کوہاٹ پولیس لائنز میں گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کرنے والا حملہ آور افغان شہری نکلا، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین سے بتایا گیا ہے۔
حملہ آور تقریباً 2 سال قبل گھر سے نکلنے کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل ہوگیا تھا، جہاں سے اسے دہشت گرد کارروائی کے لیے تیار کیے جانے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
حملہ آور کے ایک رشتہ دار کے دوست کے مطابق، مذکورہ شخص نے تقریباً 2 سال قبل اپنا گھر چھوڑا تھا، جس کے بعد اسی عرصے کے دوران وہ ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک میں شامل ہوگیا۔ اس کی بھرتی اور دہشتگرد تنظیم سے وابستگی کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حملہ آور نے گاڑی پولیس لائنز میں گھسا کر خودکش دھماکا کیا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد شہید ہوگئے تھے۔
واقعے کے بعد متاثرہ علاقے میں بحالی اور تعمیر نو کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ پولیس لائنز کی مسجد، جو دھماکے سے متاثر ہوئی تھی، اس کی تعمیر نو مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ قریبی ہوٹلوں، بینک، پیٹرول پمپ اور دیگر عمارتوں کی مرمت اور تعمیر نو کا کام بھی جاری ہے۔
کوہاٹ حملے میں ملوث خودکش بمبار کا افغانستان سے تعلق اور اس کا مبینہ طور پر ٹی ٹی پی میں شامل ہونا دہشت گرد تنظیموں کی سرحد پار بھرتی اور کارروائیوں کے معاملے کو نمایاں کرتا ہے۔
پاکستان بار ہا افغانستان سے مطالبہ کر چکا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔














