پاکستان سے یورپ غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی لاچکے، وزیر داخلہ محسن نقوی

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا کہ پاکستان نے یورپ میں غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی ریکارڈ کی ہے جو انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے حکومتی کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے بڑی مبصر ٹیم بھیجنے کا اعلان

وزیر داخلہ نے یہ بات انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ کی ڈائریکٹر جنرل سوزین راب اور یورپی یونین بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی (فرنٹیکس) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہانس لیجٹنس کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کہی۔

ملاقاتوں میں غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے، بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور اس شعبے میں مشترکہ کوششوں کو بڑھانے کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

اس دوران پاکستان، انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور فرنٹیکس نے غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے اور بارڈر سکیورٹی میکانزم کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

مؤثر بارڈر کنٹرول کے لیے مربوط اقدامات

شرکا نے مؤثر مائیگریشن مینجمنٹ اور بارڈر کنٹرول کے لیے مربوط اقدامات کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی ایک چیلنجنگ کام تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا تھا اور پوری ٹیم نے اس کمی کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل کام کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کا اگلا ہدف غیر قانونی نقل مکانی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔

انہوں نے غیر قانونی نقل و حرکت کو مزید کم کرنے کے لیے قانونی ہجرت کے لیے مزید راستے بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید پڑھیے: جاپان کے تعاون سے ایف آئی اے کی سرحدی نگرانی مزید مضبوط، جدید آلات اور گاڑیاں فراہم

محسن نقوی کے مطابق قانونی راستے محفوظ، منظم اور باقاعدہ نقل و حرکت کو یقینی بناتے ہوئے ہجرت کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

محسن نقوی نے غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بارڈر مینجمنٹ کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی صلاحیت کو جدید تقاضوں کے مطابق بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔

وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ غیر قانونی نقل مکانی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات اور مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور فرنٹیکس کے ساتھ تعاون ملک کی مائیگریشن مینجمنٹ کی کوششوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستان کا تمام ایئرپورٹس پر جدید کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ

مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کا ہدف ہے کہ ملک کے تمام ایئرپورٹس پر 500 امیگریشن کاؤنٹرز پر تکنیکی طور پر جدید کیمرے نصب کیے جائیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جدید نگرانی کا نظام حکام کو غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کی شناخت اور ان کے خلاف فوری کارروائی میں مدد دے گا۔

ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ سوزین راب نے غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف اسلام آباد کی کوششوں کو سراہا اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ملک کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو تسلیم کیا۔

سوزین راب نے کہا کہ غیر قانونی نقل مکانی کو کم کرنے میں پاکستان کی پیش رفت قابل ذکر ہے اور اس مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے ہدف کے حصول میں مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مزید پڑھیں: غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

سوزین را  کے وفد نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی رسک اینالیسز رپورٹ کو بھی سراہا اور مائیگریشن مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ میکانزم کو بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے کام کو تسلیم کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp