ہڑتال، دھرنوں اور کاروباری بندش سے معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے نقصان کا خدشہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اتوار 20 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہڑتالوں، دھرنوں، سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ اس کے اثرات ٹیکس ریونیو، برآمدات، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی رفتار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے مشکل فیصلوں اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک نے ایک اہم سفر طے کیا ہے اور اب معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم احتجاج، دھرنوں اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش سے اس پیشرفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پلاننگ کمیشن کے اکنامک ونگ کے ساتھ مل کر ماضی کے تجربات اور موجودہ معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں میں تعطل کے اثرات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے مطابق مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر تقریباً 120 ارب روپے یومیہ نقصان کا اندیشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلامی چیمبر کے سیکریٹری جنرل کی وزیر خزانہ سے ملاقات، اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

وزیر خزانہ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان خدمات کے شعبے میں ہوگا، جس میں مالیاتی خدمات، مواصلات، ٹرانسپورٹ، ریٹیل و ہول سیل اور ہوٹلنگ سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔ اس شعبے میں یومیہ تقریباً 86 ارب روپے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے تقریباً 25 ارب روپے روزانہ نقصان ہوسکتا ہے، جس میں تعمیرات، تیار مصنوعات، خام مال اور سپلائی چین سے متعلق سرگرمیاں شامل ہیں، جبکہ زرعی شعبے میں ٹرانسپورٹیشن، جلد خراب ہونے والی اشیا، ڈیری سپلائی چین اور زرعی پیداوار سے متعلق سرگرمیوں کو ملا کر تقریباً 9 ارب روپے یومیہ نقصان کا خدشہ ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں تعطل کا براہ راست اثر ٹیکس وصولیوں پر بھی پڑے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس ریونیو میں گزشتہ 2 سال کے دوران تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم معاشی سرگرمیاں رکنے کی صورت میں تقریباً 17 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا تخمینہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

انہوں نے کہا کہ حکومت کی اصل توجہ اب معاشی استحکام سے مجموعی قومی پیداوار کی پائیدار ترقی کی طرف بڑھنے پر ہے، جبکہ رواں مالی سال اشیا کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 6 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں ہڑتالوں اور معاشی سرگرمیوں میں تعطل کے اثرات سامنے آچکے ہیں اور بعض مواقع پر معمول کی صورتحال بحال ہونے میں کئی ہفتے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں روزانہ کی برآمدی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ مجموعی ترقی کی راہ بھی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے خلیج کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستانی برآمد کنندگان اور کاروباری افراد پہلے ہی مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں ملک کے اندر مزید ہڑتالیں یا سڑکوں کی بندش برآمدات اور معاشی ترقی کے لیے اضافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

محمد اورنگزیب نے آئی ٹی برآمدات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی سروسز کی برآمدات کو بھی آگے بڑھایا جارہا ہے اور گزشتہ جولائی اور اگست میں آئی ٹی برآمدات تقریباً 811 ملین ڈالر رہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کے نتیجے میں انٹرنیٹ اور رابطوں سمیت کاروباری سرگرمیوں میں تعطل پیدا ہوا تو آئی ٹی ایکسپورٹس بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی تعطل کا سب سے فوری بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے، خصوصاً دیہاڑی دار مزدور، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد، چھوٹے دکاندار اور چھوٹے کاروبار اس سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلوں کے بعد ملکی معیشت طویل عرصے کے بعد دوبارہ استحکام کی طرف آئی ہے اور اب اسے برآمدات، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کی جانب لے جانا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی طرف یہ سفر حکومت یا کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کوشش ہونی چاہیے کہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں جن سے معاشی سرگرمیاں متاثر اور عام آدمی کا روزگار متاثر ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp