بھارتی اداکارہ اور پروڈیوسر ایشوریہ لکشمی نے انسٹاگرام سے ایک سال کی دوری کے بعد بتایا ہے کہ سوشل میڈیا چھوڑنے سے ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی اور انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا تھا۔
فلم ’گٹا کشتی 2‘ کی کامیابی سے لطف اندوز ہونے والی اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ انسٹاگرام مکمل طور پر چھوڑ دیں گی۔ ابتدا میں ان کا ارادہ صرف کچھ عرصے کے لیے اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کرنے کا تھا، لیکن بعد میں انہوں نے سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور رہنے کا فیصلہ کیا۔
ایشوریہ لکشمی نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ بہت سی ایسی چیزیں تھیں جن کے بارے میں انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ مکمل طور پر چھوڑ دیں گی۔ ان کے بقول،’میں نے سوچا تھا کہ میں اپنے اکاؤنٹ کو کچھ دیر کے لیے ڈی ایکٹیویٹ کر دوں، کیونکہ یہ صرف کام کے لیے ضروری ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیے جانے والے مواد اور اپنے بارے میں بنائے جانے والے’فحش ایڈیٹس‘ سے تنگ آچکی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں سوشل میڈیا انفلوئنسر کااغوا، تشدد کے بعد زندہ جلا دی گئی
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر مسلسل موجود رہنے اور ہر وقت لوگوں کے سامنے خود کو پیش کرنے کے بجائے اس سے دوری نے انہیں ذہنی طور پر بہت سکون دیا اور اب وہ خود کو پہلے سے کہیں زیادہ خوش محسوس کرتی ہیں۔
ایشوریہ لکشمی نے کہا، ’مجھے نہیں لگتا کہ اس سے میرے کام پر کوئی خاص اثر پڑا ہے۔ میرے مینیجرز اور ایجنٹس مجھے دوبارہ سوشل میڈیا پر آنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔‘
ایشوریہ نے بتایا کہ انہیں کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا سے دور رہنے کی وجہ سے وہ مالی مواقع کھو رہی ہیں، لیکن ان کے لیے اس پلیٹ فارم سے دور رہ کر ملنے والا ذہنی سکون زیادہ اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ لوگ انہیں ان کی فلموں اور کام کی بنیاد پر جانیں۔ ان کے بقول، ایسے برانڈز جو جانتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر نہیں کرسکتیں اور پھر بھی ان کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کے لیے تیار ہیں۔
ایشوریہ لکشمی نے بتایا کہ انسٹاگرام استعمال کرتے ہوئے وہ مسلسل پیغامات اور کمنٹس پڑھا کرتی تھیں، جس سے رفتہ رفتہ انہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے پوری دنیا ان کے خلاف ہے۔
اداکارہ کے مطابق سوشل میڈیا سے دور ہونے کے بعد حقیقی زندگی میں لوگوں سے ملتے ہوئے ان کا یہ احساس ختم ہوگیا ہے اور اب انہیں ایسا نہیں لگتا کہ ہر شخص ان کے خلاف ہے یا سب مل کر ان کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا ماحول بعض اوقات انتہائی تلخ اور زہریلا ہوسکتا ہے۔
ایشوریہ لکشمی کا کہنا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے کچھ مواقع ان کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں، لیکن اب فلمیں ان کی زندگی کا واحد مرکز نہیں رہیں۔
ان کے مطابق فلمی کیریئر کے ابتدائی برسوں میں سینما ان کی پوری زندگی تھا، لیکن اب یہ ان کی زندگی کا صرف ایک حصہ ہے۔ وہ اپنی پسند کی فلمیں کرنا چاہتی ہیں اور اگر سال میں صرف ایک ایسی فلم کریں جسے وہ واقعی پسند کرتی ہوں تو بھی وہ مطمئن ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اداکاروں کی مالی پریشانی سوشل میڈیا کی چمک دمک کے پیچھے چھپ جاتی ہے، نادیہ افغان
تھرواننت پورم سے تعلق رکھنے والی ایشوریہ لکشمی نے اداکاری سے قبل ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ انہوں نے 2017 میں ملیالم فلم ’نژندکلودے نٹیل اوریدا ویلا‘ سے فلمی سفر شروع کیا۔
اسی سال ’مایانادی‘ میں اداکاری سے انہیں نمایاں شہرت ملی، جبکہ فہد فاضل کے ساتھ ’وراتھن‘ بھی ان کے اہم پراجیکٹس میں شامل ہے۔
ایشوریہ لکشمی نے بعد میں تامل فلم انڈسٹری میں بھی قدم رکھا اور منی رتنم کی فلم ’پونین سیلوان‘ سیریز کا حصہ بنیں، جو ان کی زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شامل ہے۔
ان کی دیگر فلموں میں ’کانے کانے‘، ’امّو‘، ’کماری‘، ’گٹا کشتی‘، ’ہیلو ممی‘ اور سوری کے ساتھ ’مامان‘ شامل ہیں۔














