پلیٹ فارم مانتا ہے جہاں ترقی، امن اور دائمی رابطوں کے گل کھلتے ہیں۔
بی آر آئی کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ چین اب عالمی طاقت کو محض ہتھیاروں یا فوجی قوت کے ترازو میں نہیں تولتا۔ اس کے نزدیک تجارتی راستے، بندرگاہیں، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، مالیاتی نظام، ہنر مند افراد، انفراسٹرکچر اور سفارتی تعلقات بھی اقتدار و اثر و رسوخ کے اتنے ہی بڑے ذرائع ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو چین کی خارجہ پالیسی حقیقت میں اس کی معاشی حکمت عملی ہی کا ایک عملی اور توسیعی روپ بن چکی ہے۔
چین کے اس عروجِ بے نظیر نے اس فرسودہ تصور کو خاک میں ملا دیا ہے کہ جدیدیت اور ترقی کی منزل تک پہنچنے کے لیے مغرب کی سیاسی و معاشی ماڈل کا اپنانا ہی واحد راستہ ہے۔ بیجنگ نے دنیا کے سامنے ‘عملی ریاستی سرمایہ داری’ (Pragmatic State Capitalism) کا ایک نیا ماڈل پیش کیا ہے۔ اس نظام میں مارکیٹ دولت پیدا کرتی ہے اور نجی شعبہ معیشت میں روح پھونکتا ہے، لیکن ریاست بنیادی شعبوں اور دور اندیش منصوبوں پر اپنا مضبوط کنٹرول برقرار رکھتی ہے۔
اس ماڈل کی کامیابی نے ترقی پذیر ممالک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے، اگرچہ خود چین کو بھی بوڑھی ہوتی آبادی، ناہموار تقسیم دولت، پراپرٹی کے بحران، قرضوں کا بوجھ، سیاسی آزادیوں کی حد بندی اور مستقبل کی معاشی رفتار کو برقرار رکھنے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ شاید چین کے اس تاریخی سفر کا سب سے بڑا سبق یہ نہیں کہ باقی دنیا اندھا دھند اس کی تقلید کرے۔
اصل سبق یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی حقیقی تعمیر نو کے لیے اس کے داخلی اہداف اور خارجہ پالیسی کے درمیان ہم آہنگی کا ہونا ضروری ہے۔ چین نے دنیا کے لیے اپنے دروازے تو کھولے، مگر اپنی تزویراتی سمت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس نے عالمی منڈیوں کے سمندر میں قدم رکھا، لیکن اپنی اندرونی صلاحیتوں کی بنیادوں کو مسلسل مضبوط کرتا رہا۔ یوں اس نے معاشی باہمی انحصار کو اپنے گہرے سفارتی اثر و رسوخ میں بدل دیا۔
چین کی یہ داستان صرف ایک غریب ملک کے امیر ہونے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست کی داستان ہے جس نے یہ ہنر سیکھا کہ کیسے اپنی آبادی کو ایک عظیم پیداواری قوت میں ڈھالا جائے، اس قوت کو دولت میں، دولت کو جدید ترین ٹیکنالوجی میں، ٹیکنالوجی کو حکمت عملی پر مبنی اثر و رسوخ میں، اور بالاخر اس اثر و رسوخ کو عالمی طاقت کے ایک نئے تصور میں تبدیل کیا جائے۔
آج دنیا کو اسی تاریخی تبدیلی کے اثرات کا سامنا ہے۔ چین اب عالمی نظام کا محض ایک خاموش تماشائی نہیں رہا، بلکہ وہ اس نظام کی تشکیل نو پر اپنے گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اب یہ طے کرنا کہ آنے والی دنیا میں محاذ آرائی کا راج ہوگا یا باہمی بقاء کا، صرف بیجنگ کا امتحان نہیں بلکہ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ دنیا کی دیگر بڑی طاقتیں چین کے اس بے مثال عروج کا کس انداز میں استقبال اور جواب دیتی ہیں۔
لہٰذا، اکیسویں صدی کا بنیادی سوال اب یہ بالکل نہیں رہا کہ چین ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے یا نہیں۔ اصل اور سنجیدہ سوال یہ ہے کہ دنیا اس نئے چین سے کس طرح نپٹے گی، ایک ایسا چین جس نے معاشی پیش رفت کو قومی اقتدار اور عالمی اثر و رسوخ میں ڈھالنے کا فن پوری طرح سیکھ لیا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













