پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق دہشتگردی اور انتہاپسندی کے سخت مخالف تھے، انہوں نے ملی یکجہتی کونسل، دفاع پاکستان کونسل اور دفاع پاکستان افغانستان کونسلز قائم کیں، جبکہ دارالعلوم حقانیہ اپنا روحانی، علمی اور فکری کردار ادا کر رہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کا پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے موقف انتہائی سخت اور واضح تھا، وہ کبھی بھی دہشت گردی کے حامی نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلوم حقانیہ ایک روحانی، علمی اور فکری مرکز ہے اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف اس کا موقف بھی واضح ہے۔
علامہ طاہر اشرفی نے بتایا کہ گزشتہ روز موجودہ عالمی اور ملکی حالات کے تناظر میں دارالعلوم حقانیہ کا دورہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کو وزیراعظم پاکستان نے یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت پر تعزیت کی جائے اور اسلام، پاکستان اور امن کے موضوع پر مکالمے کے راستے کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ اسی مقصد کے تحت وزیر اطلاعات نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ہمراہ دورہ کیا، جہاں شہید مولانا ادریس کے حوالے سے تعزیت کے ساتھ ساتھ امن کے فروغ اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل پر بھی گفتگو کی گئی۔














