بھارت: بس آتشزدگی کے سانحہ میں مسافروں کی شکایات نظرانداز کرنے کا انکشاف

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر مسافر بس میں آتشزدگی کے واقعے میں انکشاف ہوا ہے کہ آگ لگنے سے چند منٹ قبل مسافروں نے بس میں جلنے کی بو محسوس کرکے ڈرائیور اور کنڈکٹر کو آگاہ کیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق مسافروں نے اس سے قبل بھی بس کے اندر ڈرائیور اور کنڈکٹر کے سگریٹ پینے پر اعتراض کیا تھا، جس پر دونوں نے مبینہ طور پر مسافروں کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں خاموش رہنے کی دھمکی دی۔

یہ بھی پڑھیں: راجستھان میں تیز رفتار بس حادثے کا شکار، آگ بھڑکنے سے 7 مسافر جان سے گئے، 22 زخمی

بعد ازاں تیز رفتاری سے چلتی بس میں جلنے کی بو پھیل گئی، مسافروں نے ڈرائیور کو اس بارے میں بتایا تو اس نے اور کنڈکٹر نے مبینہ طور پر کہا کہ بس کے اندر اکثر ایسی بو آتی رہتی ہے۔

مسافروں کی بار بار درخواست کے باوجود ڈرائیور نے بس کی جانچ نہیں کی اور سگریٹ نوشی جاری رکھی۔

چند منٹ بعد بس کے اگلے حصے سے شعلے بلند ہونے لگے۔ مسافروں نے چیخ و پکار شروع کی تو ایف آئی آر کے مطابق ڈرائیور نے مبینہ طور پر کہا کہ اسے پروا نہیں کہ لوگ مرتے ہیں، وہ بس نہیں روکے گا۔

بہار نمبر پلیٹ والی یہ بس نئی دہلی سے اتر پردیش کے مہوبا جا رہی تھی اور اس میں 35 سے زائد مسافر سوار تھے۔

آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ دھوئیں کے باعث مسافروں کے لیے باہر نکلنا انتہائی مشکل ہوگیا۔ حادثے میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں ٹریفک حادثہ، 21 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھائی اور مسافروں کو باہر نکالا، جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں بس کو مکمل طور پر جلی ہوئی حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ بس کے ایئر کنڈیشننگ نظام میں ہونے والے دھماکے سے شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں انجن کا لبریکینٹ آئل آگ کی زد میں آیا اور شعلے تیزی سے پوری بس میں پھیل گئے۔

بس کا ڈرائیور اور کنڈکٹر آگ سے بچ گئے اور پولیس نے دونوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا۔

’چند ہی لمحوں میں بس دھوئیں سے بھر گئی‘

حادثے میں بچ جانے والی 64 سالہ خاتون نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنی ساس کے انتقال کے بعد مہوبا جا رہی تھیں۔ ان کے مطابق جب بس میں آگ لگی تو مسافر جان بچانے کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دے کر باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔

ایک مسافر خاتون نے بتایا کہ وہ سو رہی تھیں کہ کسی نے چیخ کر کہا کہ جلدی باہر نکلو، بس میں آگ لگ گئی ہے، دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف دھواں بھر گیا اور سب بھاگنے لگے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر بھی بس میں موجود تھے لیکن انہیں باہر نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔

مزید پڑھیں: تامل ناڈو میں 2 مسافر بسوں میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 60 زخمی

خاتون کے مطابق بھگدڑ کے دوران متعدد مسافر ایک دوسرے کے اوپر سے گزر کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایک اور مسافر نے بتایا کہ وہ سو رہی تھیں جب آگ لگی، ان کے بیدار ہونے تک بس کے باہر لوگوں کا ہجوم جمع ہوچکا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا سامان حتیٰ کہ جوتے بھی نہیں پہن سکیں اور صرف موبائل فون لے کر بس سے باہر نکلیں۔

مسافر کے مطابق بس سے نکلنے کے دوران لوگ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے اور انہیں بھی ہجوم میں دھکیل دیا گیا، تاہم ایک شخص نے انہیں کھینچ کر باہر نکال لیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: بس میں آگ لگنے سے 25 افراد ہلاک، متعدد زخمی

انہوں نے کہا کہ صرف وہی افراد بچ سکے جو دھکم پیل کے درمیان راستہ بنا کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ ان کے پیچھے موجود متعدد افراد ممکنہ طور پر بس سے باہر نہیں نکل سکے۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے کا شکار بس کے خلاف ٹریفک قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں پر 60 سے زائد جرمانے عائد کیے جا چکے تھے، جن میں سے 20 جرمانے تاحال ادا نہیں کیے گئے۔

بس پر تازہ ترین جرمانہ 19 اگست کو دہلی کے مایور وہار میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 18,500 بھارتی روپے عائد کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp