شہرِ قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ماں اور 3 معصوم بچوں کے اندوہناک قتل کی واردات نے جہاں پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، وہیں اس دل دہلا دینے والے واقعے کے پسِ پردہ سامنے آنے والی تفصیلات اور ملزم کے انجام نے تفتیش کے کئی اہم پہلو بھی واضح کر دیے ہیں۔ واقعے کے ابتدائی مرحلے کی پراسراریت سے لے کر ملزم کے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے تک، یہ اس ہولناک واردات کی مکمل تفصیل ہے۔
واقعے کے روز سرجانی ٹاؤن کا ایک گھر اس وقت ماتم کدہ بن گیا، جب دانش نامی شہری کی اہلیہ مہوش اور ان کے 3 معصوم بچوں کی لاشیں خون میں لت پت ملیں۔ جائے وقوعہ سے پولیس کو ابتدائی طور پر کوئی واضح یا کلیدی ثبوت نہیں ملا، جس کے باعث کیس ابتدا میں ایک معمہ بنا رہا۔
4 افراد کے سفاکانہ قتل سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے پیشِ نظر پولیس نے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
آستین کا سانپ
پولیس کی اعلیٰ سطح کی تفتیشی ٹیموں نے خاندان کے قریبی افراد کو شاملِ تفتیش کیا۔ تدفین کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے نندوئی، یعنی نند کے شوہر، محمد ہمایوں خان ولد حسن خان کو مقتولہ کے گھر سے حراست میں لے لیا۔
سینئر صحافی شاہ میر خان کے مطابق واقعہ 14 ستمبر کو پیش آیا۔ سرجانی ٹاؤن سیکٹر 7 میں مہوش نامی خاتون اور ان کے 3 بچوں مرحا، حسنین اور اشمیرہ کو قتل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے مائی کلاچی میں ماں اور 3 بچوں کا قتل، ملزم 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
ان کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے شوہر کو بھی حراست میں لیا تھا، تاہم تدفین کے موقع پر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے محمد ہمایوں کو اس کیس میں حراست میں لیا۔
ہمایوں مقتولہ کا بہنوئی تھا اور اس کی مہوش پر بُری نظر تھی۔
ملزم مبینہ طور پر غلط ارادے سے گھر میں داخل ہوا، تاہم خاتون نے مزاحمت کی، جس پر ملزم نے مہوش کو قتل کر دیا۔ بعد ازاں بچوں کو بھی ایک ایک کرکے قتل کیا گیا۔
آلۂ قتل دھو کر نالے میں پھینک دیا
ملزم نے لوہے کی سلاخ کے وار سے چاروں افراد کو قتل کیا۔ واردات کے بعد اس نے جائے وقوعہ سے خون صاف کیا اور واش روم میں جا کر خود کو بھی صاف کیا۔ اس نے آلۂ قتل، یعنی سریے کی سلاخ، بھی دھو دی اور بعد ازاں اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
واردات دن کے وقت ہوئی اور ملزم تقریباً شام ساڑھے 6 بجے گھر سے نکلا۔ ملزم نیو کراچی کا رہائشی تھا اور اس نے آلۂ قتل ایک نالے میں پھینک دیا تھا، جسے بعد میں پولیس نے اس کی نشاندہی پر برآمد کر لیا۔
ملزم مقتولہ کا موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا تاکہ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا کسی کو علم نہ ہو سکے۔ تاہم پولیس نے تکنیکی بنیادوں پر تفتیش آگے بڑھائی۔ کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) حاصل کیا گیا اور جیو فینسنگ کے ذریعے مشتبہ موبائل نمبروں کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا، جس کی مدد سے ملزم تک پہنچا گیا۔
پولیس کی حراست میں ملزم نے مبینہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔
عینی شاہد کون تھا؟
اس کیس میں ایک پڑوسی خاتون عینی شاہد تھیں، جنہوں نے ملزم کو گھر میں داخل ہوتے اور وہاں سے نکلتے دیکھا تھا۔ گھر سے نکلنے کے بعد ایک اور شخص نے بھی اسے دیکھا اور اس سے سلام دعا کی۔ اہلِ محلہ سے لیے گئے بیانات میں بھی ملزم کا حلیہ سامنے آتا رہا۔
سینئر صحافی عبید شاہ نے واقعے سے متعلق بتایا کہ ملزم تقریباً ڈھائی بجے گھر پہنچا اور شام 6 بجے تک وہاں موجود رہا۔ پولیس نے انہیں بتایا کہ ایک عینی شاہد نے ملزم کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔
یہ وہ اہم مرحلہ تھا جس نے تفتیش کا رخ بدل دیا، کیونکہ عینی شاہد کے بیان سے پولیس کو ملزم تک پہنچنے میں مدد ملی۔
موبائل لوکیشن اور اعترافِ جرم
مقتولہ کا موبائل فون آخری بار ان کے گھر کی حدود میں موجود تھا۔ موبائل فون کی لوکیشن اور عینی شاہد کے بیان سے ملزم پر شبہ مزید مضبوط ہوا، جس کے بعد اسے حراست میں لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم نے فوری طور پر جرم کا اعتراف کر لیا۔
ملزم کو مقتولہ کے اہلِ خانہ کے سامنے بھی پیش کیا گیا، جہاں اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ ملزم نے مبینہ طور پر کہا، ’میرا دماغ بالکل ماؤف ہو گیا تھا، میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔ مجھے خود سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں نے کیا کر دیا اور میں کیا کر رہا ہوں۔‘
آلۂ قتل کی برآمدگی کے دوران پولیس مقابلہ
پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے تحت آلۂ قتل جس نالے میں پھینکا گیا تھا، اس کی تلاش کے لیے پولیس ٹیم ملزم کو ساتھ لے کر وہاں پہنچی۔ ٹیم نالے میں آلۂ قتل تلاش کر رہی تھی کہ ملزم نے مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار کا پستول نکال لیا اور ایک اہلکار کو دھکا دیا، جس کے نتیجے میں وہ گر کر زخمی ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیے 30 اگست کو شادی تھی، آج جنازہ اٹھ گیا، میر رضا علی کے قتل نے کراچی کو کیوں ہلا کر رکھ دیا؟
اے ایس آئی نے ملزم کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ کر دی، جس سے اے ایس آئی کے بازو پر گولی لگی۔ ملزم فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ پولیس نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
ڈی آئی جی ویسٹ کے چونکا دینے والے انکشافات
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے پریس کانفرنس کے دوران تفتیش کے حوالے سے اہم تفصیلات بیان کیں۔
عرفان بلوچ کے مطابق ملزم ہمایوں پیر کی دوپہر تقریباً 2 بجے اپنے سالے دانش کے گھر پہنچا اور وہاں چائے پی۔ مقتولہ مہوش نے اسے بازار سے سامان لانے کے لیے بھیجا۔ جب ملزم واپس آیا تو 2 بچے مدرسے جا چکے تھے۔
ڈی آئی جی کے مطابق خاتون کو شیر خوار بچی کے ساتھ اکیلا دیکھ کر ملزم نے مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کی۔ خاتون کی مزاحمت پر ملزم طیش میں آگیا اور اس نے لوہے کی سلاخ سے ان کے سر پر مہلک وار کیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔
پولیس کے مطابق واردات کے بعد جب ملزم فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا تو مدرسے سے دونوں بچے گھر پہنچ گئے۔ ملزم نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے دونوں بچوں کو بھی لوہے کی سلاخ کے وار کرکے قتل کر دیا۔
ملزم کی گرفتاری اور آخری پولیس مقابلہ
اعترافِ جرم کے بعد ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کی ہدایت پر پولیس ٹیم ملزم ہمایوں کو آلۂ قتل کی نشاندہی اور برآمدگی کے لیے قریبی نالے پر لے گئی۔
پولیس کے مطابق افسران اور اہلکار آلۂ قتل کی تلاش میں مصروف تھے کہ ملزم نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پولیس اہلکار کا پستول چھین لیا اور فرار ہونے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے فائرنگ کی، جس کی زد میں آ کر اے ایس آئی نعمان شیخ زخمی ہوگئے۔ پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں محمد ہمایوں موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
نتائج اور قانونی پیشرفت
پولیس ترجمان کے مطابق ہلاک ملزم کے قبضے سے چھینا گیا پستول اور اس کی نشاندہی پر آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ زخمی پولیس افسر کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ ہلاک ملزم کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کرکے قانونی مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں۔
سرجانی ٹاؤن کا یہ اندوہناک واقعہ علاقے میں خوف و ہراس کا باعث بنا، تاہم پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران عینی شاہدین کے بیانات، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزم تک پہنچا گیا اور ایک ہفتے کے اندر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔














