مصنوعی ذہانت: چین سے مقابلے میں کیا امریکا حفاظتی اقدامات کو پسِ پشت ڈال رہا ہے؟

اتوار 20 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی سمیت ٹیکنالوجی کے شعبے کی اہم شخصیات چین کا حوالہ دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی ترقی میں تیزی پر زور دے رہی ہیں، جس سے اے آئی کی سلامتی اور ممکنہ خطرات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ سے رواں ہفتے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ سائبر سیکیورٹی اور حفاظتی خدشات کے پیش نظر مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنے کی حمایت کریں گے؟ انہوں نے ایک لفظ میں جواب دیا: ’چین‘۔ ان کا کہنا تھا کہ جو فریق مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتے گا، وہی سبقت لے جائے گا۔ یہ مؤقف اے آئی کی صنعت کی جانب سے بھی طویل عرصے سے پیش کیا جاتا رہا ہے تاکہ سخت ضابطوں کی راہ ہموار نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان متوقع ملاقات کے حوالے سے غیریقینی صورتحال برقرار

اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی نے بھی اس ہفتے صنعت پر زور دیا کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار میں احتیاط برتی جائے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکا اتنی ہی رفتار کم کرسکتا ہے جتنی چین کے مقابلے میں نقصان کا باعث نہ بنے۔

امودی کئی برس سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ آمرانہ حکومتوں کے ہاتھ جدید اے آئی بڑے پیمانے پر نگرانی اور خودکار ہتھیاروں کے استعمال کو ممکن بنا سکتی ہے۔ وہ چین کو جدید چپس کی برآمد پر سخت پابندیوں کے حامی بھی رہے ہیں۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے فیلو کائل چان کے مطابق امودی کا مؤقف ان کے ساتھی ٹیکنالوجی رہنماؤں، جن میں سیم آلٹ مین اور مارک زکربرگ شامل ہیں، سے مختلف ہے، جو اس دوڑ کو بنیادی طور پر معاشی مسابقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سابق اوپن اے آئی محقق لیوپولڈ آشین برینر نے بھی 2024ء کی ایک معروف رپورٹ میں امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ چین سے پہلے ’سپر انٹیلی جنس‘ حاصل کرنے کے لیے تیز رفتار پیش رفت کرے۔ امریکی پالیسی حلقوں میں بھی اسی نوعیت کے خیالات سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کا خواب ادھورا، چین نے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑے منصوبے کا اعلان کردیا

دوسری جانب اے آئی کی سلامتی سے متعلق بعض ماہرین اس دوڑ کے ممکنہ نتائج پر مزید سخت خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی دوران امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون پر مذاکرات متوقع ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات بھی متوقع ہے۔

بحرالکاہل کے دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، برآمدی پابندیوں اور سلامتی کے معاملات پہلے ہی کشیدگی کا باعث ہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے فیلو کینٹن تھیبو کے مطابق چینی سرکاری میڈیا نے امودی پر ’سرد جنگ کی حکمت عملی‘ اپنانے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ کائل چان کے مطابق برآمدی پابندیوں اور اے آئی سیفٹی کے معاملات کے باہمی تعلق نے چین کو دونوں موضوعات پر الگ الگ بات چیت سے بھی محتاط کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp