اقوامِ متحدہ کے حالیہ جاری 81 ویں اِجلاس میں مسئلہ کشمیر ایک بار پھر سے اُس وقت اُجاگر ہوگیا جب تُرکیے کے صدر رجب طیب اُردگان نے 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا ’جنوبی ایشیا میں یہ اہم ہے کہ کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرہ کار کے اندر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے‘۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے
صدر اُردگان کے اِس بیان کے وقت وزیراعظم شہباز شریف بھی وہاں موجود تھے، بھارت کی وزارتِ خارجہ نے صدر رجب طیب اردوان کے اِس بیان کو مسترد کرتے ہوئے جموں کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے جبکہ بھارتی میڈیا میں تُرکیے کے اِس بیان پر منفی ردعمل دیا جارہا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تُرکیے کی قیادت نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کی پُرزور حمایت کی ہے اور ہمیشہ اس مسئلے کے پُرامن، منصفانہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی اُمنگوں کے مطابق حل کی وکالت کی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے فیصلہ کرنا ہے ایران کو تباہ کروں یا دوبارہ پنپنے کا موقع دوں، ڈونلڈ ٹرمپ کا جنرل اسمبلی میں خطاب
دوسری طرف اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر بات کریں گے۔
جبکہ گزشتہ روز نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے نیویارک میں سلامتی کونسل اجلاس کے سائیڈ لائن پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے 81 ویں اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار نیویارک روانہ، اقوام متحدہ میں کشمیر کے حق خودارادیت کا مقدمہ اجاگر کریں گے
اسحاق ڈار نے کہا کہ کسی بھی ملکی قانون سازی، عدالتی فیصلے، انتخابی عمل یا آبادیاتی (ڈیموگرافک) تبدیلی سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔ اُنہوں نے اس مسئلے پر مستقل حمایت کے لیے رُکن ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
نائب وزیراعظم نے او آئی سی رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر جموں و کشمیر کے معاملے پر متحدہ مؤقف برقرار رکھیں۔














