امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے سیاسی اختلافات کے باوجود نیویارک میں امیگریشن کے نفاذ اور اربوں ڈالر کے ہاؤسنگ منصوبے سمیت شہر سے متعلق مختلف امور پر بات چیت کی۔
مین ہیٹن میں ہونے والی تقریباً ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے ممدانی کے بارے میں نسبتاً مثبت انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نیویارک کے میئر کامیاب ہوں اور شہر کے لیے اچھا کام کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ممدانی کی ٹرمپ سے ملاقات: رہائشی بحران پر تعاون، امیگریشن پالیسیوں پر اختلاف برقرار
ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیویارک اور پورے ملک کے لیے بہتری چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے میئر کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات اس وقت ہوئی جب ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے آبائی شہر نیویارک پہنچے تھے، یہ گزشتہ برس ممدانی کے میئر منتخب ہونے کے بعد دونوں کی تیسری عوامی ملاقات تھی۔
.@NYCMayor Mamdani (D) and President Trump speak on the White House press ban:
Mamdani: "I told the president that we're gonna have all the members of the press here on the lawn."
Trump: "They said they were gonna boycott me but they never boycott me." pic.twitter.com/Hzy5VhVMIK
— CSPAN (@cspan) September 21, 2026
ممدانی نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ نیویارک کے شہریوں کو محفوظ رکھنے اور امیگریشن کے حوالے سے اپنی ’بہت مضبوط آرا‘ کا اظہار کیا۔
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہزاروں تارکین وطن کے عارضی تحفظ کی حیثیت ختم کرنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کے منصوبوں سے متعلق اپنے تحفظات بھی بیان کیے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے صحافی کے سخت سوال پر ممدانی کو کیسے مشکل سے نکالا؟
ملاقات میں نیویارک میں 12 ہزار گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر بھی بات ہوئی, ممدانی کے مطابق اس منصوبے پر دونوں رہنما پہلے بھی فروری میں تبادلہ خیال کر چکے ہیں اور اس کے لیے وفاقی حکومت سے تقریباً 21 ارب ڈالر کی فنڈنگ درکار ہوگی۔
ممدانی نے کہا کہ دونوں کے درمیان ’بہت سے اختلافات‘ موجود ہیں، تاہم وہ ٹرمپ اور دیگر ایسے افراد کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے جو نیویارک کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ممدانی کی ٹرمپ سے ملاقات: رہائشی بحران پر تعاون، امیگریشن پالیسیوں پر اختلاف برقرار
ملاقات کے دوران میڈیا کی آزادی کا معاملہ بھی سامنے آیا, ممدانی نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ سے واضح کیا کہ مشترکہ پریس کانفرنس میں تمام میڈیا اداروں کو خوش آمدید کہا جائے گا، کیونکہ ان کے نزدیک مختلف آرا اور تنقید رکھنے والوں کے ساتھ بھی مکالمہ ضروری ہے۔
ٹرمپ نے اس موقع پر ان امریکی میڈیا اداروں کی جانب سے ان کی کوریج کے بائیکاٹ کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے ماضی میں بھی بائیکاٹ کی بات کی لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امیگریشن پالیسی، ہاؤسنگ اور وائٹ ہاؤس اور میڈیا کے درمیان تعلقات امریکی سیاسی مباحث میں نمایاں موضوعات بنے ہوئے ہیں۔














