شام کے سابق صدر بشار الاسد کے استبدادی اور سرکوبانہ دورِ حکومت میں محض ایک ممنوعہ کتاب کا ملنا بھی بدترین تشدد اور گوانتانامو جیسے بدنامِ زمانہ عقوبت خانوں میں موت کی وجہ بن سکتا تھا، تاہم ایک شامی بزرگ شہری کی جانب سے اپنے ذاتی لائبریری کو 13 سال تک گھر کی دیوار کے پیچھے محفوظ رکھنے اور حال ہی میں اسے صحیح سلامت نکالنے کا واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے۔اور اس کی ویڈیو وائرل ہے۔
شام کے ایک سینماٹوگرافر عبدالاحد الانی نے ’ ایکس‘ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں بتایا گیا ہے کہ شامی دارالحکومت دمشق کے ایک سن رسیدہ شہری نے سال 2011 کے اختتام پر بشار الاسد کی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کے خوف سے کویت فرار ہونے سے قبل اپنے گھر کے اندر موجود نایاب اور ممنوعہ کتابوں کے ذخیرے کو ایک جعلی دیوار کے پیچھے چنوا دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے بشارالاسد دور میں لاپتا مردوخواتین کو کس طرح ٹارچر کیا جاتا تھا؟
ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں گھر میں کسی ایک بھی ایسی کتاب کی موجودگی جو حکومت کی منظور شدہ نہ ہو، مالک کو اسد کے عقوبت خانوں اور حراستی مراکز میں پہنچا کر تشدد کے ذریعے مار ڈالنے کے لیے کافی تھی۔
حال ہی میں جب حالات میں تبدیلی آئی تو مذکورہ بزرگ دمشق میں واقع اپنے گھر واپس لوٹے اور انہوں نے 13 سال قبل بنائی گئی اس دیوار کو گرا کر اپنی نایاب کتب کا ذخیرہ برآمد کر لیا۔
وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طویل عرصے تک تاریکی میں رہنے کے باوجود یہ کتابیں مکمل محفوظ حالت میں موجود ہیں، جن میں اسد حکومت کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی اہم دینی، سیاسی اور فکری تحریریں شامل ہیں۔
This Syrian old man hid his private library in his home in the city of Damascus since the end of 2011 before escaping to Kuwait out of fear of the Assad regime, where the mere presence of a banned book could lead you to Assad's gulag and death under torture.
Today, the uncle… pic.twitter.com/GNXm6V7x2t
— Abd alhade alani (@abdalhadealani) September 16, 2026
واضح رہے کہ شام میں بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کے اقلیتی علوی اقتدار کے دوران اکثریتی سنی مسلمان آبادی (تقریباً 74 فیصد) کو منظم سیاسی، مذہبی اور معاشی جبر کا نشانہ بنایا گیا:
اسد حکومت نے مذہبی کتب، خصوصاً سنی مکتبہ فکر کی اہم تاریخی، فکری اور سیاسی کتب کی خرید و فروخت پر سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ ایسی کتابیں رکھنا جرمِ عظیم سمجھا جاتا تھا اور خفیہ ادارے (مخابرات) محض شبہے کی بنیاد پر لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارتے تھے۔
ہزاروں سنی علمائے کرام، طلباء اور عام شہریوں کو محض مذہبی رجحان یا حکومت مخالف فکر رکھنے کی بنیاد پر صیدنایا، تدمر اور دیگر بدنامِ زمانہ عقوبت خانوں میں قید کیا گیا۔ جہاں ان پر انسان سوز تشدد کیا جاتا اور ہزاروں افراد کو جعلی سماعتوں کے ذریعے پھانسیاں دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے بشارالاسد مخالف قیدی اپنے پالتو شیروں کو کھلانے والے سفاک فوجی کو سرعام پھانسی دیدی گئی
فوج، پاسبانِ انقلاب (مزاحمتی فورسز) اور خفیہ اداروں کے تمام کلیدی عہدوں پر علوی اقلیت کو تعينات کیا جاتا تھا جبکہ سنی آبادی کو بااثر سیاسی یا سیکیورٹی عہدوں سے دور رکھا گیا۔
1982 میں حافظ الاسد کے دور میں شہر ‘حماۃ’ میں سنی آبادی پر بمباری کر کے ہزاروں افراد کو شہید کیا گیا۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے 2011 کے بعد بشار الاسد نے حلب، غوطہ اور حمص جیسے بڑے سنی اکثریتی علاقوں پر کیمیائی ہتھیاروں، بیرل بموں اور فضائی حملوں کا استعمال کیا جس سے لاکھوں افراد شہید اور کروڑوں بے گھر ہو کر ترکیہ، اردن اور یورپ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔














