اچھا ہوا پی ٹی آئی سے احتجاج الگ ہوگیا، ہمیں عوام اور انہیں اپنے لیڈر کا دکھ ہے، رہنما جماعت اسلامی فراست شاہ

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈپٹی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان سید فراست شاہ کا کہنا  ہے کہ اچھا ہوا جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا احتجاج الگ الگ ہوگیا کیوں کہ ہم دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کا اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر، وزیراعظم سے ملاقات تک ملتان میں قیام کا اعلان

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سید فراست شاہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا ایجنڈا عوام کے دکھ درد کو کم کرنا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا مقصد اپنے لیڈر کے دکھ درد مٹانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مولانا مودودی سے جماعت اسلامی کی جدوجہد کا آغاز کیا جائے تو جماعت اسلامی نے بہت سی سختیاں برداشت کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان بھی 19 سال کی عمر میں جیل گئے تھے جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے طویل عرصے تک بہت سی سختیاں برداشت کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ابھی سیاست میں نسبتاً نئی جماعت ہے اور اس کے کارکنوں نے وہ سختیاں برداشت نہیں کیں جو جماعت اسلامی کے کارکنوں نے برداشت کی ہیں، پی ٹی آئی کے لیے یہ ایک نیا تجربہ ہے۔

سید فراست شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ قیادت کہاں ہے اور کس سے بات کرنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کہاں ہے اور مذاکرات کس سے کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مؤخر کرنے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے جماعت اسلامی کی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی گلہ شکوہ کیا گیا تاہم پی ٹی آئی کے پرانے کارکنوں کی جانب سے گلے شکوے ضرور سامنے آتے رہے ہیں۔

ڈپٹی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں ایک قیادت ایک بات کرتی ہے، وزیراعلیٰ کچھ کہتے ہیں اور سابق وزیراعلیٰ کچھ اور، علیمہ خان کچھ کہتی ہیں تو عمران خان کی جانب سے الگ مؤقف سامنے آتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا پی ٹی آئی کے ساتھ رابطہ موجود ہے۔

مزید پڑھیے: جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ: حکومت عوام کو بڑا ریلیف پیکیج دینے کو تیار ہوگئی

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے بھی فون کال آئی تھی۔ ایک مرتبہ فون آیا تو وہ کال مس ہوگئی کیونکہ حافظ نعیم الرحمان ٹرین میں سفر کر رہے تھے، اس کے بعد رات کو دوبارہ کال کی گئی جب حافظ نعیم الرحمان ملتان میں جلسے میں موجود تھے۔

سید فراست شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے کال آنے سے ہمیں اس معاملے میں تھوڑی سی سنجیدگی نظر آئی کیوں کہ ظاہر ہے کہ ملک کا وزیراعظم آپ کو کال کرے تو اسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وزراء کے ساتھ 5،6 سیشن ہوئے اور ہر میٹنگ کے اختتام پر حکومت کی جانب سے مزید وقت مانگا جاتا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کبھی تکنیکی معاملات کے لیے وقت دیا گیا اور کبھی حکومت کے کہنے پر وقت دیا گیا اور جماعت اسلامی آخر تک حکومت کو وقت دیتی رہی۔

سید فراست شاہ نے کہا کہ جب وزیراعظم کی جانب سے کال آئی تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں تھی کہ حکومت کو ایک اور موقع دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے آگے لے کر چلتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بھی غالباً احساس ہوگیا ہے کہ یہ معاملہ اتنا بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شروع میں وزرا بھی اس بات کے خلاف نظر آتے تھے اور اپنے کارکنوں سے کہتے تھے کہ دھرنا ختم کیا جائے۔

ڈپٹی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مسلسل مارچز ہو رہے تھے، خیبر سے جنوبی پنجاب تک جہاں حالات ٹھیک نہیں تھے وہاں مختلف مقامات پر احتجاجی تحریکیں چل رہی تھیں، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بھی صورتحال کو دیکھا گیا، ان تمام چیزوں کے بعد حکومت کو احساس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا صرف ایک ایجنڈا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔

مزید پڑھیں: جماعت اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر حافظ محمد ادریس انتقال کر گئے

سید فراست شاہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے کامیاب ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے کارکنوں اور رہنماؤں کی تربیت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی میں تربیت پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور امیر جماعت بھی ہر کام مشاورت سے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ جماعت اسلامی پرامن احتجاج کرتی ہے اور احتجاج کے لیے ڈی چوک میں بیٹھنا ضروری نہیں ہے کیوں کہ جگہ کا تعین بنیادی مسئلہ نہیں بلکہ اہم بات یہ ہے کہ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم بیٹھے رہیں گے۔

ڈپٹی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی نے کہا کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے لوگ ہمارے ساتھ بیٹھے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی سروے کرا کے احتجاج کرتی ہے اور اس میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران جب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تو وفاقی وزرا کہتے تھے کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جاسکتی کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں یہ شرط طے ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو ہوں گے، پیپلزپارٹی پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کرتی ہے، ناصر حسین شاہ

سید فراست شاہ نے کہا کہ وزارت خزانہ کے نمائندے نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ٹیکس کا پیسہ پیٹرولیم لیوی سے جمع ہوتا ہے یا کسی اور ذریعے سے بلکہ آئی ایم ایف صرف یہ چاہتا ہے کہ حکومت مقررہ ہدف کے مطابق ریونیو جمع کرے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ پیٹرولیم لیوی ہی عائد کرنی ہے یا 80 روپے لیوی لینی ہے بلکہ آئی ایم ایف کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ حکومت مقررہ ہدف کے مطابق ٹیکس جمع کرے۔

ڈپٹی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی نے کہا کہ ایف بی آر میں خامیاں موجود ہیں اور آئی ایم ایف نے بھی ان خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جب ٹیکس عائد کرتی ہے تو 18ویں ترمیم کے باعث اس کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہوجاتا ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی کی رقم وفاق کے پاس رہتی ہے اس لیے پیٹرولیم لیوی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کا لاہور کا دورہ ناکام ترین رہا، جماعت اسلامی احتجاج کرنا چاہتی ہے تو آبنائے ہرمز یا باب المندب جائے، حنا پرویز بٹ

رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار 15 روز بعد قیمتوں کے تعین کی بنیاد پر رکھا تھا لیکن حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا فیصلہ کیا جس کے باعث پیٹرول مہنگا ہوتا جارہا ہے اور ہر قسم کا کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp