بھارت کی تنگ نظری کرکٹ کے بعد دیگر عالمی کھیلوں میں شرکت کے دوران بھی جھلک رہی ہے اور اس مرتبہ ایشین گیمز میں شکست کے بعد بھارتی ایتھلیٹ نے کھیل کی روایات پامال کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہاتھ نہ ملانے‘ پر بھارتی ٹیم کامذاق، آسٹریلوی کھلاڑیوں کی طنزیہ ویڈیو منظرعام پر
ایم ایم اے کے سیمی فائنل مقابلے میں بھارت کی سوچیکا تاریال کو سنگاپور کی ہوئی ہون نے شکست دی۔ تاہم سوچیکا نے شکست ماننے سے انکار کرتے ہوئے حریف ایتھلیٹ اور ریفری سے ہاتھ نہیں ملایا۔
60 کلو گرام کیٹیگری کا یہ مقابلہ مقررہ وقت میں برابر رہا جس کے بعد بھارتی کیمپ نے فیصلے کو چیلنج کیا تاہم ری ویو میں بھی ججز نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔
بھارت کی تنگ نظری سے عالمی کھیل کے فورم بھی محفوظ نہیں،ایشین گیمز میں بھارتی خاتون کھلاڑی نے شکست کے بعد ترک فاتح کھلاڑی سے ہاتھ نہیں ملایا pic.twitter.com/1V1z7LUsx3
— Pervaiz Sandhila (@chsandhilaa) September 22, 2026
قواعد کے مطابق مقابلہ برابر ہونے کی صورت میں کم وزن رکھنے والے ایتھلیٹ کو فاتح قرار دیا جاتا ہے اور بھارتی کھلاڑی کا وزن حریف سے 700 گرام زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیے: ایشیا کپ کی سیاست ویمنز ورلڈ کپ میں بھی، کیا بھارتی کرکٹرز بھی پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہیں ملائیں گی؟
شکست کے بعد سوچیکا تاریال نے ریفری کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور احتجاج کے طور پر نہ صرف حریف کھلاڑی بلکہ ریفری سے بھی ہاتھ نہیں ملایا جس پر بھارتی کھلاڑیوں میں اسپورٹس مین اسپرٹ کے فقدان پر تنقید کا آغاز ہوگیا اور بھارت کی ایک روایت بن جانے والے اس ناروا رویے پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوگئے۔














